آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ورچوئل عدالت: کیا پاکستان میں عدالتیں لائیو سٹریمنگ کی طرف بڑھ رہی ہیں؟
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان میں تقریباً روزانہ اخبارات کی شہ سرخیوں میں آنے والے عدلیہ کے مختلف مقدمات میں فیصلوں اور ججز کے ریمارکس پر بحث ہوتی ہے۔ فیصلوں سے قبل ججوں کے ریمارکس چند سیکنڈز میں ہی میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ ٹی وی چینل، ویب سائٹ اور پھر اگلے روز اخبارات میں یہی ریمارکس دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک کے جج شاید ابھی اتنے ’خوش قسمت‘ نہیں ہیں کہ ان کی پل پل کی خبر عام ہو سکے۔ اس کی وجہ وہاں سیاسی نوعیت کے مقدمات کی بھرمار کا نہ ہونا بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم کورونا وائرس کی وبا نے جہاں دنیا بھر پر کئی اثرات مرتب کیے ہیں وہیں اس وبا نے عدالتی کلچر پر بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک جہاں پہلے سے عدالتی سماعت کے دوران ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جاتا تھا اب باقاعدہ ورچوئل سماعت کے انتظامات کیے جا چکے ہیں۔ اب دوران سماعت جج کب پانی پی رہے ہیں اور کب کسی وکیل، پولیس والے یا کسی دوسرے افسر کو ڈانٹ پلا رہے ہیں، یہ سب عوام دیکھ سکتے ہیں یعنی سماعت کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال عوام تک پہنچ رہی ہے۔
اس طریقہ کار نے وکلا، صحافیوں اور عام سائلین کے لیے بھی سہولیات پیدا کی ہیں۔ اب اگر چیف جسٹس آف پاکستان اسلام آباد بیٹھے مقدمات کی سماعت کر رہے ہوتے ہیں تو ان مقدمات میں پیش ہونے والے وکلا کراچی، لاہور اور پشاور سے دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔
قانونی ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت جب کراچی سے ایک وکیل کے لیے اسلام آباد پہنچ کر سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی شرط نہیں ہو گی تو لامحالہ عام سائل پر بھی اضافی فیس ادا کرنے اور سفر کے اخراجات کا دباؤ نہیں ہو گا اور ایک معذور سائل بھی اپنے مقدمے کے بارے میں گھر بیٹھے سب جان سکے گا۔
پاکستان میں جہاں ورچوئل سماعت ہو رہی ہے وہیں انڈیا ایک قدم آگے بڑھ کر لائیو سٹریمنگ پر جا چکا ہے۔
انڈیا کی سپریم کورٹ نے سنہ 2018 میں ہی عدالتی کارروائی کی لائیو سٹریمنگ کی منظوری دے دی تھی۔ تاہم جج وکلا کو ویڈیو کے ذریعے دلائل دینے کا موقع دینے کو تیار تھے یا نہیں مگر کورونا وائرس نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ یہ اور بات ہے کہ اس دوران یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ وکلا جس طرح خوب تیار ہو کر عدالتوں کا رخ کرتے ہیں وہ ورچوئل سماعت میں اپنے لباس کا اتنا خیال نہیں رکھ پاتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں تو دو دلچسپ واقعات بھی پیش آئے جب ایک بار ایک وکیل بغیر شرٹ پہنے ہی دلائل دینا شروع ہو گئے جبکہ ایک اور وکیل کو دلائل دیتے ہوئے حقہ پیتے ہوئے دیکھا گیا۔
گذشتہ دہائی میں ’لائیو لاء‘ اور ’بار اینڈ بینچ‘ جیسی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور سمارٹ فون کی بھرمار نے عدالتی کوریج پر دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔
انڈیا میں بھی اب یہ رپورٹنگ صرف ججوں کے فیصلوں، آبزرویشن یا عدالت میں ہونے والے تبادلہ خیال تک محدود نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیے
لائیو لاء کے مینیجنگ ایڈیٹر مینو سیباستیان کی رائے میں اس سب نے عدالتی کوریج سے متعلق بھی آگاہی پیدا کی ہے اور اب لوگوں کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ عدالتوں میں کیا چل رہا ہے۔
’باراینڈ بینچ‘ کے شریک بانی ششیرا ردرپا کا کہنا ہے کہ اب انڈیا کی عدالتوں پر بھی وہ وقت قریب ہے جب عدالتی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں گی۔
گذشتہ برس انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک جج، جسٹس ڈی وائے چندراچد نے کہا تھا کہ لمحہ بہ لمحہ تازہ صورتحال پر رپورٹنگ عدالت کی ورچوئل توسیع کے مترادف ہے۔
اپنے ایک بیان میں چیف جسٹس این وی رمانا نے لائیو سٹریمنگ کو دو دھاری تلوار قرار دیا ہے، تاہم انھوں نے ججز کو خبردار بھی کیا کہ جج عوامی رائے سے متاثر نہیں ہوتا۔
کیا پاکستان میں بھی لائیو سٹریمنگ ممکن ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تو عدالتی سماعت کے لیے لائیو سٹریمنگ تک کے بھی انتظامات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ تاہم پاکستان میں عدلیہ اس حوالے سے ابھی تک زیادہ آمادہ نظر نہیں آتی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں پارلیمنٹ کی کارروائی کی لائیو سٹریمنگ کی جاتی ہے مگر عدالتوں میں ابھی بھی یہ کلچر عام نہیں ہوا۔ البتہ کورونا وائرس کے دوران عدالتیں اس جانب ایک قدم آگے بڑھی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنی عدالت سے لائیو سٹریمنگ کے لیے آلات نصب کرا دیے ہیں تاہم ابھی اس متعلق طریقہ کار طے کرنے کے لیے انھوں نے ایک کمیٹی بنا دی ہے جس میں ہائی کورٹ کے ایک جج کے علاوہ وکلا اور صحافیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس کمیٹی کا کام لائیو سٹریمنگ کے اصول اور ضابطے طے کر کے سفارشات تیار کرنا ہے۔ عدالت نے عام لوگوں سے بھی اس متعلق تجاویز طلب کی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں سیاسی رہنما بھی وقتاً فوقتاً اپنے مقدمات کی لائیو سٹریمنگ کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔
ایسا ہی مطالبہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خلاف قائم کیے جانے والے تین پانامہ ریفرنسز کے دوران بھی عدالتوں سے کیا تھا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام فیصلہ کریں کہ ان کے خلاف قائم بدعنوانی کے مقدمات میں کتنی حقیقت ہے تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
سپریم کورٹ میں بھی وکلا اور فریقین مختلف مقدمات میں لائیو سٹریمنگ کی درخواست کر چکے ہیں مگر ابھی تک عدالت نے ان درخواستوں پر زیادہ غور نہیں کیا ہے۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے ریفرنس اور سنہ 1990 کے انتخابات میں فوج کی طرف سے مبینہ دھاندلی کے اصغر خان کیس میں بھی عدالت سے لائیو سٹریمنگ کی استدعا کی گئی تھی مگر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یہ کہہ کر ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا کہ ابھی پاکستان کی عدالتیں مغربی ممالک کی طرح اتنی ایڈوانس نہیں ہیں۔
لائیو سٹریمنگ سے فائدہ کیا ہو گا؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جب اپنی عدالت میں لائیو سٹریمنک کے آلات نصب کرائے تو اس کے بعد انھوں نے میڈیا کے لیے ایک بیان بھی جاری کیا۔ ان کے مطابق بہت سارے مقدمات کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ جس میں فریق لائیو سٹریمنگ کے حق میں نہیں ہوتے۔
یہی وجہ ہے کہ عدالت نے ضابطہ کار طے کرنے کے لیے ایک ای-کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
اس کمیٹی میں شامل ہائی کورٹ بار جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے کہا ہے کہ عدالت جہاں ایک طرف عوام تک تمام حقائق پہنچانا چاہتی ہے وہیں فریقین کی پرائویسی جیسے حقوق کا بھی خیال رکھ رہی ہے۔
ان کے مطابق ابھی کمیٹی ان خطوط پر ہی کام کر رہی ہے تاکہ ایسے رولز بنائے جا سکیں جن سے کسی کا حق بھی متاثر نہ ہو اور عوام تک اہم مقدمات کی سماعت بھی براہ راست پہنچائی جا سکے تا کہ وہ عدالت میں ہونے والی کارروائی کو گھر یا دفتر بیٹھے بھی دیکھ سکیں۔
حکام کے مطابق لائیو سٹریمنگ کی سہولت سے عوام، میڈیا اور وکلا بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔
اس سے عدالت میں آنے والوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے اور سیکیورٹی کا چیلنج بھی کم سے کم ہو گا۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے عدالتی کارروائی کا احوال
پاکستان میں جہاں ایک طرف روایتی میڈیا عدالتی کوریج کو یقینی بناتا ہے تو دوسری طرف اب یوٹیوبرز اور وی لاگرز بھی تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ عدالتی کارروائی کا مکمل احوال عوام تک پہنچا رہے ہیں۔
ان یوٹیوبرز کو سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد فالو کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان وی لاگرز کی خبریں روایتی میڈیا سے بھی زیادہ وائرل ہوتی ہیں اور انھیں سننے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
آزاد ایڈیٹیوریل پالیسی کے تحت یہ وی لاگرز ججوں کے طرز عمل اور سوچ کے زاویے تک پر بھی بات کرلیتے ہیں اور یہ تجزیہ بھی دے دیتے ہیں کہ کون سے جج نے خاص مقدمے میں کونسی پوزیشن اختیار کرنی ہے۔
سوشل میڈیا پر خبروں کی اس قدر پذیرائی کو دیکھ کر روایتی میڈیا نے بھی اپنی ڈیجیٹل کوریج کا دائرہ کار وسیع کیا ہے اور اب فیس بک لائیو اور ٹوئٹر سپیس کے ذریعے بھی عدالتی کارروائی کا احوال پیش کیا جاتا ہے۔