انسداد دہشت گردی ایکٹ، ترامیم کی تجویز

فائل فوٹو، پشاور بم دھماکہ
،تصویر کا کیپشنتجویز کردہ ترامیم میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ اختیارات دینے کی بات کی گئی ہے
وقت اشاعت

حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات دینے کی تجویز دی ہے۔

تجویز کردہ ترامیم کے تحت گرفتار ہونے والے افراد کو نوے دنوں تک حراست میں رکھا جاسکے گا اور اس عرصے کے دوران اس ایکٹ کے تحت ہونے والی گرفتاری کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

حکومت نے انسداد دہشت ایکٹ سنہ اُنیس سو ستانونے میں ترمیم کا بل ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کر دیا ہے جسے انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ سنہ دوہزار دس کا نام دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے منگل کو یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ اس بل میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی پچیس شقوں میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

اغوا برائے تاوان، طیارے کا اغوا اور غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چلانے والوں کے خلاف بھی اس ترمیمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس سے پہلے اغوا برائے تاوان اور طیارے کے اغوا کے مقدمات ضابطہ فوجداری کے تحت درج کیے جاتے ہیں۔

ان ترامیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص حکومت کی اجازت کے بغیر ایف ایم ریڈیو پر کسی بات کی تشریح اپنے طور پر کرے تواُس کے خلاف بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی تفتیش کم از کم سب انسپکٹر رینک کا افسر کرے گا یا پھر حکومت کسی بھی مقدمے کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مقرر کرسکتی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداراوں کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہوں گے اور حکومت اس ضمن میں نوٹیفیکیشن بھی جاری کرے گی۔

اس ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہوگی اور تفتیشی افسر متعلہ عدالت میں نوے روز کے اندر تفتیش مکمل کر کے اس کا چالان عدالت میں پیش کرنے کا بھی پابند ہوگا۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران کو ملزمان کے گھروں کی تلاشی اور اُن کی جائیداد ضبط کرنے کے اختیارات بھی تفویض کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

فائل فوٹو، پولیس اہلکار
،تصویر کا کیپشنموجودہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں پولیس حکام کے پاس اختیارات محدود تھے

ان ترامیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اُس جائیداد کا دعویدار ہے جسے پولیس نے گرفتار ہونے والے شدت پسند کی جائیداد سمجھ کر ضبط کیا تھا تو ایسا شخص پندرہ روز کے اندر عدالت سے رجوع کرے گا۔ عدالت اس ضمن میں استغاثہ کو نوٹس جاری کرے گی اور اس جائیداد سے متعلق مقدمے کا فیصلہ کرے گی۔

ان تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دہشت گردی کے کسی مقدمے میں مُجرم قرار دیا گیا ہو اور اس کی جائیداد اُس کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ جائیداد شدت پسندی کی کارروائیوں سے ہونے والی آمدن سے بنائی گئی ہے جسے ضبط کرلیا جائے گا۔

ان ترامیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کالعدم تنظیم کے کارکن کوئی نئی تنظیم بنا لیتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شک ہوتا ہے کہ نئی تنظیم بھی غیر قانونی اور سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے تو حکومت اُس کو بھی کالعدم قرار دے دے گی۔

ان ترامیم میں کہا گیا ہے کہ ایسی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نہ تو پاسپورٹ جاری کیا جائے گا اور نہ ہی اُنہیں بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اس کے علاوہ کوئی بینک اور مالیاتی ادارہ ایسے افراد کو قرضوں کی سہولت فراہم کرے گا اور نہ ہی اُنہیں کریڈٹ کارڈ کی سہولت دی جائے گی۔

ان ترامیم میں کہا گیا ہے کہ اگر ایسی تنظیموں کے اہلکاروں کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ اُن کے اسلحہ کے لائسنس منسوخ کردیے گئے ہیں اور ایسے افراد اسلحہ قریبی تھانوں میں جمع نہیں کرواتے تو اُن کا اسلحہ ضبط کرنے کے علاوہ اُن کے خلاف پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

ان تجویز کردہ ترامیم میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ اختیارات دینے کی بات کی گئی ہے۔

موجودہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں پولیس حکام کے پاس اختیارات محدود تھے اور انسداد دہشت گردی کے تحت درج کیے جانے والے مقدمات کی تفتیش موثر طریقے سے نہ ہونے کی وجہ سے ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے زیادہ تر ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک میں فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری اداروں اور تنصیبات پر شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سلامتی کی صورت حال شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے سخت اور موثر قوانین بنائے جائیں۔

سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی نے اس ترمیمی بل کو داخلہ امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔