افغانستان کے صدر اشرف غنی: 'طالبان کے لیے امن کے دروازے کھلے ہیں'

افغان الیکشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

افغانستان کے صدارتی انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد موجودہ صدر اشرف غنی نے طالبان سے لوگوں کی مرضی کا احترام کرتے ہوئے جنگ کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اشرف غنی نے سنیچر کو ایک بیان میں طالبان سے کہا 'آپ کے لیے امن کے دروازے کھلے ہیں۔'

افغانستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ سٹیشنز پر طویل قطاروں کی وجہ سے ووٹنگ میں دو گھنٹے کی توسیع کی گئی تاہم ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ بظاہر کم رہا۔

ووٹنگ کے دوران طالبان کی جانب سے پولنگ سٹیشنز پر حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 80 افراد زخمی ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

خیال رہے کہ طالبان نے انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی جس کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پورے ملک میں سکیورٹی فورسز کے 70 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حکام نے کابل میں شہر کے کچھ حصوں کی جزوی ناکہ بندی کی اور شہر میں ٹرکوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تاکہ خود کش حملہ آوروں کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

صدارتی امیدواران

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغانستان کے صوبے قندھار کے ایک پولنگ سٹیشن کے قریب دھماکے کے نتیجے میں متعدد ووٹرز زخمی ہوئے جنھیں قندھار کے ایک ہسپتال میں طبی امداد دی گئی۔

ہسپتال میں موجود ایک مقامی شخص فیض محمد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ایک عزیز کے ہمراہ ایک مسجد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گئے تھے جب دھماکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں اُن کے عزیز زخمی ہوئے۔

یہ دھماکہ ووٹنگ کے عمل شروع ہونے کے ایک گھنٹے بعد پیش آیا۔ ایک سینیئر افغان اہلکار کے مطابق 14 افراد زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کا عمل صبح سات بجے شروع ہوا۔ بی بی سی پشتو کے مطابق صوبے ہرات میں پولنگ سٹیشنز کے باہر ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئی۔

افغان الیکشن

اس ماہ کے آغاز میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات ختم ہونے کے بعد دو مرتبہ تاخیر کا شکار ہونے والے انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔

اس انتخاب میں دو مرکزی امیدوار موجودہ افغان صدر اشرف غنی اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ہے۔ دونوں سنہ 2014 سے اقتدار میں شراکت دار ہیں۔

صدارتی انتخاب کے امیدوار کون ہیں؟

اس انتخاب میں مرکزی امیدواروں میں افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ہیں جبکہ سابق جنگجوؤں، سابق جاسوسوں اور ملک کی سابقہ کمیونسٹ حکومت کے ارکان سمیت 18 افراد نے ابتدا میں ہی الیکشن لڑنے کے لیے سامنے آئے تھے لیکن بعد میں ان میں سے پانچ افراد دستبردار ہو گئے۔

افغان الیکشن

،تصویر کا ذریعہHERAT Office

ایک بھی خاتون صدارتی انتخاب کے لیے امیدوار نہیں ہے اور صرف تین خواتین دیگر عہدوں کے لیے انتخاب لڑتی نظر آتی ہیں۔

یہ الیکشن اہم کیوں ہے؟

افغانستان کا اگلا صدر چار عشروں سے جاری جنگ سے تباہ حال ملک کی قیادت کرے گا۔

اس جنگ میں ہر سال ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا کے مختلف ممالک کی افواج اس تنازعے کا حصہ ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی مداخلت کے قریب قریب دو دہائیوں کے بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ تنازعہ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان میں اس وقت تقریباً 14000 امریکی فوجی جبکہ برطانیہ، جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک کے بھی ہزاروں فوجی موجود ہیں۔ جو افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت، مشورے اور مدد کے لیے نیٹو مشن کے ایک حصے کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کی جانب سے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد چوتھے افغان صدارتی انتخاب میں جو کوئی بھی صدر منتخب ہوا ہے اسے ملک کی تاریخ کے ایک اہم وقت میں کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔

تاہم فی الحال طالبان یہ کہتے ہوئے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ یہ غیر قانونی ہے۔

افغان الیکشن

مزید یہ کہ عسکریت پسند گروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتفاق رائے کے بعد ہی افغان حکام سے بات چیت کا آغاز کرے گا۔

لہذا افغانستان کی حکومت کا سربراہ کون ہوگا یہ امریکہ کی بنیادی پریشانی نہیں ہوسکتی ہے لیکن یہ فوج ، طالبان اور دیگر باغیوں کے مابین کراس فائر میں پھنسے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق اگست میں افغانستان میں جاری جنگ میں اوسطاً 74 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 20 فیصد عام شہری بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ میں افغانستان اور امریکی فوجوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سویلین کی تعداد دہشتگردوں کی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں سے زیادہ ہیں۔

دیگر مسائل کیا ہیں؟

پانچ برس قبل ہونے والے صدارتی انتخاب میں دھوکہ دہی اور ووٹ میں دھاندلی کے الزامات سامنے آئے تھے اور درحقیقت اس انتخاب کے نتائج کا نتیجہ آنے میں مہینوں لگے تھے جس پر امریکہ کی جانب سے دونوں اہم امیدواروں کے مابین مذاکرات کے بعد 'قومی اتحاد حکومت' کے قیام کا معاہدہ ہوا تھا۔

اس مرتبہ بھی معاملات بہتر ہونے کی زیادہ امید نہیں ہے۔

ایک کروڑ سے بھی کم افراد ووٹنگ کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

افغان الیکشن

،تصویر کا ذریعہEPA

افغانستان کی شفاف الیکشن فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق نصف سے زیادہ آبادی ووٹ ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس کی ایک وجہ طالبان کی طرف سے پرتشدد حملوں کے خطرات ہیں کیونکہ انھوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ پولنگ سٹیشن پر حملہ کریں گے اور وہ انتخابی جلسوں کو پہلے ہی نشانہ بنا چکے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ دونوں پر اقتدار میں رہتے ہوئے کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق ملک میں بے روزگاری کا تناسب تقریباً 25 فیصد ہے اور تقریبا 55 فیصد افغان عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔