پشاور کے دستکار معاشی تباہی کے دہانے پر

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
کسی دوسرے شہر سے پشاور پہنچتے ہی جو چیز سب سے پہلے توجہ کا مرکز بنتی ہے وہ صرف سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے ہاتھوں میں موجود اسلحہ ہے۔
تقریباً ہر مرکزی چوک میں کھڑے ٹریفک اہلکاروں کے ہاتھ میں بھی بڑی سی بندوق ہے۔ یہ منظر اس شہر اور یہاں بسنے والوں کی ذہنی کیفیت کا حال بتانے کے لیے کافی ہے۔
امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد پاکستان میں مسلح گروہوں کی کاروائیوں سے شاید ہی کوئی شہر محفوظ رہا ہوگا، لیکن جتنی قتل و غارت پشاور کو دیکھنی پڑی اس کی مثال نہیں ملتی۔
یہ شہر جو پاکستان کو افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ملکوں کی تجارتی راہدری سے منسلک کرتا ہے، امن وامان کی خطرناک صورت حال کے باعث معاشی تباہی کے دہانے پر آ کھڑا ہوا ہے۔
ویسے تو یہاں سب کاروبار ہی متاثر ہیں تاہم دستکاری کے صنعت سے وابستہ صوبے کے لاکھوں ہنرمند خاص طور پر بےروزگاری اور غربت کے باعث جسم و جان کا رشتہ بھی مشکل سے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پشاور کے چار سدہ روڈ پر کئی ایسے چھوٹے چھوٹے احاطے ہیں جہاں روایتی فرنیچر بن رہا ہے۔ ان میں سے ایک یونٹ حیدر خان کا ہے۔ وہ پہلے فرنیچر کے ساتھ برتن بھی برآمد کرتے تھے لیکن اب کاروبار میں دم نہیں۔

حیدر کہتے ہیں: ’پہلے ہم اٹلی، جرمنی، فرانس اور امریکہ سمیت کئی ملکوں کو سامان بھیجتے تھے لیکن اب تو یہ کام ختم ہونے کو ہے۔ پہلے یہاں غیر ملکی خریدار آتے تھے، لیکن پشاور میں غیر ملکیوں کی آمد و رفت دس سال سے بند ہوچکی ہے۔ پہلے میں سال میں 25 سے 30 کنٹینر سامان بھجواتا تھا لیکن اب دو سے تین بھی نہیں جا پاتے۔‘
پشاور کا بازارِ مِس گراں ایک زمانے میں غیر ملکی سیاحوں کا پسندیدہ مرکز تھا۔ گذشتہ چند برسوں میں اس بازار سے بہت قریب دو خودکش دھماکے ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں خاص طور پر تانبے کے برتن اور سجاوٹ کی اشیا کی دکانیں تھیں لیکن اب یہاں صرف دو دکانیں باقی رہ گئی ہیں جن میں سے ایک دوکان سعید احمد کی ہے۔
سعید احمد تین نسلوں سے یہ کام ک ررہے ہیں لیکن کاروبار کی صورت حال کو دیکھتے ہوئےانھوں نے اپنے بیٹے کو یہ ہنر منتقل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
’ہمارا کام کوئی آسانی سے نہیں سیکھ سکتا۔ یہ کام سیکھنے میں دس سے 15 سال لگتے ہیں اس لیے اب ہمارے کاریگر کوئی اور کام نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کاروبار بند ہونے کے باعث اب یہ لوگ ریڑھیاں لگانے اور مزدوری اور چوکیداری کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو کچھ عرصے میں پیتل اور تانبے کا کام کرنے والے کاریگر ناپید ہو جائیں گے۔‘
آئے دن ہونے والے حملوں نے پشاور ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کے ہنرمندوں کی کمر توڑ دی ہے۔
یعقوب لالہ سوات میں دستکاری کے بڑے تاجر تھے۔ اب ان کا 70 فیصد کاروبار بند ہوچکا ہے۔
’پورے صوبے میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری شروع ہو چکی ہے۔ یہ لوگ نام نہیں بتاتے، صرف فون کرتے ہیں اور کہتے ہیں اتنی رقم پہنچا دو ورنہ تم اس دنیا میں نہیں رہو گے۔ بس پھر کیا کریں لوگ پیسے دے دیتے ہیں یا پھر علاقہ چھوڑ دیتے ہیں۔‘
ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ اس جنگ زدہ علاقے میں ہاتھ کی بنی اشیا بنانے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سے منسلک افراد کو ان غیر معمولی حالات میں بھی کوئی مراعات نہیں دی گئیں۔
ہاتھ کے بنے ہوئے قالینوں کے تاجر مظہرالحق کہتے ہیں کہ ’سنہ 2000 تک ہم عروج پر تھے۔ میری ذاتی برآمدات ایک ارب روپے تک تھیں۔ نو گیارہ کے بعد ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ کاروبار اتنا خراب ہو جائے گا لیکن اس کے بعد شروع ہونے والے دھماکوں نے یہ حال کیا کہ آج 70 فیصد کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔‘
انھوں نے شکوہ کیا کہ ’ہمیں حکومت نے کوئی خصوصی مراعات یا سہولتیں نہیں دیں کہ اگر ایک کاروبار بند ہورہا ہے تو ہم دوسرا کر لیں۔‘

خبیر پختونخوا کے چھوٹے شہروں اور دیہات کے کاریگر بھی پشاور سے سامان باہر بھجوا رہے تھے لیکن اب حالات یہ ہیں کہ پشاور میں نہ مال گاڑی ہے اور نہ ہی یہاں سے کوئی بین الاقوامی پرواز جا رہی ہے۔
عاطف رشید ہینڈی کرافٹ ایکسپورٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’فلائٹیں بند ہیں۔ سامان کراچی بھجوانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں اور جب ہم کسٹم کلیئرنس کروا کے سامان کراچی بھجواتے ہیں تو وہ پھر اس میں چیکنگ کے نام پر ڈرل سے سوراخ کر دیتے ہیں کہ سامان پشاور سے آیا ہے اور کبھی تو اس چکر میں ہینڈی کرافٹس کنٹینروں سے چوری ہی ہو جاتی ہیں۔‘



















