وفاقی بجٹ 2022-23: وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی تقریر اور خاموش اپوزیشن، ’تحریک انصاف کے ارکان کو پارلیمان میں ہونا چاہیے تھا‘

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سال 1997 میں قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پاس دو تہائی اکثریت تھی جبکہ اس وقت کی اپوزیشن صرف سترہ اراکین پر مشتمل تھی۔ اپوزیشن کی قیادت بینظیر بھٹو کر رہی تھیں اور یہی وجہ تھی کہ جب بجٹ پیش کرنے کا وقت آیا تو اس چھوٹی سی حزب اختلاف نے بھی حکومتی ارکان کو ناکوں چنے چبوائے۔
اس بجٹ تقریر کے دوران ایوان میں وہی شور شرابہ جاری رہا جو کسی بھی جمہوری نظام کی روایات کا حصہ ہے۔
اس دن کو یاد کرتے ہوئے سینیئر صحافی ایم بی سومرو بتاتے ہیں کہ بجٹ کی تقریر کے دوران تو بینظیر بھٹو نے خوب تحفظات پیش کیے ’لیکن بعد ازاں جب بجٹ پر بحث ہونا تھی تب بھی کسی موقع پر یہ تاثر نہیں ملا کہ یہ محض سترہ افراد کی اپوزیشن ہے۔
’وہ ایک مضبوط اپوزیشن تھی جیسا کہ حزب اختلاف کو ہونا چاہیے اور پھر وہ بینظیر بھٹو تھیں۔ ان کے قد کاٹھ کا سیاستدان اپوزیشن میں ہو تو حکومت کے لیے کچھ بھی آسان نہیں ہوتا۔‘
بجٹ کا دن ایک بڑا دن سمجھا جاتا ہے، لوگ بجٹ تقریر کا انتظار کرتے ہیں تاکہ جان سکیں کہ آئندہ برس کے لیے ان کی تنخواہیں بڑھ رہی ہیں یا خرچے۔
انکم ٹیکس کم ہوا ہے یا زیادہ، پنشن میں کتنا اضافہ ہے۔ سگریٹ مہنگے ہوئے یا کاسمیٹکس کا سامان، کاروبار کرنے والوں کے کاروبار کا کیا بنے گا وغیرہ وغیرہ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بجٹ خود حکومتی جماعت کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہوتا ہے کیونکہ اس دستاویز پر منحصر ہے کہ عوام انھیں اگلے الیکشن میں ووٹ دے گی یا نہیں اور ان کے فیصلوں کا ملک کی معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔
اپوزیشن بھی اس دن کا انتظار کرتی ہے کہ اِدھر حکومت سے کوئی چُوک ہو، اُدھر اپوزیشن انھیں آڑے ہاتھوں لے۔ اس لیے بجٹ سے متعلق ٹی وی اور اخبارات کئی دن پہلے ہی خصوصی کوریج شروع کر دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر آج کا بجٹ اجلاس ماضی سے بالکل مختلف تھا۔ یہ تو اندازہ تھا ہی کہ اپوزیشن فرینڈلی ہوگی، مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ اِتنی فرینڈلی ہو گی۔ اس وقت قومی اسمبلی میں پچیس ارکان ہیں جن کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہے۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی خان محمد جمالی استعفے کے باوجود آج پہلی بار قومی اسمبلی پہنچے اور اپوزیشن بینچز پر بیٹھے۔ اسی طرح آج یہ تعداد چھبیس تھی۔ ان میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے اراکین اسمبلی کے علاوہ ایم ایم اے کے ایک رکن اسمبلی بھی شامل ہیں۔ دو درجن سے زائد اس اپوزیشن نے آج مکمل خاموشی اختیار رکھی۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار وزیرخزانہ پُرسکون انداز میں تقریر کر رہے ہیں۔ اپوزیشن اراکین میں سے بعض بجٹ دستاویز پڑھ رہے ہیں اور دیگر خاموشی سے بجٹ تقریر سن رہے ہیں۔ گیلری میں موجود سینیئر صحافیوں کے مطابق وہ پہلی بار ’ایک پُرامن ماحول میں بجٹ پیش ہوتا دیکھ رہے ہیں، جمہوری روایت یہ رہی ہے کہ بجٹ تقریر کے موقع پر اپوزیشن احتجاج کرتی ہے، اور وہ طبقہ جنھیں بجٹ سے فائدہ نہیں، ان کی نمائندگی کی جاتی ہے۔‘
بجٹ اجلاس تقريبا چالیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس سے قبل مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا جس میں وزیراعظم شریک ہوئے۔ اس اجلاس ختم ہونے کے بعد اجلاس کا آغاز کیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف بجٹ تقریر شروع ہونے کے چند لمحے بعد ہاؤس میں پہنچے۔ حزب اختلاف کے اراکین یا بجٹ مخالف رائے آج پارلیمان کی راہداریوں میں کہیں نظر نہ آئی۔ مجبوراً صحافی ہی حکومتی اراکین سے بجٹ کے ان نکات پر سوال اور خدشات کا اظہار کرتے رہے جو ان کے خیال میں عوام دوست نہیں ہو سکتے۔
ان سوالوں کے جواب میں حکومتی ارکان بجٹ کا دفاع کرتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ آج کے بجٹ میں عوام کو ریلیف ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی راجہ ریاض حسین اپنی نشست پر خاموشی سے بیٹھے رہے اور انھوں نے نہایت پُرسکون انداز میں پوری تقریر سنی۔ پی ٹی آئی کے بعض اراکین بجٹ دستاویز کھول کر پڑھتے رہے جبکہ کچھ خوش گپیوں میں مگن نظر آئے۔
بجٹ اجلاس میں نہ تالیوں اور نعرے بازی کی گونج تھی نہ ہی ڈیسک بجتے ملے۔ بعض اوقات حکومتی اراکین نے اس وقت ڈیسک ضرور بجائے جب بجٹ تقریر کے دوران عمران خان کی حکومت پر تنقید کی جا رہی تھی۔
اجلاس کی کوریج کے لیے آنے والے سینیئر صحافی ان سیاسی ادوار کو بھی یاد کرتے رہے جب اپوزیشن نہایت ’فرینڈلی‘ ہوتی تھی ’مگر پھر بھی بجٹ کے دوران ہنگامہ آرائی تو اس دن کا لازمی حصہ رہا ہے۔ آج قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران جو مناظر دیکھے گئے وہ اس سے قبل پارلیمنٹ کی تاریخ میں نہیں دیکھے گئے تھے۔‘
نجی نيوز چینل جیو نیوز سے وابستہ صحافی نوشین یوسف کئی برسوں سے پارلیمنٹ کی کوریج کر رہی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو مناظر آج دیکھے ہیں، ایسے آج تک نہیں دیکھے۔
’آج تو مکمل خاموشی تھی۔ یہ ایک بورنگ بجٹ تھا۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی وزیر خزانہ نے کبھی اتنے دوستانہ ماحول میں بجٹ تقریر کی ہے۔ بجٹ تقریر کے دوران وہ ہنگامہ ہوتا ہے کہ حکومت کے لیے دن مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر آج ایسا کچھ نہیں تھا اور میرے خیال میں یہ پاکستان تحریک انصاف کی بڑی غلطی ہے۔ انہیں آج پارلیمان میں ہونا چاہیے تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر پی ٹی آئی جیسی مضبوط اپوزیشن آج قومی اسمبلی میں بیٹھی ہوتی تو مسلم لیگ ن کو خون کے آنسو رلا دیتی۔ اور بجٹ منظور کرنا مشکل ہو جاتا۔ حکومت اور اپوزیشن اراکین کی تعداد میں اتنا کم مارجن ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے اراکین بجٹ کی منظوری کے لیے پورے ہو جاتے تو قومی اسمبلی میں ایک بار پھر تحریک عدم اعتماد والی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ انہی خيالات کا اظہار ایم بی سومرو نے بھی کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ حکومتی جماعتیں اکثر بجٹ دستاویز میں کہیں نہ کہیں ’ڈنڈی مارتی ہے‘ یعنی کچھ کوتاہیاں کرتی ہے جن کی تلاش اپوزیشن کو رہتی ہے اور پھر حزب اختلاف کے لوگ خوب ہنگامہ کرتے ہیں۔ ہم نے ایوان میں بجٹ تقریر کے دوران اراکین کو کاپیاں پھاڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ پلے کارڈز اٹھائے دیکھا ہے۔ اور نعرہ بازی اتنی شدید ہوتی ہے کہ وزیر خزانہ تقریر نہیں کر پاتے۔‘
ان کا کہنا تھا ’آج پہلی بار ایسا ہوا کہ بجٹ تقریر کرنے والے کانوں پر شور روکنے والے ہیڈ فونز لگائے بغیر تقریر کی ہے۔ اس بات پر افسوس ہے کہ اپوزیشن موجود ہونے کے باوجود موجود نہیں تھی۔ یہی جمہوری روایات کے منافی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی طرف سے کوئی حرف ملامت تھا نہ اس عوام کی ترجمانی جو اس بجٹ سے خوش نہیں۔ مضبوط اپوزیشن، اور ایسی اپوزیشن جو آواز رکھتی ہو اور آواز اٹھاتی ہو، جمہوریت کا حسن ہے جو آج قومی اسمبلی میں دُور دُور تک نظر نہیں آیا۔‘
نوشین يوسف کہتی ہیں کہ ’بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومت دونوں اطراف سے اراکین زبردست تقاریر کرتے ہیں۔ ڈیسک بجائے جاتے ہیں، نعرے بازی کی جاتی ہے۔ مگر اس بار ایسا لگتا ہے کہ اراکین ایک تو ہیں ہی دو درجن، اور پھر بجٹ کی مخالفت میں تقاریر بھی نہیں ہوں گی۔
’اگر بجٹ مخالف تقریر ہوئی تو وہ انتہائی غیر موثر انداز میں کی جائے گی اور یہ بجٹ آسانی سے منظور ہو جائے گا اور سب ون سائیڈڈ ہو گا کیونکہ ملک کے تقریبا نصف ووٹرز کی نمائندگی اس وقت پارلیمنٹ سے باہر بیٹھی ہے۔‘
در اثنا وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایوان میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کئی مرتبہ تلفظ کی غلطیاں بھی کیں۔ مثلاً ایک موقع پر وہ لفظ ’تشخص‘ پر لڑکھڑا گئے۔ ایوان میں اپوزیشن کا ہنگامہ تھا نہ نعرے بازی کہ انھیں بلند آواز میں تقریر کرنا پڑتی۔
اس کے باوجود وہ دوران تقریر وقفے وقفے سے پانی پیتے رہے۔ ایک بار ان کی زبان پھسل گئی اور کہا ہے کہ عمران خان ڈالر کو 189 پر لے گئے اور یہ ’2000 تک پہنچ گیا۔‘



























