پاکستان میں گن کلچر: اسلحے کی نمائش کے جنون کی وجہ کیا ہے اور اسے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

’کوئی آپ کو روکے اور آپ سے کچھ پوچھے تو آپ اس کی جان لے لیں گے۔ یہ کونسا کلچر ہے۔ آج میرا بیٹا مرا ہے نہ، کل کسی کا بھی ہوسکتا ہے،‘ صابر علی خان نے روتے ہوئے یہ بات کہی۔

ان کے پاس بیٹھی ہوئی خاتون تسلیم نے کہا کہ ’ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہمارے پوتے کے لیے نہ رویا ہو، یا کسی نے نہ پوچھا ہو کہ یہ کیوں ہوا۔ اور اس بچے کا کیا قصور تھا؟ اور اسلحے کی نمائش کرنے کا فائدہ آخر کس کو ہوا؟ ہمارا تو پوتا چلا گیا۔‘

26 مئی کو صابر علی خان اور تسلیم کے پوتے 20 سالہ جزلان فیصل خان کو ایک معمولی سی بات پر بحث کے بعد ایک اور نوجوان لڑکے نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں جزلان کے 20 سالہ دوست شاہ میر کو بھی گولی چھو کر گزری لیکن وہ بچ گئے۔

یہ واقعہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں پیش آیا جس میں جزلان اور محمد حسنین کے درمیان موٹر بائیک تیز چلانے پر نوک جھوک ہوئی۔ پولیس کے مطابق بات بڑھنے پر حسنین نے اپنے بھائی اور دوستوں کو بلایا جن کے سامنے جزلان کو گولیاں ماری گئیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ یہ سارے بچے پڑھے لکھے اور امیر خاندانوں سے ہیں۔

تسلیم نے کہا کہ ’یہ کیسا نظام ہے کہ معمولی سی جھڑپ پر آپ بندوق نکال لیں گے۔ اور ان بچوں کے والدین کیا کر رہے تھے جن کو پتا ہی نہیں تھا کہ بچے باہر کیا کر کے آ گئے ہیں۔‘

صابر علی خان نے کہا کہ ’اس معاملے میں ان بچوں کے والدین اور سرپرستوں کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے۔ کیا ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان بچوں کے پاس اتنا جدید اسلحہ تھا؟ ان بچوں کی جرات کیسے ہوئی کسی کی جان لینے کی؟‘

اس واقعے کے بعد سے نوجوان لڑکوں کے پاس بندوقوں کی موجودگی کے بارے میں بحث چھڑ چکی ہے لیکن اگر سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش کرنا کوئی خاص حیرانی کی بات نہیں لگتی۔

مثال کے طور پر بہت سے نوجوان اپنے سوشل میڈیا صفحات پر نہ صرف اپنے پاس رکھے ہوئے اسلحے کی نمائش کرتے نظر آئیں گے بلکہ ان سوشل میڈیا پوسٹس کے نیچے ان نوجوانوں کو ان کے دوست احباب سراہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

’ایک ہوائی فائر کریں تو کوئی لڑنے نہیں آئے گا‘

اس کے بارے میں جب اسلام آباد اور راولپنڈی میں لوگوں سے بی بی سی نے سوال پوچھا کہ ایک عام شہری کو اسلحہ رکھنا چاہیے یا نہیں؟ تو زیادہ تر جواب یہی ملے کہ اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھنا چاہیے۔

پنڈی کی ایک موبائل کی دکان کے سامنے کھڑے ایک لڑکے نے کہا کہ ’آپ ایک ہوائی فائر کریں تو کوئی بھی آپ سے لڑنے کے لیے نہیں آئے گا۔‘

ایک اور نے کہا کہ ’اسلحہ لائسنس والا ہو یا نہ ہو، نہیں رکھنا چاہیے، کیونکہ انسان غصے میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ کب کس پر فائر کھول دے نہیں کہہ سکتے۔‘

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے زیادہ تر لڑکیوں نے کہا کہ اسلحہ رکھنا صحیح نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں کسی کی ہلاکت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک طالبعلم نے کہا کہ ’اپنی حفاظت کے لیے بندوق رکھنا برا نہیں ہے، لڑکیوں کو بھی رکھنی چاہیے۔‘

دوسری جانب ایک خواجہ سرا نے کہا کہ اسلحہ رکھنے کی قانون میں اجازت ہے لیکن اس کا استعمال بھی ’قانونی‘ ہونا چاہیے۔ ’قانونی استعمال یہی ہوتا ہے کہ ضرورت کے تحت اپنی حفاظت کے لیے رکھیں۔ اب بہت سے لوگ شو آف کرنے کے لیے رکھتے ہیں اور بعد میں تصویریں لگاتے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھنا صحیح ہے لیکن کسی کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے لیے رکھنا صحیح نہیں ہے۔‘

اس کے علاوہ باقی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اسلحہ رکھنا ’ذاتی دشمنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔‘

اس میں زیادہ تر لوگوں نے گاؤں دیہات بلکہ شہروں میں بھی ذاتی دشمنی ہونے کا حوالہ دیا جس کے نتیجے میں وہ اب اسلحہ خریدنے اور ساتھ رکھنے پر مجبور ہیں۔

لیکن وہ کیا وجوہات ہیں جو کسی شخص کو اسلحہ خریدنے یا اس کی نمائش کرنے کی طرف لے جاتے ہیں؟

بی بی سی نے پاکستان میں رہائش پذیر ایک شخص سے بات کی جس نے اپنی شناخت چھپانے کو ترجیح دی۔

اس شخص نے بتایا کہ اسلحہ رکھنے کا شوق اسے اپنے والد اور دادا کو دیکھ کر ہوا۔ ’ہمارے خاندان میں بندوقیں رکھنے کا رواج ہے۔ اور ان میں سے زیادہ تر شکار پر جانے والی رائفل ہیں۔ لیکن مجھے نائن ایم ایم اور دیگر پستول رکھنے کا شوق حال ہی میں ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اپنی تصویریں لگا کر انھیں ’محفوظ ہونے کا احساس ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میری پروفائل دیکھنے والے کو فوراً پتا لگ جائے گا کہ اس شخص سے دشمنی مول لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔‘

’ہتھیار مرد کا زیور ہے اور غصہ اور طاقت مردانگی ہے‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے سماجی تجزیہ کار عدیل افضل نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ غصہ اور طاقت کو مردانگی سے جوڑنے کا رواج کب شروع ہوا۔

'ہتھیار مرد کا زیور ہے اور طاقت مردانگی ہے۔ ہمیں نہیں پتا کہ یہ بات ہماری سوچ کا حصہ کب بنی۔ ایک طرف یہ مرد کے کردار کو بہت محدود کر دیتی ہے اور سماج میں یہ تاثر بنتا ہے کہ مردوں کو خود کو اسی کردار میں ڈھالنا ہے۔ اور اگر وہ یہ خصوصیات نہیں رکھتا تو وہ مرد ہی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر فلموں اور موجودہ ادب کو دیکھیں تو اس میں صرف اسلحے کا استعمال دکھایا جاتا ہے۔ ’میڈیا میں ایسے مرد کو زیادہ دلفریب دکھایا جاتا ہے جو یا تو کسی کو مار رہا ہوتا ہے، یا تو شکست دے رہا ہوتا ہے یا پھر اسلحہ چلا رہا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میڈیا کے علاوہ ہم فٹبال یا کرکٹ کا میچ جیتتے ہیں تو ہوائی فائرنگ سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم شادی بیاہ میں جاتے ہیں تو ہوائی فائرنگ کرتے ہیں، ہم عید کا چاند دیکھتے ہیں تو فائرنگ کرتے ہیں۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہمیں دو بیانیے لے کر چلنا ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک طرف تو اسلحہ رکھنے کے قوانین کو مزید سخت کرنا ہوگا اور ساتھ میں ’عوام کو یہ باور کروانا ہوگا کہ اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش کرنا کوئی اچھی روش نہیں ہے۔‘

پاکستان میں اسلحے کی ملکیت کے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

اگر اسلحے کی ملکیت کا حساب رکھنے والے ادارے ’گن پالیسی‘ کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان میں عام شہریوں کے پاس چار کروڑ نو لاکھ سے زیادہ قانونی اور غیر قانونی اسلحہ ہے۔

ان میں سے صرف 60 لاکھ بندوقیں ایسی ہیں جو باقاعدہ طور پر درج شدہ یعنی رجسٹرڈ ہیں اور اگر لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والوں کی بات کریں تو ان کی تعداد صرف ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

ہر 100 میں سے 22 افراد کے پاس اسلحہ موجود ہے لیکن اعداد و شمار کے برعکس پاکستان میں کچھ لوگوں کے لیے اسلحہ رکھنا ایک شوق کی مانند ہے۔

سہیل وحید پچھلے 20 سالوں سے اسلحہ جمع کرتے آ رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک سب سے بڑی غلط بیانی یہ ہے کہ اسلحہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے رکھا جاتا یا استعمال کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بندوقیں ایک کھیل کے طور پر بھی رکھی جاتی ہیں اور شکار کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ تو یہ اپنی اپنی سوچ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں اپنے شوق کی خاطر کسی کو نقصان پہنچاؤں گا۔‘

پاکستان میں اسلحہ رکھنے سے متعلق کیا قوانین موجود ہیں؟

اس وقت پاکستان میں 1965 کا آرمز آرڈیننس موجود ہے۔ لیکن کرمنالوجسٹ اور سابق آئی جی سندھ ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ نظام میں کرپشن کے باعث یہ قانون عمل میں نہیں آتا۔

’آپ کتنے بھی قوانین متعارف کروا دیں، اس سے زیادہ فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ قانون نافذ نہیں ہو پاتا۔ نظام میں کرپشن کے باعث لوگ اسلحہ نہ صرف نکلوا لیتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ بندوقیں بغیر لائسنس کے بھی رکھ لیتے ہیں۔ تو مختلف مقامات پر سمجھوتہ ہو جاتا ہے اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام نہیں ہو پاتی۔‘

انھوں نے کہا کہ اکثر اوقات بندوق سے ہلاک کیے جانے والے واقعات کے پیچھے ذاتی دشمنی کا عنصر بھی ہوتا ہے۔ ’اب اس کی روک تھام کے لیے مقامی سطح پر کوئی عدالت کام نہیں کرتی تاکہ لوگوں کی آپس میں صلح صفائی کروائی جاسکے۔ اور ایسا نہ ہونے کے باعث لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔‘

شعیب سڈل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عام طور پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوپاتی۔ ’آپ ایک صفحہ کچھ عرصے کے لیے بند کرسکتے ہیں۔ لیکن یہاں لاکھوں ایسے صفحات موجود ہیں جہاں بچے بہت شوق سے بندوقوں کے ساتھ تصاویر لگاتے ہیں۔‘

’ان کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ اور ان مخصوص اکاؤنٹس کو تنبیہ کر کے چھوڑا جا سکتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔‘