آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ننگرہار میں سکیورٹی فورسز کے حملے میں چار بھائیوں کے قتل کے بعد افغان انٹیلی جنسں چیف مستعفی
مشرقی افغانستان میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کی اطلاع پر کارروائی کے دوران چار بھائیوں کے قتل کے واقعے کے بعد افغان انٹیلی جنسں سروس کے سربراہ اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
محمد معصوم ستانکزئی 2016 سے افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) انٹیلی جنسں کے سربراہ تھے۔ افغانستان میں تشدد کی بڑھتی کارروائیوں کی وجہ سے ان پر دباؤ بڑھ چکا تھا۔
اگرچہ وہ اس دن مستعفی ہوئے جس دن طالبان نے این ڈی ایس کے کمپاؤنڈ کے قریب حملہ کر کے دس افراد کو ہلاک کیا ہے جن میں ایک امریکی اور رومانیائی فوجی شامل تھے لیکن ان کے استعفے کی وجہ اس حملے کو نہیں بتایا گیا۔
جس واقعے نے ستانکزئی کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا وہ بدھ کو جلال آباد میں مشرقی ننگر ہار صوبے میں ایک خفیہ کارروائی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ننگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ غویانی کے مطابق اس کارروائی میں چار سگے بھائی ہلاک ہوئے۔ ابھی اس واقعے کی مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں تاہم جمعرات کو اس واقعے کے خلاف درجنوں لوگ احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مفروضوں کی بنیاد پر رات گئے مکانات پر چھاپے مارنے کے لیے، افغان سیکیورٹی فورسز کو خاصی تنقید کا سامنا ہے۔ ایسی کاررائیوں میں بارہا شہری باشندوں کا ہلاک کیا گیا ہے۔
ابتدا میں این ڈی ایس نے یہ دعوی کیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے چار افراد مارے گئے لیکن بعد میں افغان ایجنسی اپنے دعوے سے پیچھے ہٹ گئی۔
افغان صدر اشرف غنی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ذمہ دار ریاست کے طور پر شہریوں کے قتل کو بالکل برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’میں افسوس کے ساتھ این ڈی ایس سربراہ کا استعفی قبول کررہا ہوں اگرچہ وہ اپنی دیگر ذمہ داریوں میں کافی کامیاب بھی رہے۔‘
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ انھوں نے اٹارنی جنرل کو سکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا حکم دیا ہے۔
کابل اور پورے افغانستان میں بڑھتے ہوئے خودکش اور خطرناک حملوں کے باوجود اپنے انٹیلی جنس سربراہ کو عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے، صدر غنی کو گذشتہ کچھ ہفتوں سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔