مذاق صرف پشتونوں کے بارے میں ہی کیوں؟ پی ٹی آئی سینٹرز کا واک آؤٹ، معافی کا مطالبہ

فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا کے اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹرز سمیت متعدد ارکان پارلیمان نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ’نسل پرستانہ‘ بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

جمعہ کو سینیٹ کے ہونے والے اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر منظور کاکڑ نے اے آر وائی کے پروگرام میں فواد چوہدری کے پشتونوں سے متعلق ’نسل پرستانہ‘ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’فواد چوہدری جس جماعت میں ہیں، اس میں بہت بڑی تعداد میں پشتون ہیں مگر افسوس ہے کہ کسی نے ان کے بیان کی مذمت نہیں کی۔ میڈیا میں پختون کی اس طرح تذلیل کرنا قابل مذمت ہے۔ فواد چوہدری اور اینکر قوم سے معافی مانگیں۔‘

اس موقع پر سینیٹر منظور کاکڑ کے ہمراہ پی ٹی آئی کے اکثر ارکان اور اپوزیشن کے سینیٹرز نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

واک آؤٹ سے قبل سینیٹر مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ ’اے ار وائی کے پروگرام میں پختونوں کے خلاف تبصرے سے تمام پختونوں کے دل دکھے، اس پر معافی مانگی جائے۔‘

اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا کہ ’فواد چوہدری نے مذاق میں ایسا فقرہ ادا کیا، جو انھیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فواد چوہدری کے بیان پر کسی کی دل ازادی ہوئی ہو تو اس پر معذرت کرتا ہوں۔‘

جبکہ سینیٹر شفیق ترین کا کہنا تھا کہ ’مذاق صرف پشتوں پر ہی کیوں کیا جاتا ہے۔‘

گذشتہ روز بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن خیبر پختونخو اسمبلی نگہت اورکزئی نے فواد چوہدری کے خلاف مذمتی قرار داد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی تھی۔

اس مذمتی قرار داد کے متن میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما نے پانچ اکتوبر کو نجی ٹیلی ویژن کو اپنے انٹرویو کے دوران خیبر پختونخوا کے عوام کے بارے میں تضحیک آمیز کلمات ادا کیے ہیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا یہ ایوان فواد چوہدری کے توہین آمیز کلمات کی مذمت کرتا ہے۔'

جبکہ پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے نے بھی اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اے آر وائی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

پشتون قوم سے فواد چوہدری کا ایک جملہ گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق سربراہ بشیر میمن نے وزیر اعظم ہاؤس میں ’پٹھان کے ساتھ باتھ روم جانے کا رسک لیا۔‘

کئی صارفین نے فواد چوہدری کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اُن سے معافی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بعض نے اینکر کاشف عباسی کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ اُن کی جانب سے اپنے شو میں اس ’نسل پرستی‘ کی نشاندہی کیوں نہ کی گئی۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ بھی اس بیان کی مذمت کرتے ہیں۔

کیا واقعہ پیش آیا؟

اس حوالے سے بات تب شروع ہوئی جب اینکر کاشف عباسی نے فواد چوہدری سے پوچھا کہ کیا آپ نے سابق ڈی جی ایف آئی اے ’بشیر میمن کو باتھ روم میں بند کروا دیا؟‘

اس گفتگو سے قبل پروگرام میں اینکر ندیم ملک کے ساتھ بشیر میمن کا ایک حالیہ انٹرویو چلایا گیا جس میں وہ بتاتے ہیں کہ ایک موقع پر وزیر اعظم ہاؤس میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران انھیں احساس ہوا کہ ’وہ آدمی جو ایک خاتون (مریم نواز) کے لیے ایسی زبان استعمال کرتا ہے، اس طرح کی باتیں کرتا ہے، وہ میرا وزیر اعظم ہے۔ مجھے اعظم خان صاحب (اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری) نے ہاتھ سے پکڑ کر کہا آ جائیں۔ وہ مجھے لے کر اپنے دفتر میں گئے جہاں لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور میرا غصہ ختم نہیں ہو رہا تھا۔‘

عمران خان، فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہAFP

’اپنے آفس کے باتھ روم میں جا کر اس نے باتھ روم کا دروازہ بند کر دیا اور کہا سر آپ کیا کر رہے ہیں۔‘

اس پر اینکر نے پوچھا کہ ’اعظم خان نے اپنے آپ کو اور آپ کو واش روم میں بند کر لیا؟ کہ بشیر میمن صاحب گالیاں نہیں نکالنی۔‘

یہ کلپ چلنے کے بعد اینکر کاشف عباسی نے پھر سے فواد چوہدری سے پوچھا کہ ’آپ لوگوں کو باتھ روم میں بند کر رہے تھے؟‘ اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ انھوں نے اعظم خان کو یہ کلپ بھیجا ہے اور پیغام دیا کہ ’آپ بڑے بدمعاش ہو۔ مجھے تو کبھی نہیں لگا۔‘

فواد چوہدری کے مطابق ’انھوں نے آگے سے جواب دیا کہ ناؤ دس از ریئلی باتھ روم پولیٹکس۔‘

اس دوران فواد چوہدری نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ’میمن صاحب کو 18 دن پہلے زبردستی ریٹائر کر دیا تھا۔ ان کا غصہ نہیں جا رہا۔۔۔ انھیں نوکری سے بے عزت کر کے نکالا تھا، ہماری حکومت نے۔ ان کی کافی وجوہات تھیں۔ ان کے نواز شریف کے ساتھ تعلقات تھے۔ کالز رپورٹ ہو گئیں تھیں۔ یہ پھر خراب ہو کر گئے۔‘

تحریک انصاف کے رہنما نے مزید کہا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے کسی مرکزی ملزم کے ساتھ رابطے میں ہو۔‘

اینکر کاشف عباسی نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا کہ کیا ایسا واقعہ ہوا تھا جس میں بشیر میمن کو باتھ روم میں بند کیا گیا تو فواد چوہدری نے مسکراتے ہوئے کہا ’انھوں نے (بشیر میمن) نے خود کہا ہے کہ مجھے سمجھانے کے لیے باتھ روم لے گئے۔ بڑا انھوں نے رسک (خطرہ مول) لیا پٹھان کے ساتھ باتھ روم جانے کا۔‘

اس موقع پر کاشف عباسی پہلے تو یہ بات سن کر ذرا حیران ہوئے اور پھر انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ’بریک لیتے ہیں ناظرین۔ گل کتھے ہور جا رئی اے (بات کہیں اور نکل گئی ہے)۔ بریک کے بعد واپس آتے ہیں۔‘ اس دوران پس منظر میں فواد چوہدری کو ہنستے ہوئے سُنا جا سکتا ہے۔

مگر ایسا نہیں کہ بریک کے بعد اس بارے میں مزید بات نہ ہوئی ہو۔ بریک سے واپس آ کر کاشف نے پوچھا کہ ’شاید دونوں اکٹھے باتھ روم میں گئے تھے، کیا آپ یہی کہہ رہے ہیں؟ یعنی بند نہیں کیا گیا صرف گپ لگانے کے لیے گئے تھے۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ ’یہی آپ نے سُنایا ہے۔‘

فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہTWITTER

’یہ نسل پرستانہ کمنٹ ہے‘

سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں اور صارفین کے تبصرے جاری ہیں مگر کئی لوگوں نے اس ’نسل پرستانہ‘ اور ’دقیانوسی‘ جملے کی مذمت کی ہے۔

صحافی اجمل جامی نے یہ ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’واللہ! یہاں بریک ہی بنتی تھی‘ تو اس پر ایک دوسرے صحافی شاہد اسلم نے ان سے سوال کیا کہ ’معذرت کیوں نہیں، مذمت کرنا کیوں نہیں بنتا تھا جامی صاحب؟‘

عادل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

اینکر عادل شاہزیب کی رائے بھی شاہد اسلم سے ملتی ہیں جو کہتے ہیں کہ ’بجائے بریک کے کاشف صاحب کو روک کر کہنا تھا کہ یہ بے ہودہ سٹیریو ٹائپنگ ہے، اجتناب برتیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’نیشنل ٹی وی پر کسی قومیت کے ساتھ ایسے بھونڈے مذاق رکوانا بطور اینکر ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

عامر ظفر خان نے تبصرہ کیا کہ ’قصور میں چائلڈ پورنوگرافی کے واقعات سامنے آئے۔ تو کیا کوئی پنجابیوں کو بھی اس طرح کی بات کہہ سکتا ہے؟ پھر لوگ پوچھتے ہیں کہ پٹھان ان باتوں کا اتنا بُرا کیوں مناتے ہیں۔ وہ کیا کریں جب اس قدر نسل پرستی اور تعصب موجود ہے۔‘

شیری

،تصویر کا ذریعہTWITTER

شیری نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو کے پی میں پشتونوں کی بھاری حمایت حاصل ہے۔ ’اگر ان کے رہنما اس نسل پرستی پر سوال نہیں اٹھائیں گے تو کیا تمام پنجابیوں کو اس پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟‘

ان کے مطابق ’جو فواد چوہدری نے کہا میں بطور پنجابی اس کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ مگر کیا کے پی میں پی ٹی آئی کے رہنما اس کی مذمت کریں گے؟‘

وزیرہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER

اینکر سلیم صافی، جو تحریک انصاف کے بڑے ناقدین میں سے ہیں، نے کہا کہ ’ایک بڑے چینل پر ایک بڑے اینکر کے ساتھ اس نسل پرستانہ اور پختونوں کی توہین پر مبنی ریمارکس پر پی ٹی آئی میں شامل پختونوں کی خاموشی عجیب ہے۔۔۔‘

وزیرہ نامی صارف نے اس بیان کی مذمت میں کہا کہ ’یہ ریسسٹ کمنٹ (نسل پرستانہ تبصرہ) ہے۔ ایسا بالکل نہیں بولنا چاہیے۔ کیا تاثر دیا جا رہا پٹھان، دہشتگرد ہے، خطرناک ہے؟ یا پھر ریپسٹ؟ فواد چوہدری کو خیال کرنا چاہیے۔‘

تیمور جھگڑا

،تصویر کا ذریعہTWITTER

’فواد معافی مانگیں ورنہ پختون قوم تحریک انصاف کو معاف نہیں کرے گی‘

تحریک انصاف کے بعض لوگوں نے بھی اس بیان کی مذمت کی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے ایک ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’اس پر کوئی بحث نہیں بنتی، اس کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔‘

ہاں مگر ساتھ میں انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’کیا آپ نے پی ڈی ایم کی حکومت کی وجہ سے بننے والے مالی بحران کی مذمت کی ہے؟‘

ڈاکٹر آمنہ جمال کہتی ہیں کہ ’بطور بشتون میں فواد چوہدری نے بیان کی مذمت کرتی ہوں۔ فواد چوہدری اور کاشف عباسی دونوں کو پشتونوں سے معافی مانگنی چاہیے۔‘

آمنہ جمال

،تصویر کا ذریعہTWITTER

سمیع حق نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’خود فواد چوہدری ایک پٹھان لیڈر عمران خان کے ساتھ دے کر بھی رسک ہی لے رہے۔‘ ادھر علی خان شنواری نے لکھا کہ ’عمران خان کا سپورٹر ہوں، ہمیشہ حمایت کی ہے۔ میرے صوبے کے لوگوں نے دو بار عمران خان کو حکومت دلائی۔‘

’لیکن فواد چودھری جیسے لوگ اس طرح کی نامناسب گفتگو سے پختون کی بے عزتی کر رہے ہیں۔ ان الفاظ پر وہ پختون قوم سے معافی مانگیں ورنہ پختون قوم تحریک انصاف کا بائیکاٹ کرے گی۔‘