افغانستان: قلات میں ہسپتال کے باہر ٹرک بم حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
جنوبی افغانستان میں ایک ہسپتال کے باہر طالبان کی جانب سے کیے گئے ٹرک بم حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق قلات میں ہونے والے بم حملے میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر تعداد ہسپتال کے ڈاکٹروں اور مریضوں کی ہے۔
ادھر مشرقی افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر کیے جانے والے ایک فضائی حملے میں بھی 15 شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق افغانستان میں گذشتہ ماہ مختلف پرتشدد واقعات میں کم از کم 473 شہری مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہسپتال بم حملہ میں کیا ہوا؟
افغان وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دارالحکومت کابل میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دھماکہ کرنے سے قبل قلات کے ہسپتال کے قریب ایک چھوٹے ٹرک میں 'ایک بڑا' بم لایا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق یہ افغان صوبے زابل میں صحت کی سہولیات کا مرکزی ہسپتال تھا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ہسپتال کے قریب قائم حکومتی انٹیلی جنس کے دفاتر کو نشانہ بنا رہے تھے۔ تاہم جمعرات کو ہونے والے بم حملے میں ہلاکتوں کی کل تعداد اب بھی غیر واضع ہے۔
جائے وقوع پر موجود عینی شاہدین کے مطابق خواتین اور بچوں کو ملبے سے نکالتے دیکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک یونیورسٹی طالب علم عاطف بلوچ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'دھماکہ بہت ہولناک تھا۔'
زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ایمبولینسز کے ذریعے قریبی صوبے قندھار کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
فضائی حملے میں کیا ہوا؟
روئٹرز کے مطابق افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ صوبے ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بدھ کی رات کیے جانے والے حملے کا نشانہ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجو تھے۔
تاہم ننگرہار کے سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو اس فضائی حملے میں 15 شہریوں کی ہلاکت اور چھ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد چلغوزے کے کھیت میں کام کر رہے تھے۔
قبائلی رہنما ملک گل راحت نے روئٹرز کو بتایا کہ 'مزدور نے آلاؤ جلایا ہوا تھا اور وہ کھیت میں اکٹھے بیٹھے تھے جب ڈرون نے انھیں نشانہ بنایا۔'
اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس سے قبل 17 ستمبر کو افغان صوبہ پروان کے دارالحکومت چاریکار میں ہونے والی الیکشن ریلی میں ہونے والے خود کش بم دھماکے میں کم از کم 42 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
طبی عملے کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔ موٹر سائیکل سوار ایک خود کش بمبار نے ریلی کے قریب ایک ناکے پر خود کو اڑا دیا تھا۔
افغان صدر اشرف غنی جو دوسری مرتبہ پانچ سال کے لیے منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں دھماکے میں محفوظ رہے۔
ایک اور خود کش بمبار نے دارالحکومت کابل کے مسعود سکوائر کو مقامی وقت 13:00 کے قریب نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 38 کےقریب زخمی ہوئے۔ دھماکے کے مقام کے نزدیک ہی سرکاری عمارتیں اور نیٹو کے کمپاؤنڈ ہیں۔
طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
بدھ کی رات افغان صدر کی پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے وزیراعظم نے پروان اور کابل حملوں میں ہونے والے جانی تقصان پر افغان صدر سے افسوس کیا۔ پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس کے جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق عمران خان نے اشرف غنی کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور سلامتی کے حصول کے لیے تمام کوششیں جاری رکھے گا۔
افغان صدر نے بھی جمعرات کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی افغانستان میں الیکشن کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوا ہے اور وزیرِاعظم عمران خان نے انھیں یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کابل حکومت کی پوری طرح مدد کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
واضع رہے کہ طالبان افغانستان میں متواتر بم حملے بھی کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امن مذاکرات میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ کے آغاز میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ’مردہ‘ قرار دیا تھا۔ طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تھا اور عہد کیا تھا کہ وہ ملک میں 28 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں خلل ڈالیں گے۔
یاد رہے کہ بی بی سی کی جانب سے افغانستان کی صورتحال پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ ماہ افغان جنگ میں کم از کم 473 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بی بی سی کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگست کے مہینے کے دوران افغانستان میں ہونے والی شہری اموات ابتک کی پانچویں بڑی تعداد ہے۔






















