تیزگام میں ڈانس: کیا چلتی ہوئی ٹرین میں رقص کی محفل منعقد ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان ریلوے کی ایک ٹرین کی ڈائننگ کار کی ایک ویڈیو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک خواجہ سرا کو گاڑی کے اندر رقص کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈائننگ کار میں کچھ افراد بھی موجود ہیں جو اس سے محظوظ ہو رہے ہیں۔
اس ویڈیو کو لے کر مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر پاکستان ریلوے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بعض صارفین کے خیال میں یہ ایک ’فحش‘ یا ’غیر اخلاقی‘ ڈانس تھا جو مبینہ طور پر چلتی ہوئی ٹرین میں کیا گیا جبکہ ’ٹرین میں خواتین، بچے اور فیملیز بھی موجود تھیں۔‘
ذرائع ابلاغ پر اس حوالے سے بحث کے بعد پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے وائرل ویڈیو پر نوٹس لے کر تحقیقات کروائیں۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پاکستان ریلوے کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب ہوا۔
پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق جس ٹرین کی ڈائننگ کار میں یہ ڈانس پارٹی منعقد کروائی گئی وہ ایک نجی کمپنی چلاتی ہے اور اس میں سرکاری ادارے ’پاکستان ریلوے کا کوئی ملازم ملوث نہیں ہے۔‘
ترجمان کے مطابق وفاقی وزیر کے حکم پر مذکورہ نجی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جس میں انھیں تفصیلات سے آگاہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ ’اگر وہ سات روز کے اندر مناسب جواب نہیں دے پاتے تو ان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔‘
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ یہ ڈانس پارٹی ایک ڈائننگ کار میں ہوئی جس میں مسافر موجود نہیں ہوتے۔ اس کار میں موجود تمام عملہ نجی آپریٹر کمپنی کا بھرتی کیا ہوا ہے۔
تاہم پاکستان ریلوے کے چیف آپریٹنگ آفیسر کی ہدایات پر انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق نجی کمپنی کے دو ملازمین کو معطل جبکہ دو کو گرفتار کر کے ریلوے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے کا مقدمہ متعلقہ مقامی تھانے میں بھی درج کروا دیا گیا ہے۔ نجی کمپنی کو جاری کردہ شوکاز نوٹس میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ وہ اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی شق 294 کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریلوے کے ترجمان کے مطابق نجی کمپنی کی طرف سے شوکاز نوٹس کا جواب آنے اور ریلوے کی طرف سے انکوائری مکمل ہونے کے بعد ’واقعے کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
کیا ڈانس چلتی ہوئی ٹرین کے اندر ہو رہا تھا؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈانس کرنے والے خواجہ سرا ایک ڈائننگ کار کے اندر دو قطاروں میں بنی میزوں کے درمیان ڈانس کر رہے ہیں۔
ڈانس دیکھنے والوں میں چند افراد نے ایک جیسا یونیفارم بھی پہن رکھا ہے جبکہ کچھ افراد سیٹوں کے اوپر پاؤں رکھ کر ٹرین کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر ان کا ڈانس دیکھ رہے ہیں۔ پس منظر میں اونچی آواز میں گانا بھی بجایا جا رہا ہے۔
جس شخص نے بظاہر موبائل فون پر یہ ویڈیو ریکارڈ کی ہے اس کے ہاتھ کی حرکت سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ ٹرین چلی رہی ہے۔ تاہم پاکستان ریلویز کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ٹرین رکی ہوئی تھی۔
'چلتی ہوئی ٹرین میں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ڈانس پارٹی یا تو ٹرین کے سفر شروع کرنے سے پہلے منعقد ہوئی یا منزل پر پہنچ جانے کے بعد ہوئی جب ٹرین مکمل طور پر رک چکی تھی۔' انھوں نے اس امکان کو بھی رد کیا کہ سفر کے دوران کسی سٹیشن پر پڑاؤ کے دوران ایسا ہو سکتا تھا۔
حکام کے مطابق یہ واقع تیز گام ٹرین پر ہوا جو کراچی سے راولپنڈی کے درمیان چلتی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ ریلویز کی انکوائری میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ واقعہ کس وقت ہوا۔
کیا ٹرین میں مسافر موجود تھے؟
پاکستان ریلویز کے اہلکار کے مطابق بظاہر ڈانس کے وقت ڈائننگ کار میں عام مسافر موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ چلتی ہوئی ٹرین میں نہیں ہوا اس لیے ایسا ممکن نہیں ہے کہ ٹرین کی ڈائننگ کار کے اندر مسافر موجود ہوں۔
اہلکار کے مطابق اس بات کا حتمی تعین تو تحقیقات کے بعد ہی ہو پائے گا کہ ڈانس پارٹی کس نے کس کے لیے اور کس کے کہنے پر منعقد کروائی اور یہ کہ اس وقت ڈائننگ کار میں ڈانس دیکھنے والے افراد کون تھے۔
تاہم بظاہر ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’اس پارٹی میں کمپنی کے عملے کے افراد موجود تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز کے عملے کا کوئی فرد اس میں موجود نہیں تھا۔
کیا پاکستان ریلویز کی مرضی کے بغیر ایسا ہو سکتا ہے؟
سوشل میڈیا پر ڈانس کی ان ویڈیوز کو تنقید کا نشانہ بنانے والے چند صارفین یہ سوال بھی اٹھایا کہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ پاکستان ریلویز کی ٹرین پر ریلوے حکام کی مرضی کے بغیر کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریلویز کے اہلکار نے بتایا کہ ریلویز کی کچھ ٹرینیں تو پاکستان ریلویز خود آپریٹ کرتا یا چلاتا ہے جبکہ کچھ ٹرینیں ریلویز کے ساتھ معاہدے کے تحت نجی کمپنیاں مکمل طور پر آپریٹ کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’یہ ٹرین بھی مکمل طور نجی کمپنی ہی آپریٹ کرتی ہے جس کے لیے تمام تر عملہ بھی وہ خود ہی بھرتی کرتے ہیں۔ پاکستان ریلویز کا اس پر صرف ایک گارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ریلویز کا اپنے کسی بھی ملازم کا اس کے آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘
اہلکار کے مطابق اس میں پاکستان ریلویز کے کسی اہلکار وغیرہ سے اجازت لینے کی بھی انھیں کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی عام طور ٹرینوں پر اس قسم کا کوئی کام کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔
نجی کمپنی کا کیا مؤقف ہے؟
ایک ویڈیو بیان میں نجی کمپنی این سی ایس پرائیویٹ لمیٹڈ کے جنرل مینیجر کرنل (ر) ودیع نے بتایا کہ یہ واقع 13 اور 14 اگست کی رات کو 8 ڈاؤن (راولپنڈی تا کراچی) کی ڈائننگ کار میں ہوا۔ ’این سی ایس انتظامیہ اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے۔‘
انھوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ ان کی کمپنی کی تحقیقات میں کیا سامنے آیا تھا اور اس ڈانس پارٹی کو منعقد کروانے میں کون ملوث تھا۔
تاہم کرنل (ر) ودیع کے مطابق ان کی کمپنی 'اس واقعے ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوانے میں پورا تعاون‘ کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ کپمنی نے اپنے ٹرین مینیجر اور ڈائننگ کار کے مینیجر کو ریلوے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
’ہماری پوری کوشش ہے کہ باقی کے جتنے بھی افراد اس میں ملوث ہیں ان کو بھی ہم جلد از جلد پولیس کے حوالے کریں۔‘
کرنل (ر) ودیع نے بتایا کہ ’یہ ایسا افسوسناک اور غیر اخلاقی واقعہ تھا جس کے بارے میں ہم انھیں بار بار تنبیہ بھی کرتے رہتے تھے اور انھیں یاد دہانی بھی کرواتے رہتے تھے اس کے باوجود یہ ہوا ہے۔‘ تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کہ یہ تنبیہ کس کو کی جاتی تھی۔ بظاہر ان کا اشارہ ٹرین کے عملے کی جانب تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کو افسوس ہے کہ یہ واقعہ پاکستان ریلویز کی انتظامیہ اور مسافروں کے لیے تکلیف کا باعث بنا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔



























