سینٹورس مال: آگ پر قابو پانے کے بعد عمارت سیل، نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج

سینٹورس مال، آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز میں واقع سینٹورس مال میں آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

تھانہ مارگلہ میں پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹورس شاپنگ مال کو ’نامعلوم شخص نے نامعلوم وجوہات پر آگ لگائی۔‘

اسلام آباد انتظامیہ نے اس عمارت کو فی الحال سیل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ’کسی کو بھی شاپنگ مال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘

ادھر اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ سات رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی آگ لگنے اور پھیلاؤ کی وجہ، ممکنہ خطرات اور نقصانات کا تعین کرے گی اور اس حوالے سے تین روز میں ایک رپورٹ پیش کی جائے گی۔

اتوار کو دن کے اوقات میں سینٹورس مال میں اچانک آگ بھڑکنے کے بعد ریسکیو حکام کے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے آپریشن سے اس پر قابو پا لیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کے نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا عمارت میں نصب حفاظتی سامان اور فائر الارم فعال تھے اور کیا انتظامیہ کی جانب سے ماضی قریب میں حفاظتی مشقیں کرائی گئی تھیں۔

دوسری جانب مال انتظامیہ نے عمارت کو سیل کرنے پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر عبدالماجد خان نے اتوار کی رات صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ مال تحریک انصاف کے رہنما اور خطے کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کا ہونے کی وجہ سے ’انتقامی کارروائی‘ کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مال نہ کھولا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔

اسی دوران مال کے جنرل مینیجر نے میڈیا کو بتایا کہ آگ فوڈ کورٹ میں ایک ریستوران کے کچن سے لگی اور ایک دکان کو نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ اس واقعے میں اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

سینٹورس مال

،تصویر کا ذریعہAFP

عینی شاہدین: ’بڑی مشکل سے لوگ جان بچا کر باہر نکل آئے‘

اتوار کی دوپہر سینٹورس مال میں آگ بھڑکنے سے دور دور تک اس سے نکلتا ہوا دھواں دیکھا گیا اور سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں مال کے ایک حصے میں عمارت کے اندر اور باہر آگ کے شعلے نظر آئے۔

ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد عمارت خالی کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور لوگ باہر کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹن عثمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ سینٹورس مال پر لگی آگ پر دو گھنٹے کے آپریشن کے بعد قابو پایا گیا اور اس آپریشن میں فائر بریگیڈ، بحریہ، ایئر فورس اور ریسکیو 1122 نے حصہ لیا۔

حکام کی جانب سے شاپنگ مال تک جانے والوں راستوں کو بھی بند کیا گیا تھے۔

سینٹورس مال سے محفوظ طریقے سے باہر آنے والے ماجد عباسی نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ ’جیسے ہی آگ لگی لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، بہت ہلہ گلہ مچ رہا تھا۔ بڑی مشکل سے لوگ جان بچا کر باہر نکلے۔‘

ان کے مطابق اندر دھواں نہیں تھا، باہر دھواں تھا اور ’مال کے سکیورٹی گارڈ لوگوں کو باہر نکال رہے تھے، الارم بج رہے تھے، مال کی سکیورٹی آ گئی تھی۔ انھوں نے سب کو باہر نکال دیا، اندر بہت زیادہ رش تھا۔‘

’بھاگنے کی جگہ ہی نہیں مل رہی تھی، بڑی مشکل سے باہر نکلا ہوں۔‘

ماجد عباسی کے مطابق ’سب لوگ اپنا مال اندر چھوڑ کر بھاگے ہیں، چیخ و پکار بہت زیادہ ہو رہی تھی۔ ہم 15 سے 20 منٹ اندر تھے، جیسے رش کم ہوا تو ہمیں باہر نکالا گیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم فوڈ کورٹ میں موجود تھے۔۔۔ لنچ کا وقت تھا تو لوگ وہاں موجود تھے۔ ہم لفٹ کے ذریعے نیچے آئے۔‘

سینٹورس مال

توقیر تین برس سے اس مال میں ایک دکان پر ملازمت کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ صبح معمول کے مطابق سب چل رہا تھا۔ ’اچھا رش ہوا تو خیال آیا کہ آج سیل بھی زیادہ ہو گی۔‘

ان کے مطابق کافی زیادہ رش تھا، مال کی سکیورٹی نے آگ پھیلنے سے پہلے پہلے لوگوں کو باہر نکال دیا۔ ’دھواں پھیلنے سے پہلے لوگوں کو باہر نکال دیا گیا۔ ہم آخر میں مال سے باہر نکلے۔‘

توقیر کا کہنا تھا کہ آگ تقریباً ساڑھے تین بجے بھڑک اٹھی اور اس کے بعد 30 منٹ تک لوگوں کو باہر نکالنے میں لگے۔

ان کے مطابق باہر آ کر پتا چلا کہ آگ زیادہ ہے اور سامنے کے شیشے گر رہے تھے اور مال کی انتظامیہ نے لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے ایمرجنسی راستے کھول دیے تھے۔