بات سرحد پار: اردو اور ہندی میں بی بی سی کی نئی آڈیو سیریز

برصغیر کا خطہ جس کی وسیع تاریخ اور تہذیب نے دنیا کو اپنی جانب متوجہ رکھا سنہ 1947 میں پاکستان اور انڈیا میں تقسیم ہو گیا۔ یہ صرف سرحدوں پر کھینچی گئی ایک لکیر ہی نہیں تھی بلکہ مشترکہ ثقافت، تہذیب و تمدن اور ورثے کا بٹوارہ بھی تھا۔
یہ لاکھوں افراد اور خاندانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا بٹوارہ تھا جس نے دنیا کے نقشے پر کھینچی گئی لکیر کے دونوں جانب کئی کہانیوں، داستانوں اور یادوں کو جنم دیا۔
اس تقسیم کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر بی بی سی اردو اور ہندی کی مشترکہ پروڈکشن ایک خصوصی آڈیو سیریز ’بات سرحد پار: سرحد کے پار بات چیت‘ پیش کی جا رہی ہے جس کے ذریعے ہم اس مشترکہ ثقافت اور ورثے کی ان کہانیوں، یادوں اور باتوں کو کہنے اور سننے جا رہے ہیں۔
15 جولائی سے شروع ہونے والی بی بی سی کی اس خصوصی پوڈ کاسٹ سیریز 'بات سرحد پار' میں دونوں ممالک سے فن، موسیقی اور ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔
وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ کبھی مذہب تو کبھی سیاست کی عینک سے دیکھنے والوں نے دونوں ممالک میں تقسیم کو مزید گہرا کیا لیکن سرحد کے دونوں جانب ہزاروں افراد ایسے ہیں جن میں آج بھی ایک دوسرے کو جاننے کی تڑپ موجود ہے۔
ان 75 برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و عسکری محاذ پر بہت کچھ ہوا مگر جو نہیں ہوا وہ یہ کہ ان دونوں ملکوں کے لوگوں کو کبھی کھل کر آپس میں بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔
بات چیت کے اس جذبے اور انڈیا پاکستان کے درمیان ان کی مشترکہ سماجی اور ثقافتی یادوں کے ساتھ ساتھ وراثت کی بنیاد پر گہرے تعلقات کو منانے کا یہ ایک منفرد اقدام ہے۔
15 جولائی سے ہر جمعہ کو اس سیریز کی نئی قسط نشر کی جائے گی جو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ، یوٹیوب چینل اور سپاٹیفائی سمیت تمام بڑے پوڈ کاسٹ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
15 جولائی کو پیش کی جانے والی اس سلسلے کی پہلی پوڈ کاسٹ میں سرحد کے دونوں جانب سے لوگوں میں اس خاص تعلق پر بات کی جائے گی جو سنیما، موسیقی اور ادب کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
اس خصوصی پوڈ کاسٹ سیریز کی ہر قسط میں سرحد کے دونوں جانب سے مشہور شخصیت اپنی کہانیاں اور ان تبدیلیوں کے بارے میں بات کریں گے جو انھوں نے وقت کے ساتھ ساتھ انڈیا اور پاکستان میں رونما ہوتی دیکھی ہیں۔ اور وہ سرحد پار اپنے عصروں سے کیسے تحریک لیتے تھے۔
اس پوڈ کاسٹ سیریز کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کیا گیا ہے جس میں مزاح کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جذباتی اور فکری سوچ کا عنصر بھی نظر آئے گا۔
چنتن کلرا اور بی بی سی کے اجیت سرانتھی نے روح پرور موسیقی تیار کی ہے جس میں انڈین اور پاکستانی لوک آلات کا ملاپ ہے۔ شرت چندرا سریواستو کے وایلن پر جگجندر کی آواز اور انیش اہُلووالی کے لکھے گئے دل کو چھو لینے والے بول آپ کو ماضی میں واپس لے جائیں گے۔
بی بی سی نیوز اردو کے پاکستان ایڈیٹر آصف فاروقی کہتے ہیں کہ ’اس سیریز پر کام کرنا میرے اور بی بی سی اردو میں میری ساتھی نازش ظفر کے لیے ایک زبردست تجربہ رہا ہے۔ انھوں نے ہر قسط کے لیے ایسے عنوان اور لوگوں کا انتخاب کیا جو 75 برسوں کی تاریخ کو مستقبل سے جوڑ سکیں، تاکہ سرحد کے دونوں اطراف میں نوجوان نسل ماضی سے ایک تعلق محسوس کر سکے اور وہ یہ امید کر سکیں کہ مستقبل میں امن اور اتحاد ہو گا۔‘
انڈیا میں بی بی سی نیوز کی سربراہ روپا جھا کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اور پاکستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اس سے اچھا اور کیا ہو سکتا ہے کہ سرحد کی دونوں جانب لوگوں کو مشترکہ ثقافتی تاریخ کا بتایا جائے اور ایک دوسرے کے انفرادی سفر کا بھی جشن منایا جائے۔ لوگوں کے لیے یہ بہترین تجربہ ہوگا جب ایسی منفرد کہانیاں ایک پوڈکاسٹ کے ذریعے بتائی جائیں گی۔‘
ہر قسط کا عنوان اور خلاصہ
پہلی قسط: سرحد پار موسیقی
پہلی قسط میں انڈیا کی سونیدھی چوہان اور پاکستان کی زیب بنگش جیسی معروف گلوکارائیں بتاتی ہیں کہ لوگوں کی محبت انھیں متاثر کرتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ موسیقی سرحد کی دونوں جانب رہنے والے لوگوں کی یادوں اور زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اس گفتگو میں دونوں فنکاروں نے ایک دوسرے کے کام کی تعریف کی۔ زیب نے یاد کیا کہ سونیدھی کا فلم ہائیوے کا گانا انھوں نے بہت بار سنا ہے اور اب سونیدھی سے بات کرنا ان کے لیے ’فین مومنٹ‘ ہے۔
انھوں نے سونیدھی کو سراہتے ہوئے کہا کہ زندگی کے تاریک مراحل کے دوران ان کے گانوں نے کیسے انھیں ہمت اور حوصلہ دیا۔
دونوں گلوکاراؤں نے سرحد پار میوزک کمپوزرز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ شیئر کیا۔ اس قسط کا خاص حصہ وہ ہے جب سونیدھی اور زیب کچھ خاص گانے گاتی ہیں جس میں انڈیا اور پاکستان کے پرانے اور بے انتہا مشہور گانے بھی شامل ہیں۔
دوسری قسط: طنز و مزاح اور فلموں میں تفریح
اس قسط میں آپ کو انڈین کامیڈین اور رائٹر وارون گروور کے ساتھ پاکستانی ہدایتکار، فلمساز اور اداکار سرمد کھوسٹ کی مزاحیہ اور دلچسپ گفتگو سننے کو ملے گی۔
سرمد کی فلم ’زندگی تماشہ‘ گذشتہ سال آسکرز کی بہترین غیر ملکی فلموں کی کیٹگری میں نامزد ہوئی تھی لیکن ایک تنازع کی وجہ سے اس کی ریلیز ایک سال سے زیادہ عرصے سے رُکی ہوئی ہے۔
دونوں شخصیات نے اس بارے میں بات چیت کی کہ طنز و مزاح دونوں ملکوں میں کیسے تفریح کی اس صنعت کا حصہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دونوں جانب فنکاروں کو چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا ہے جب بعض اوقات ان کی مزاحیہ باتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔
تیسری قسط: شاعری اور فیمنسٹ خیالات کا ارتقائی سفر
اس قسط میں فیمنسٹ شاعری کے دو نمایاں نام انڈیا سے انامیکا اور پاکستان سے کشور ناہید شریک ہیں۔ دونوں کو اپنے اپنے ملک میں ادبی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ انامیکا پہلی خاتون شاعرہ ہیں جنھیں انڈیا میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اردو ادب میں اپنی خدمات پر کشور کو پاکستان میں ستارہ امتیار سے نوازا گیا تھا۔
اس قسط میں دونوں شخصیات اپنے اپنے ملکوں کی ادبی تاریخ پر نظر دوڑائیں گی اور اپنی شاعری سے سامعین کے دلوں کو لبھائیں گی۔
چوتھی قسط: تقسیم ہند
اس قسط میں انڈین مورخ، محقق اور مصنف انچل ملہوترا نے پاکستانی صحافی، تجزیہ کار اور ٹی وی شخصیت محسن سعید سے بات چیت کی ہے۔ دونوں مہمان تقسیم ہند کے دوران اپنے خاندانوں کی نقل مکانی کے واقعات کو یاد کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب دونوں طرف لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور اپنوں سے بچھڑ گئے۔
یہ قسط آپ کو صرف یہ نہیں بتائے گی کہ لوگوں کا کتنا نقصان ہوا بلکہ یہ بھی بتایا جائے گا کہ انھوں نے کیسے ایک نئے جذبے سے اپنی زندگی کی تعمیر نو کو یقینی بنایا۔
پانچویں قسط: سرحد پار شادیاں
محبت اور جیت، وہ بھی باقی مشکلات کے ساتھ ایک سرحد کے ہوتے ہوئے، یہ قسط بس اسی کے بارے میں ہے۔
انڈیا کے ارمان دہلوی نے پاکستانی شہری ملیحہ خان سے شادی کی جبکہ دسیری فرانسس ایک پاکستانی ہیں جنھوں نے ایک انڈین سے شادی کی۔ یہ تینوں ہمیں بتائیں گے کہ عام لوگوں کے لیے سرحد پار کسی سے شادی کرنے میں کس طرح کی سماجی اور انتظامی مشکلات آڑے آتی ہیں۔
اس بلاتکلف گفتگو میں ان ڈرامائی لمحات پر روشنی ڈالیں گے اور اپنے ذاتی تجربات بھی شیئر کریں گے۔
بی بی سی اردو اور بی بی سی ہندی، بی بی سی کی عالمی سروس کا حصہ ہیں۔






















