علی رضا سدپارہ: ’استادوں کا استاد پہاڑوں کو بھی روتا چھوڑ گیا‘

،تصویر کا ذریعہNaila Kiyani
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
’آج صرف ہم ہی نہیں بلکہ پورا سدپارہ، سکردو، گلگت بلتستان، پاکستان اور دنیا بھر کے کوہ پیما اپنے چاچا سے محروم ہو گئے ہیں۔‘
یہ کہنا تھا گذشتہ روز زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہونے والے کوہ پیما علی رضا سدپارہ کے بھانجے یاسر حسین کا۔
کوہ پیما علی رضا سدپارہ سکردو کے قریب ایک پہاڑی پر ریہرسل کے دوران گہری کھائی میں گر کر زخمی ہوئے تھے۔ محمد علی رضا کے بھانجے یاسرحسین علی رضا کی زندگی پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرے ماموں ایک شفیق، محبت کرنے والے بہادر انسان تھے۔ علاقے کے کئی غریب لوگ اپنے مددگار سے محروم ہو گئے ہیں جو سب سے چھپا کر ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ کئی کوہ پیما اپنے شفیق استاد سے محروم ہو گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق غربت میں آنکھ کھولنے والے علی رضا نے ایک دن اپنے بیٹے کو تعلیم کی نصحیت کرتے ہوئے کہا کہ تم بس ڈاکٹر بن کر دکھانا، پیسوں کی فکر نہ کرنا تمھارا والد اب بھی سامان اٹھا کر آٹھ ہزار میٹر سر کر سکتا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری کرار حیدری کے مطابق علی رضا سدپارہ نے پاکستان میں موجود آٹھ ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیوں کو 17 مرتبہ سر کر رکھا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’شاید کسی اور کے لیے ان کا یہ ریکارڈ توڑنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔‘
دنیا بھر میں جب بھی کسی مقام اور جگہ پر کوہ پیمائی کا ذکر ہو گا تو گلگت بلتستان کے ضلع سکردو کے علاقے سدپارہ کا ذکر ضرور ہو گا۔ سکردو سے دس کلومیٹر دور چھوٹے بڑے دیہاتوں میں تقسیم سدپارہ جھیل کے کنارے واقع سدپارہ علاقے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو ایسے کوہ پیما دیے ہیں جنھوں نے کوہ پیمائی کی دنیا میں تاریخ رقم کی ہے۔
ان میں ایک علی رضا سدپارہ بھی تھے۔ جنھوں نے کوہ پیمائی کو اپنی زندگی کے 35 سال دیے۔ انھوں نے اپنے سوگواران میں چار بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNaila Kiyani
کے ٹو سر کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا
علی رضا سدپارہ کے قریبی دوست اور صحافی نثار عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’علی رضا ایک بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ اپنے پیسوں سے کوہ پیمائی جیسے مہنگے شوق کو پورا کر سکتے۔‘
ان کے مطابق ایک بار وہ ایک غیر ملکی کوہ پیما کے ساتھ کے ٹو سر کرنے کی بہت قریب پہنچ چکے تھے کہ غیر ملکی کو حادثہ پیش آیا اور پھر علی رضا کو واپسی کرنا پڑی۔
ابھی ان کا کے ٹو سر کرنے کا پلان اپنی ایک محنتی شاگرد اور پاکستان میں موجود آٹھ ہزار میٹر کی چوٹی کو پہلی مرتبہ سر کرنے والی پاکستانی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی کے ساتھ بنا تھا مگر اس پلان سے پہلے اس کی ریہرسل کے دوران ہی وہ جان لیوا حادثے کا شکار ہو گئے۔
یوں کے ٹو کی چوٹی علی رضا سدپارہ کے پاؤں چومنے سے محروم رہ گئی۔ نائیلہ کیانی کہتی ہیں کہ چاچا علی رضا نے چار آٹھ ہزار میٹر کی چوٹیوں کو سترہ مرتبہ سر کرنے کا نا قابل یقین ریکارڈ بنا رکھا ہے۔ مگر افسوس کہ ان کو ساری زندگی کوئی بھی اسپانسر نہیں مل سکا۔ جس وجہ سے وہ کے ٹو سر نہیں کرسکے تھے۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ کے ٹو کو سر کرتے۔ نائیلہ کیانی بتاتی ہیں کہ حادثے سے ایک روز قبل چاچا علی رضا سے میری بات ہوئی تھی۔ یہ بات میری ممکنہ آنے والی کے ٹو کی مہم جوئی کے حوالے سے تھی۔ اس مہم جوئی میں چاچا ہی تربیت کے علاوہ میری مدد کرنا تھی۔ مگر میں چاہتی تھی اور چاچا بھی چاہتے تھے ان کو کو کوئی اچھی اسپانسر شپ مل جائے۔ یہ چاچا کا بھی خواب تھا مگر افسوس کہ دنیا کا عطیم ترین کوہ پیما اور استادوں کے استاد کا یہ خوب پورا نہ ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا چاچا علی رضا کو کیوں اسپانسر شپ نہیں مل سکے یہ ہماری کوہ پیمائی کے لیئے ایک بڑا سوال ہے۔ ہمارے ملک کے لینڈ اسکیپ کی وجہ سے غیر ملکی پاکستان آتے رہیں گے اور شاید ہمارے کوہ پیماوں کی قسمت میں صرف ان کی مدد کرنا ہی رہ گیا ہے ۔ نائیلہ کیانی کہتی ہیں کہ اگر چاچا کو کوئی اسپانسر شپ ملتی تو وہ اتنے بڑے کوہ پیما تھے کہ وہ دنیا کی ساری قابل ذکر چوٹیاں سر کرلیتے۔ اب جب میں کے ٹو کی چوٹی کی مہم پر جاوں گئیں تو یہ مہم میں چاچا علی رضا سدپارہ کے نام پر کروں گئیں۔ جب میں تربیت کروں گئیں اور مہم پر ہوں گئیں تو چاچا بہت یاد آئیں گے۔ وہ نہ صرف ہم لوگوں کہ ہی شفیق استاد اور چاچا نہیں تھے بلکہ اپنے خاندان سے محبت کرنے والے اور ان کے لیئے قربانیاں دینے والے بھی تھے۔
’استادوں کا استاد پہاڑوں کو بھی روتا چھوڑ گیا‘
علی رضا سدپارہ کی جدائی پر جہاں پہاڑ غمگین ہیں وہیں محمد علی سدپارہ کے بیٹے کوہ پیما ساجد سدپارہ بھی گہرے دکھ میں ہیں۔
خیال رہے کہ کچھ عرصے قبل ساجد کے والد کے ٹو سر کرتے ہوئے پہاڑوں کو الوداع کہہ گئے تھے اور برف پوش کے ٹو میں ہی برف کی چادر اوڑھ کر وہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گئے۔
ساجد سدپارہ کہتے ہیں کہ ’میرے والد محمد علی سدپارہ اور علی رضا سدپارہ تقریباً ہم عمر اور دوست تھے مگر میرے والد علی رضا سدپارہ کو ہمیشہ اپنا استاد قرار دیتے تھے۔ ان کے مطابق علی رضا سدپارہ کوہ پیمائی میں استادوں کے استاد تھے۔ بڑے بڑے کوہ پیما ان سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ وہ ہر ایک کی مدد کر کے خوش ہوتے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’استادوں کے استاد چاچا علی رضا سدپارہ پہاڑوں کو بھی روتا چھوڑ گئے ہے۔‘
ساجد سدپارہ کہتے ہیں کہ ’مجھے میرے والد نے بتایا تھا کہ انھوں نے کوہ پیمائی کی بنیادی تربیت چاچا علی رضا سدپارہ سے حاصل تھی۔ علی رضا سدپارہ نے والد سے پہلے کوہ پیمائی شروع کردی تھی، کوہ پیمائی کی ابتدائی تربیت کے بعد میرے والد کو مختلف کوہ پیماؤں سے بھی انھوں نے متعارف کرایا تھا۔‘
’سب سے بہتر تو چاچا علی رضا سدپارہ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہNaila Kiyani
نائلہ کیانی بتاتی ہیں کہ جب میں نے پاکستان میں آٹھ ہزار میٹر کی چوٹی کو سر کرنے کا منصوبہ بنایا تو میرا پہلا رابطہ کوہ پیما سرباز خان سے ہوا تھا۔ اس مشن کے لیے میں نے تربیت شروع کرنا تھی تو مجھے سرباز خان نے مشورہ دیا کہ ’سب سے بہتر تو چاچا علی رضا سدپارہ ہیں۔‘
نائلہ کیانی علی رضا سدپارہ کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتی ہوئے بتاتی ہیں کہ ’چاچا سے میری جب پہلی ملاقات ہوئی تو میں بہت سہمی ہوئی تھی۔ انھوں نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور کہا کہ اگر میں حوصلہ اور محنت کروں تو میں یہ سب کچھ کرسکتی ہوں، اور انھوں نے مجھے تربیت دینے کا آغاز کر دیا۔‘
نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ ’ان کی تربیت کا پہلا نکتہ حفاظتی اقدامات پر ہوتا تھا۔ دوران تربیت میرے ساتھی کوہ پیما نے رسی پر چڑھتے ہوئے پھسل گئے تھے۔ وہ دو تین میڑ پھسلے تو رسی پر چاچا کی جانب سے لگائی گئی سیفٹی پر رک گئے۔
چاچا سیفٹی لگانا نہیں بھولتے تھے۔ اس موقعہ پر وہ غصہ میں آ گئے اور کہا کہ ہمیں احتیاط کرنا ہو گی۔ ہر صورت میں حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ چاچا سے صرف ان کے شاگرد ہی نہیں سیکھتے تھے بلکہ ہر کوئی سیکھ سکتا تھا۔ ’ہمیں جب وہ تربیت دے رہے تھے تو اس موقع پر انھوں نے وہاں پر کئی نوجوانوں کو تربیت فراہم کی تھی، وہ کھلے عام کہتے تھے اگر کسی کو کچھ سیکھنا اور پوچھنا ہے تو آجائے اور انھیں شوق سے سکھاتے تھے۔
یہاں تک کہ ہمیں وہ دوران تربیت لے کر ٹریکنگ وغیرہ پر جاتے تو وہاں پر مختلف لوگ، ملکی اور غیر ملکی کوہ پیما موجود ہوتے جو ان سے پوچھتے اور وہ سب کی خوش دلی سے مدد کرتے تھے۔ شاید اسی رویہ کی بدولت وہ سکردو کے چاچا تو تھے ہی مگر دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے بھی چاچا بن گئے تھے۔‘
نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ تربیت کے بعد آٹھ ہزار میڑ سے بلند چوٹی سر کرنے میں میری معاونت بھی چاچا علی رضا سدپارہ نے کی تھی۔
’کیمپ اور مہم کے دوران اکثر کوہ پیما سر، کمر میں درد اور تھکاوٹ کی شکایت کرتے مگر میں نے کبھی بھی چاچا کو شکایت کرتے نہیں دیکھا وہ ہر وقت فعال ہوتے تھے۔‘
نائلہ بتاتی ہیں کہ ’علی رضا سدپارہ کیمپ میں کوہ پیماؤں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہوتے تھے کہ اٹھو کام کرنا ہے، مشن مکمل کرنا ہے۔ ان کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہوتی تھی، جو حوصلہ ہارنے والوں کا بھی حوصلہ بلند کر دیتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہNaila Kiyani
’مصیبت میں بھی مسکرانے کا فن جانتے تھے‘
نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ ’ہم لوگ جب چوٹی سر کررہے تھے تو ایسے مشکل مراحل میں زندگی داؤ پر لگی ہوتی ہے اور ایسے موقع پر ہنسنا اور مسکرانا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے مراحل پر چاچا ایک دم کوئی ایسی بات کرتے اور لطیفہ سناتے کہ ہم کھلا کھلا کر ہنس پڑتے اور تمام فکر ختم ہو جاتی اور اس مرحلے سے گزر جاتے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ہمارے قریب سے گزرنے والے غیر ملکی کوہ پیما ہمیں دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے کہ یہ کون لوگ ہیں جو ان مشکل ترین مراحل میں بھی قہقے لگا رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں۔
غیر ملکی کوہ پیماؤں کی زندگیاں بچائیں
نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ ایک واقعہ میرے سامنے ہوا ہے جبکہ کئی واقعات چاچا علی رضا نے خود سنائے اور کئی واقعات دوسرے لوگوں سے سنے ہیں، جس میں انھوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچایا ہے۔
نائلہ کیانی اپنی آنکھوں دیکھے واقعے کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ ہمارے گذشتہ سال کے مشن کے دوران ایک غیر ملکی کوہ پیما کا پاؤں غلط جگہ پڑ گیا۔ کوہ پیما غالباً یہ سمجھا ہو گا کہ نیچے ٹھوس برف ہے مگر وہ ٹھوس نہیں تھی، پاؤں پڑنے کے بعد وہ نیچے پانی میں ڈوب گئے۔
نائیلہ کیانی کہتی ہیں کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے چاچا علی رضا نے اس پانی میں چھلانگ لگا دی۔ اسے نکالا، وہ کوہ پیما مکمل طور پر پانی میں بھیگ چکے تھے۔ اس کے سارے کپڑے تبدیل کروائے۔ پھر اس کو نصیحت کی وہ بری طرح بھیگ ہیں اور مزید اوپر جا کر بیمار ہو جائیں گے لہذا نیچے جائیں اور تیاری کر کے دوبارہ اوپر آئیں۔

،تصویر کا ذریعہNaila Kiyani
نائلہ کیانی کا کہنا ہے کہ ’خطروں کے اس کھیل میں ایسے موقع پر کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا کیونکہ اس سے اپنی زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے مگر ہمارے چاچا ایسے ہی کرتے تھے۔‘
نائلہ کیانی کہتی ہیں کہ اس طرح ایک اور سفر میں انھوں نے دیکھا کہ ایک غیر ملکی خاتون کوہ پیما کی حالت غیر ہوچکی ہے۔ اس خاتون کوہ پیما نے اپنا سامان بھی خود اٹھایا ہوا تھا۔ اس کی زندگی داؤ پر لگ چکی تھی۔ اس موقع پر چاچا نے ایک مرتبہ پھر ایک قیمتی جان بچانے کی ٹھان لی جبکہ اس وقت انھوں نے پہلے ہی ایک غیر ملکی کوہ پیما کا سامان اٹھایا ہوا تھا۔
انھوں نے خاتون کوہ پیما کا سامان بھی اٹھا لیا اور ان کو بھی اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر کسی نہ کسی طرح نیچے لے آئے۔
انھوں نے بتایا کہ ’خاتون کوہ پیما ان کی بے حد مشکور ہوئیں اور انھوں نے بڑی رقم کی پیش کش کی تھی مگر چاچا پیشہ ور کوہ پیما اور بلندی پر پورٹر کی مدد فراہم کرنے کا مشکل کام کرتے تھے، نے جان بچانے کے عوض رقم وصول کرنے سے صاف انکار کیا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
فیس کی رقم اہلیہ کے علاج پر خرچ کردی تھی
نائلہ کیانی بتاتی ہیں کہ وہ اپنے خاندان، اپنے بچوں اور اپنی اہلیہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ گذشتہ سال ہی وفات پا گئیں تھیں۔ اس پر وہ بہت غمگین تھے۔ میری جب بھی ان سے بات ہوتی تو اپنی مرحومہ اہلیہ کا بہت ذکر کرتے تھے۔
نائلہ کیانی کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ آٹھ ہزار میٹر کی چوٹی فتح کرنے کے بعد چاچا کو مناسب فیس ملی تھی۔ کچھ عرصے بعد میری بات ہوئی تو میں نے مذاق مذاق میں کہا کہ چاچا وہ پیسے اڑا تو نہیں دیے تو وہ کہنے لگے ارے نہیں بس میری بیگم بیمار ہیں ان کے علاج پر خرچ ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNaila Kiani
غریبوں کی مدد کرنے والے علی رضا سدپارہ
نثار عباس نے علی رضا سدپارہ کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ علی رضا غریب ضرور تھے مگر دل کے بہت امیر تھے۔ وہ ہزار روپے کے دس دس کے نوٹ لے کر جیب میں رکھتے تھے اور جہاں کہیں کوئی بچہ یا ضرورت مند نظر آتا جیب میں ہاتھ ڈال کر فوراً ان کی مدد کرتے۔
ان کے مطابق وہ کئی غریب گھرانوں تک پہنچ کر بھی مدد کرتے تھے۔ جب علی رضا کے پاس پیسہ پہنچتا تھا تو غریبوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ اب اپنی جمع پونجی تقسیم کرنے کے بعد علی رضا کسی پہاڑوں کے دامن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموشی سے سو گئے ہیں۔ مگر جو پیار انھیں غریبوں سے ملا اس پر کے ٹو کی چوٹی کو بھی رشک آتا ہو گا۔‘

























