قاسم اعوان: وزیر اعظم شہباز شریف کا اسلام آباد میں نوجوان کے قتل کے مجرموں کی نشاندہی اور سزا دلوانے کا حکم

وقت اشاعت

’قاسم اعوان میرا بچپن کا دوست اور جِم پارٹنر تھا۔۔۔ وہ ہمیں بہت جلدی چھوڑ گیا۔‘

یہ کہنا ہے عمر امام کا جنھوں نے اپنے دوست کے قتل پر غم کا اظہار کیا ہے۔ ان سمیت کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں بتایا ہے کہ قاسم ایک انتہائی قابل نوجوان تھے۔

اتوار کی شب قاسم اعوان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں موجود تھے جب پولیس کے مطابق دوران وردات انھیں گولی لگی اور وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی جی اسلام آباد کو اس قتل کے مجرموں کی نشاندہی کر کے قرار واقعی سزا دلوانے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’فوری انصاف یقینی بنائیں۔‘

قاسم نے پاکستان کی بڑے یونیورسٹیوں میں سے ایک لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائسنز (لمز) سے اکنامکس میں گریجویشن کیا تھا اور وہ کھانے کی ڈیلیوری ایپ ’فوڈ پانڈا‘ میں بطور مینیجر کام کرتے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے سوشل میڈیا پر #JusticeforQasimAwan (قاسم اعوان کے لیے انصاف) کا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے جس میں شہری ایسے جرائم کی وجہ پولیس کی غفلت کو قرار دے رہے ہیں اور قاسم کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔

ادھر اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

’اس نوجوان، قابل شخص کو اسلام آباد میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا‘

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دوران واردات پیش آیا جس میں قاسم اعوان گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاسکے۔

اسلام آباد پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق قاسم اعوان پر حملہ کرنے کے واقعے میں کم از کم دو افراد ملوث تھے۔ ایک نے قاسم کو لوٹنے کی کوشش کی اور انھی نیچے لیٹنے کا کہا جس پر قاسم نے مزاحمت کی۔ قاسم نے ڈاکوؤں میں سے ایک کو قابو کر لیا جس پر دوسرے شخص نے اپنے ساتھی کو چھڑانے کے لیے گولی چلائی جو قاسم کی بغل پر جا لگی۔

اس واردات کے بعد دونوں ڈاکو جائے موقع سے فرار ہو گئے۔

پولیس کے مطابق جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت پارک میں کافی لوگ موجود تھے جبکہ فائرنگ کی آواز سن کر پارک میں پہلے سے موجود پولیس اہلکار جائے واردات پر پہنچے جس کے بعد ان کے ایک دوست بھی پہنچے۔

اسلام آباد پولیس ترجمان کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق قاسم فوڈ پانڈہ میں بطور مینیجر کام کرتے تھے۔ واقعہ پانچ جون کو پیش آیا جبکہ قاسم سات جون کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔

آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے ملزمان کی جلد گرفتاری کے لئے ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ کی زیر نگرانی سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ٹیم ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں ایس پی صدر، ایس ڈی پی او مارگلہ، ایس ایچ او مارگلہ اور تفتیشی افسر پر مشتمل ہے۔

پیر سے قاسم اعوان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد انھیں پمز ہسپتال اسلام آباد میں داخل کیا گیا جہاں ان کی ایک سے زیادہ سرجریاں ہوئیں اور خون کے عطیے کے لیے واٹس ایپ گروپس میں پیغامات بھیجے جاتے رہے۔

وہ لاہور میں ملتان روڈ کے قریب واقع اعوان ٹاؤن کے رہائشی تھے جہاں بدھ کو ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ان کے ایک دوست عبدالوہاب خان نے فیس بُک پر لکھا کہ قاسم اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔

’قاسم لمز سے پڑھے تھے اور انھوں نے پاکستان میں رہنے اور کام کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ان کی کلاس کے ساتھیوں کی اکثریت بہتر ملازمت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک چھوڑ چکی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کے دوست اسد شیخ کہتے ہیں کہ وہ لاہور میں فوڈ ولاگرز کے معروف گروپ فوڈیز آف اس کے بانی رکن تھے۔

’وہ ہمیشہ مسکراتے اور ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتے اور عزت دیتے۔‘

اس واقعے پر جہاں سوشل میڈیا صارفین نے غم و غصے کا اظہار کیا وہیں سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے اس واقعے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک ہولناک سانحہ اور ایک بے رحمانہ فعل نے ایک جوان زندگی کو خاتمہ کر دیا۔ میں کمشنر اسلام آباد کو کہتی رہی ہوں کہ ایف نائن پارک میں کچھ سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں جائیں لیکن بارہا یاد دہانی کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔ ہمارے معاشرے میں تشدد کا پروان چڑھنا بہت پریشان کن ہے۔‘

جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن اسمبلی ناز بلوچ نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

علی نامی صارف نے واقعے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں شہر کے سب سے بڑے پارک ایف نائن میں ڈکیتی کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا اور یہ جگہ ایئر فورس ہاؤسنگ سوسائٹی کے بھی قریب ہے۔‘

عمیرہ باری کہتی ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں ’صبح شام ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔‘

منزہ صدیقی نے لکھا کہ ’اس نوجوان، قابل شخص کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’قاسم کو اتوار کے روز ملک کے دارالحکومت میں ایک عوامی پارک میں مارا گیا۔ یہ کہنے سے پہلے کہ ہم محفوظ ملک میں رہتے ہیں، دو بار سوچ لیں۔‘

زین حسن نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’اسلام آباد دارالحکومت ہے اور سب سے محفوظ جگہ ہے۔ میرے خیال میں اس بارے میں اس سے زیادہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔‘