’انڈیا میں ایک اور چینل پر ایک روزہ پابندی‘

،تصویر کا ذریعہThinkstock
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
- وقت اشاعت
انڈیا میں ہندی زبان کے معروف ٹی وی چینل 'این ڈی ٹی وی انڈیا' پر حکومت کی جانب سے ایک دن کی پابندی کے بعد اب یہ اطلاعات ہیں کہ علاقائی زبان کے ایک چینل کو بھی ایک دن نشریات بند کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
آسام کے شہر گوہاٹی سے صحافی دلیپ کمار شرما نے بتایا ہے کہ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات نے آسامی زبان کے نیوز چینل 'نیوز ٹائم آسام' پر ایک دن کی پابندی لگائي ہے۔
چینل پر یہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ اس نے اپنے ایک پروگرام میں رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
چینل کو موصول ہونے والے نوٹس کے مطابق اطلاعات و نشریات کی وزارت نے دو نومبر کو ایک حکم جاری کیا جس میں 'نیوز ٹائم آسام' کو نو نومبر کو 24 گھنٹے کے لیے نشریات بند کرنے کو کہا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNEWS TIME ASSAM
آسامی زبان کے چینل پر الزام ہے کہ اس نے نشریات کے متعلق راہنما اصولوں کی ایک سے زیادہ بار خلاف ورزی کی ہے۔
الزامات کے مطابق چینل نے سنہ 2012 میں ایک خبر نشر کی تھی جس میں مبینہ طور پر وحشیانہ اور ظلم کا شکار ہونے والے ایک گھریلو نوکر کی خبر میں اس کی شناخت کو چھپایا نہیں گیا تھا۔
وزارت کی ایک کمیٹی کا کہنا ہے کہ چینل پر نشر کیے جانے والے مناظر میں بچے کی رازداری اور وقار کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے اسے نقصان پہنچایا گیا اور اسے کلنک کے طور پر دکھایا گیا۔ اس سلسلے میں چینل کو اکتوبر سنہ 2013 میں ایک شوکاز نوٹس جاری کیا گيا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNDTV TWITTER
انڈیا میں ایک عرصے سے اظہار رائے اور صحافت کی آزادی کے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن حالیہ دنوں یہ بحث کا گرما گرم موضوع بنا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو روز قبل انڈیا کے معروف اخبار انڈیئن ایکسپریس کے ایڈیٹر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت والے ایک پروگرام میں صحافت کے قابل اعتماد ہونے پر بات کرتے ہوئے حکومت اور صحافت کے ٹکراؤ کو واضح کیا تھا۔
بی بی سی ہندی کے ایک پروگرام میں برسر اقتدار جماعت بی جے پی کے ایک ترجمان سدھانشو ترویدی کا کہنا ہے کہ این ڈی ٹی وی انڈیا پر عائد پابندی علامتی ہے تاکہ ایک پیغام جائے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بی جے پی کے ترجمان نے بی بی سی ہندی کے ہفتہ وار ریڈیو پروگرام 'انڈیابول' میں کہا: آئین میں فراہم کردہ اظہار رائے کی آزادی اور من مانی آزادی کے فرق سمجھنا ہوگا۔
سدھانشو ترویدی کا یہ بھی کہنا ہے کہ این ڈی ٹی وی کو پہلی بار نوٹس نہیں ملا ہے۔
بہر حال این ڈی ٹی وی انڈیا نے گذشتہ روز اپنے پرائم ٹائم نشریات میں نئے انداز میں پروگرام پیش کرکے یہ کہنے کی کوشش کی کہ کیا میڈیا کو حکومت سے سوال کرنے کی آزادی ہے؟
انڈین ایکسپریس کے مدیر راج کمل جھا کی پانچ منٹ طویل ویڈیو وائرل ہو گئی ہے اور اسے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے جبکہ این ڈی ٹی وی انڈیا کے پروگرام اینکر رویش کمار بھی ٹریند کر رہے ہیں۔






















