بلوچستان احتجاج: بین الاقوامی شاہراہ بند

نیٹو سپلائی فایل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں نیٹوافواج کے لیے تیل اور دیگر سازوسامان لے جانے والے سینکڑوں آئل ٹینکر اور کنٹینر بھی پھنسے رہے
وقت اشاعت

بلوچستان کے علاقے کچلاک میں لوگوں نے ایک تاجر کے اغواء کے خلاف احتجاج کرتے ہو ئے دن بھر کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ کو بند رکھا ۔جس کی وجہ سے نہ صرف افغانستان میں نیٹو افواج کے سازوسامان کی سپلائی معطل رہی بلکہ عام لوگوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا ہے کہ کوئٹہ سے پچیس کلومیٹر دور شمال کی طرف کچلاک کے مقام پر مقامی لوگوں نے پیر کی صبح سے کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ کو بند کر دیا تھا جس کے باعث کچلاک کے مقام پر ہزاروں گاڑیاں دن بھرُرکی رہیں۔

اس کی وجہ سے عام مسافروں ، خواتین اور بچوں کوشدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔

دوسری جانب احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک حکومت اغواء ہونےوالے تاجر کو بازیاب نہیں کرا ئے گی اس وقت تک روڈ بند رہے گا۔ تاہم کوئٹہ میں حکام کا کہنا ہے کہ سڑک کھولنے کے لیے احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں اغواء برائے تاوان اور قومی شاہراؤں پرڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت دعوں کے باوجود ابھی تک ان وارداتوں پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس کے باعث عام لوگوں کے ساتھ ساتھ تاجر برادری بھی خوفزدہ ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ حامد شکیل نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ اس وقت صرف کوئٹہ شہر میں تاوان کے لیے اغواء کاروں کے ستر سے زیادہ گروہ سرگرم عمل ہیں جن میں سے بعض کو بااثر افراد کی سرپرستی بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے پولیس کو ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔