آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شیخوپورہ: لاپتہ فرد کی لاش گھر کے صحن سے برآمد، شک پر اہلیہ حراست میں
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی، گوجرانوالہ
- وقت اشاعت
شیخوپورہ کے علاقے شرقپور شریف میں پولیس نے ایک گھر کا صحن کھود کر ایک ماہ سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول کے بھائی ان کی تلاش میں کئی دنوں سے جیلوں کے ریکارڈ چیک کر رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حق نواز نامی مقتول کی اہلیہ کو قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول حق نواز جڑانوالہ کے رہائشی ہیں اور روزگار کے سلسلے میں شرقپور میں مقیم تھے مگر گذشتہ ایک ماہ سے لاپتہ تھے اور پولیس انھیں تلاش کر رہی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے اپنے رشتے دار دوست کے ساتھ مل کر خاوند کو قتل کر دیا تھا اور لاش گھر ہی کے صحن میں گڑھا کھود کر دفن کر دی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ ’خاوند کو صحن میں دفن کرنا کسی ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔۔ صحن سے گزرتی تو یوں لگتا جیسے وہ مجھے ابھی دبوچ لے گا اور مارے گا۔۔۔ رات جاگ کر گزارتی۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مکان ہی چھوڑ دیا جہاں خاوند دفن تھا اور یہی بات قتل کا راز کھلنے اور گرفتاری کی وجہ بن گئی۔‘
تھانہ شرقپور شریف کے تفتیشی افسر ناظم حسین نے بتایا کہ لاش کا سول ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ’حق نواز کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا اور اس کا گلا بھی دبایا گیا۔ یہ سارا کام کوئی ایک شخص نہیں کر سکتا بلکہ یہ دو یا تین لوگوں کا کام ہے۔‘
شرقپور شریف پولیس نے مقتول کے بھائی بشیر احمد کی درخواست پر مقتول کی اہلیہ اور مقتول کے بھانجے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے تفتیش کی جا رہی ہے جس کے بعد انھیں عدالتی کارروائی کے لیے جیل بھجوا دیا جائے گا کیونکہ خاتون ملزم کو وہ زیادہ دیر اپنی حراست میں نہیں رکھ سکتے، جبکہ مقتول کے بھانجے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خاوند کی قید کا بہانہ
پولیس کا کہنا ہے کہ حق نواز گذشتہ ایک ماہ سے پراسرار طور پر لاپتہ تھے اور ان کی اہلیہ سے مالک مکان اور خاوند کے رشتے داروں نے جب استفسار کیا کہ حق نواز کہاں ہے تو خاتون مبینہ طور پر سب کو ایک ہی بیان دیتیں۔
وہ پوچھنے والوں سے کہتی تھیں کہ ’حق نواز کے خلاف نشہ کرنے کا مقدمہ ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے کسی تھانے میں درج تھا جو ان دنوں عدالت میں زیر سماعت ہے اور وہ گھر سے تاریخ پیشی پر گئے تھے، میرا خیال ہے کہ اُنھیں عدالت سے سزا ہو گئی ہو گی اور وہ جیل چلے گئے ہوں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
کچھ ہفتوں تک تو یہ بیانیہ چلتا رہا پھر خاتون نے اپنے چھ بچوں کو ساتھ لیا اور کرائے پر لیا جانے والا یہ گھر ہی چھوڑ دیا۔ خاتون نے مالک مکان سے ایڈوانس کی مد میں دی جانے والی رقم واپس لی اور بچوں کو ساتھ لے کر کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئیں۔
پولیس کے مطابق مقتول کے بھائی بشیر احمد نے پولیس کو بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر بھائی ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد سمیت اردگرد کے اضلاع کی جیلوں میں گئے اور اپنے بھائی کا پتہ کیا لیکن کہیں سے کوئی سراغ نہ ملا۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’اس نام اور ولدیت کا کوئی قیدی کسی جیل میں نہ تھا، جب عدالتوں سے پتہ کیا کہ اس نام کے کسی قیدی کو سزا ہوئی ہے کیا، تو کسی عدالت سے کوئی ایسا ریکارڈ نہ ملا جس سے ہماری پریشانی میں اضافہ ہو گیا۔‘
پولیس کے مطابق مقتول کے بھائی بشیر احمد نے بتایا کہ بھائی کو گم ہوئے ایک ماہ ہو چکا تھا، اسی تلاش میں ہم بھائی کے اس گھر میں پہنچ گئے جہاں وہ رہتے تھے اور بھابھی و بچے اب اس گھر کو چھوڑ چکے تھے۔
’اتفاق سے اس مکان میں ابھی نئے کرائے دار نہیں آئے تھے اور یہ بند پڑا تھا۔ بشیر اور ان کے بھائیوں نے مکان کی تلاشی لی تو صحن کی مٹی ایک جگہ سے نرم لگی، بارش کے پانی کی وجہ سے صحن کا وہ حصہ کچھ بیٹھ چکا تھا۔‘
پولیس نے کھدائی کرنا شروع کی تو نیچے سے لاش برآمد ہو گئی، اس پر انھوں نے فوری طور پر مقامی پولیس کو اطلاع کر دی۔ پولیس کی موجودگی میں کھدائی کی گئی تو حق نواز کی لاش برآمد ہو گئی جنھیں مبینہ طور پر قتل کر کے صحن میں دفن کر دیا گیا تھا۔
خاتون نے مکان کیوں بدلا؟
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے پولیس کو حراست میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاوند مبینہ طور پر نشہ کرتے اور اکثر مار پیٹ کرتے جس سے تنگ آ کر اُنھوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ خاوند کو قتل کر کے گھر کے صحن میں دفن کرنے کے بعد ان کا اسی گھر میں رہنا عذاب بن چکا تھا۔
’حق نواز کو قتل کرنے کا منظر بار بار آنکھوں کے سامنے گھومتا، جب صحن میں جاتی تو یوں لگتا کہ حق نواز ابھی زمین سے باہر نکل آئے گا اور گلا دبا دے گا، جب رات کو اندھیرا ہو جاتا تو گھر میں رہنا ایسے لگتا جیسے قبرستان میں آ گئے ہوں، ایسے میں یہی فیصلہ کیا کہ یہ گھر ہی چھوڑ دوں تاکہ ایسے خیالات نہ آئیں۔‘