کشمیر: مسلح تصادم میں اضافہ، فوجی اہلکاروں کی ہلاکتیں

کشمیر ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مشترکہ آپریشنز میں 120 سے زیادہ عسکریت پسند مارے گئے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، سری نگر
  • وقت اشاعت

12 جون کو جب بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کرغزستان کے بشکیک شہر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران ایک دوسرے کا حال چال پوچھ رہے تھے، بھارتی میڈیا میں یہ خبر گشت کر رہی تھی کہ پاکستانی حکام نے کشمیر میں ایک ممکنہ حملے کی خفیہ اطلاعات بھارتی سکیورٹی اداروں کو فراہم کر دی ہیں۔

اس خبر کی سرکاری طور پر تصدیق تو نہیں ہوئی، تاہم پاکستان نے اس کی تردید بھی نہیں کی۔ لیکن اُسی روز جنوبی کشمیرکے اننت ناگ ضلع میں نیم فوجی سی آر پی ایف کی ایک کانوائے پر مسلح عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر حملہ کر دیا جس میں تین نیم فوجی اہلکار، ایک پولیس افسر اور ایک عسکریت پسند مارا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے

پیر کے روز اننت ناگ کے ہی باڈورہ گاؤں میں تلاشی مہم کے دوران جھڑپ ہوئی جس میں فوج کا ایک کیپٹین ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ فوج نے ایک عسکریت پسند کو ہلاک کرنے کا دعوی بھی کیا۔ جائے تصادم کے بعد منگل کی صبح ایک طالب علم کی لاش بھی برآمد ہوئی۔ پیر کی شام ہی پلوامہ کے آری ہال گاؤں میں ایک کار میں رکھا بارود اُس وقت زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جب فوج کی ایک بُلٹ پرُوف گاڑی وہاں سے گزری۔ اس حملے میں فوج کے دس سے زیادہ اہلکار زخمی ہوگئے جن میں سے دو کی موت واقع ہو گئی۔

منگل کی صبح اننت ناگ کے مرہامہ گاؤں میں تلاشی مہم کے دوران ہونے والی جھڑپ میں فوج نے جیش محمد سے وابستہ عسکریت پسند سجاد مقبول اور توصیف احمد کو ہلاک کر دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس سال فروری میں پلوامہ کے لیترپورہ ہائی وے پر جو خودکش کار بم دھماکہ ہوا اُس کی منصوبہ سازی سجاد اور توصیف نے ہی کی تھی۔ فوج نے اس تصادم میں ایک فوجی اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کر دی ہے۔

فوج اور پولیس کے حکام پاکستان کی طرف سے خفیہ اطلاعات فراہم کرنے کی رپورٹس پر کوئی رائے نہیں دے رہے ہیں، تاہم ذرائع نے بتایا کہ جس خفیہ اطلاع کی بات میڈیا رپورٹس میں کی گئی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ کار بم حملہ ہو سکتا ہے۔ واضح رہے فروری کے خودکش حملے کے بعد یہ دوسرا موقعہ ہے کہ عسکریت پسندوں نے گاڑی میں رکھے بارودی مواد سے فوج کو نشانہ بنایا۔

کشمیر سیکورٹی اہلکار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے بھارت کے زیر انتظام ایک اور ممکنہ کار حملے کی اطلاع انڈیا کو دی تھی: ذرائع

قابل ذکر ہے کہ رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے مشترکہ آپریشنز میں 120 سے زیادہ عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ روپوش ہوکر عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد میں ایک تہائی گراوٹ آگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی کشمیر میں اڑھائی سو سے زیادہ عسکریت پسند سرگرم ہیں۔ مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’عسکریت پسندوں کی ساری کمان کو ختم کیا گیا ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران جو نوجوان روپوش ہوگئے تھے اُن میں سے اکثر اب گھر واپس لوٹ رہے ہیں۔‘