کراچی کے علاقے صدر میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم سندھ ریولوشنری آرمی کون ہے؟

کراچی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات کی رات بم دھماکے کے ذمہ داری کالعدم سندھ ریولوشنری آرمی نامی عسکریت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔ اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے۔

یہ بم دھماکہ جمعرات کی رات کو تقریباً 11 بجے کراچی کے ایک مصروف علاقے میں یونائیٹیڈ بیکری اور مرشد بازار کے قریب ہوا۔ یہاں آس پاس کھانے پینے کے ریستوران اور دودھ دہی کی دکانیں ہیں جہاں شام کے وقت آ کر لوگ بیٹھتے ہیں۔

جس جگہ دھماکہ ہوا اس وقت اُس مقام پر کوسٹ گارڈ کی گاڑی موجود تھی چنانچہ خیال کیا جا رہا ہے کہ نشانہ کوسٹ گارڈز تھے تاہم حکام نے اس حوالے سے تصدیق نہیں کی ہے۔ ضلع جنوبی کے ڈی آئی جی پولیس شرجیل کھرل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی ادارہ یا مخصوص گاڑی اس دھماکے کا ہدف تھا۔

تاہم سندھودیش ریولوشنری آرمی کے ترجمان سوڈھو سندھی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے ذریعے کوسٹ گارڈ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق ایس آر اے سندھ کی مکمل آزادی تک مزاحمتی جنگ جاری رکھنے کا عزم دُہراتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ سندھودیش ریولوشنری آرمی نے پاکستانی ریاست کے اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ کراچی میں اس سے قبل بھی سندھ ریولوشنری آرمی کارروایاں کرچکی ہے، جس میں 19 جون 2020 کو لیاقت آباد میں احساس پروگرام سینٹر کے باہر دستی بم حملہ کیا گیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور رینجرز اہلکار سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی روز شمالی سندھ کے شہر گھوٹکی میں صبح ساڑہ نو بجے کے قریب گھوٹا مارکیٹ کے علاقے میں رینجرز کی ایک گاڑی کے نزدیک دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں ایک راہ گیر مصطفی سمیت رینجرز کے دو اہلکار ظہور احمد اور فیاض شاہ ہلاک ہو گئے جبکہ سپاہی امتیاز حسین سمیت دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

دھماکہ

،تصویر کا ذریعہGoogle

،تصویر کا کیپشندھماکہ صدر کے ایک مصروف علاقے میں ہوا ہے

کالعدم تنظیم سندھو دیش ریولیشنری آرمی نے کراچی اور گھوٹکی میں رینجرز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ یہ حملے نیاز لاشاری کو قومی سلام پیش کرتے ہوئے کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کی مرکزی کمیٹی کے رکن نیاز لاشاری کی تشدد شدہ لاش قومی شاہراہ اور سپر ہائی وے لنک روڈ سے ملی تھی، ان کے ورثا کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ ڈیڑہ سال سے لاپتہ تھے۔

کراچی میں رینجرز کی گاڑی کے قریب دھماکے کے بعد سی ٹی ڈی کے مطابق، رینجرز اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم نے گلستان جوہر میں رابعہ سٹی کے قریب پہلوان گوٹھ کے علاقے میں کارروائی کی اور چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

سی ٹی ڈی ترجمان کا دعویٰ تھا کہ ملزمان کا تعلق ایس آر اے کے اصغر شاہ عرف سجاد شاہ گروپ سے ہے۔

کراچی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سندھو دیش ریولوشنری آرمی کون ہے؟

حکومت پاکستان نے گذشتہ ماہ تخریب کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں سندھو دیش ریولوشنری آرمی نامی گروپ پر پابندی عائد کی تھی۔

سندھ کے قوم پرست عسکریت پسند گروپ کا قیام 2010 میں عمل میں لایا گیا، کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ میں اندرونی اختلافات اس گروپ کے قیام کی وجہ بنی تھی۔ اس سے قبل تحقیقاتی ادارے کالعدم سندھ لبریشن آرمی کا تعلق جیئے سندھ متحدہ محاذ سے جوڑتے آئے ہیں۔

سندھو دیش ریولوشنری آرمی گلشن حدید میں چینی انجنیئروں کی گاڑی، سکھر میں سی پیک اہلکاروں سمیت کراچی میں ایک ایچ او اور رینجرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے، یہ عسکریت پسند گروپ چین پاکستان اقتصادی راہدری کا مخالف ہے اور سندھ کے معدنی وسائل پر مقامی حقوق کا حامی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

سندھو دیش ریولوشنری آرمی کو اصغر شاہ گروپ بھی کہا جاتا ہے، جس کا سربراہ شاہ عنایت کے نام سے پہچان رکھتا ہے۔ اصغر شاہ 2005 میں گرفتار ہوئے اور پانچ سال کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی جس کے بعد انھوں نے اپنا گروپ بنانے کا فیصلہ کیا۔

کالعدم سندھو دیش ریولوشنری آرمی کا کہنا ہے کہ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت مسلح جدوجہد سے دستبردار ہوگئے تھے، جبکہ اس عرصے میں ان کے 40 ساتھی ہلاک کیے گئے اور اس بات پر اختلافات سامنے آئے۔ واضح رہے کہ شفیع برفت اور ان کے ساتھی اس وقت جرمنی میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سندھ میں علیحدگی کی تحریک تو انیس سو ستّر سے جاری ہے لیکن اس میں مزاحمتی رنگ 2000 میں آیا جبکہ جئے سندھ متحدہ محاذ کا دوسرا جنم ہوا ہے۔

جی ایم سید، سندھ، پاکستان، قوم پرست، عبدالواحد آریسر
،تصویر کا کیپشن2015 میں وفات پا جانے والے قوم پرست رہنما عبدالواحد آریسر کی جماعت جسقم (آریسر) سندھ سے لاپتہ سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے بھی سرگرم تھی

نومبر 2000 کی سرد شام کو شفیع محمد برفت کی قیادت میں دو درجن افراد نے جیئے سندھ متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی۔

اس تنظیم کے آئین میں وہ تمام نکات شامل ہیں جو جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے رکھے تھے لیکن ایک نکتے کا اضافہ کیا گیا وہ تھا مزاحمت یا عسکریت پسندی۔

ابتدائی طور پر دادو کے علاقے میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن، حیدرآباد، کوٹڑی، خیرپور، نوشہرو فیروز اور جامشورو سمیت مختلف علاقوں میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کیے گئے اور ان واقعات کی ذمہ داری سندھ لبریشن آرمی نامی غیر معروف تنظیم قبول کرنے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔

2003 سے پاکستان کے ریاستی ادارے سرگرم ہوئے اور سندھ سے گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٹنڈو محمد خان، میھڑ، خیرپور ناتھن شاھ، حیدرآباد، خیرپور، شہدادکوٹ، رتودیرو سمیت کئی شہروں سے درجنوں قومپرست کارکن لاپتہ ہو گئے، جن میں سے کئی نے رہا ہونے کے بعد قومی دہارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

سندھ اور بلوچستان کے عسکریت پسند ساتھ ساتھ

سندھ ریولیشنری آرمی بلوچ عسکریت پسندوں کے اتحاد ’براس‘ کا بھی حصہ ہے جو بلخصوص سی پیک منصوبے اور چین کے علاقے پر اثر رسوخ کے خلاف بنایا گیا تھا۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کراچی خرم علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھ ریولوشنری آرمی پرانا عسکریت پسند گروپ ہے جو اس سے قبل سندھ کے دیگر شہروں میں سرگرم ہے۔

اس سے قبل سندھ کے سابق ایڈشنل آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی ڈاکٹر جمیل احمد نے دعویٰ کیا کہ کراچی اور گھوٹکی حملوں میں مقامی گروپ ملوث ہے، جس کو بلوچستان کے عسکریت پسندوں، پڑوسی ملک اور لندن گروپ کی حمایت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کو بلوچستان کے عسکریت پسندوں نے تربیت فراہم کی ہے اور جو باروی مواد استعمال کرتے ہیں وہ مقامی طور پر دستیاب نہیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں بلوچستان نیشنل موومنٹ اور جئے سندھ متحدہ محاذ باضابطہ اتحاد کرچکی ہیں جس میں سی پیک کے خلاف مشترکہ جدوجہد بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ماضی میں سندھی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کیے گئے حملے

یاد رہے کہ سنہ 2013 میں کراچی میں چین کے سفارتخانے کے باہر ایک ہلکی نوعیت کے دھماکے، 2016 میں کراچی کے علاقے گلشن حدید میں چینی انجینیئر کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے علاوہ سکھر کے قریب سی پیک منصوبے کے اہلکاروں پر حملے کی بھی ذمہ داری یہ گروپ قبول کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل حیدرآباد میں 1987 میں اس وقت کے میئر آفتاب شیخ پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس حملے کا الزام جیے سندھ کے کارکنوں پر ہی عائد کیا گیا اور پولیس نے مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ آفتاب شیخ کا تعلق مہاجر قومی موومنٹ سے تھا۔

اگلے سال ستمبر 1988 میں حیدرآباد میں نامعلوم مسلح افراد نے سڑکوں پر عام لوگوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 150 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے اور اس کا مقدمہ ڈاکٹر قادر مگسی، شفیع برفت اور دیگر کے خلاف دائر کیا گیا۔

بعد میں عدالت نے قادر مگسی کو بری کر دیا اور شفیع بُرفت مفرور رہے۔ قادر مگسی اِس وقت سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ہیں اور شفیع برفت کالعدم جیے سندھ متحدہ محاذ کی سربراہی کر رہے ہیں اور اس وقت جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔

جی ایم سید، سندھ، پاکستان، قوم پرست، عبدالواحد آریسر

،تصویر کا ذریعہAslam Khairpuri

،تصویر کا کیپشنجسقم کا گذشتہ سال کا ایک پوسٹر جس میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی ہے

جیے سندھ تحریک کیا ہے اور ان کے کیا مطالبات ہیں؟

تین مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی میں سندھ کے سینیئر سیاستدان جی ایم سید نے پاکستان کے قیام کے لیے قرارداد پیش کی تھی۔ سندھ یہ قرارداد پیش کرنے والا پہلا صوبہ تھا۔

مگر انھی جی ایم سید نے 1973 میں سندھو دیش یعنی سندھ کے ایک آزاد حیثیت میں قیام کا تصور پیش کیا تھا۔ سندھی ادیب اور تاریخ نویس خادم سومرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ ہی وقت ہے جب 1973 کا آئین پیش کیا گیا تھا۔

آئین سازی سے پہلے جی ایم سید نے ذوالفقار علی بھٹو کو صوبائی خود مختاری یقینی بنانے کے لیے اور مذہبی شدت پسندی اور آمریت کا راستہ روکنے کے لیے تجاویز پیش کی تھیں جنھیں نظر انداز کر دیا گیا۔

خادم سومرو کے مطابق آئین منظور ہونے کے بعد جی ایم سید بدظن ہوگئے۔ ان کا خیال تھا کہ اس آئین کے تحت سندھ کو کبھی حقوق نہیں ملیں گے اور آخرکار حیدرآباد میں طلبہ کے ایک پروگرام میں انھوں نے پہلی بار سندھو دیش کا تصور پیش کیا۔

کالعدم جیے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کے چیئرمین اسلم خیرپوری کا کہنا تھا کہ وہ جی ایم سید کے نظریے کے پیروکار ہیں جس کے تحت ان کی منزل سندھو دیش ہے۔

لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی جماعت پرامن جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ جی ایم سید نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا۔ انھوں نے 32 سال جیل اور نظر بندی میں گزار دیے لیکن تشدد کی حمایت نہیں کی۔