کراچی یونیورسٹی دھماکے میں ہلاک ہونے والے چینی شہری کون تھے؟

کراچی حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’پروفیسر ہوانگ گیپنگ نے منگل کو کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے خود کش دھماکے سے چند دن قبل ہی دوبارہ بحثیت ڈائریکٹر کے اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ پروفیسر ہوانگ گیپنگ کا شمار کراچی یونیورسٹی کے چینی زبان کے مرکز یعنی کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے بانی استادوں اور ڈائریکٹر میں ہوتا تھا۔ پروفیسر ہوانگ گیپنگ نے سنہ 2013 میں اس ادارے کا آغاز کیا تھا۔ کچھ عرصے تک خدمات انجام دینے کے بعد وہ واپس چین چلے گئے تھے۔‘

یہ کہنا تھا جواد رانا کا جن کا شمار کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے ابتدائی طالب علموں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے سنہ 2013 میں کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ سے چینی زبان کا کورس کیا تھا۔

جواد رانا کہتے ہیں کہ اس کورس کے دوران وہ تقریباً ایک سال تک پروفیسر ہوانگ گیپنگ سے رابطے میں رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'وہ انتہائی شفیق اور زبردست شخصیت کے مالک تھے۔ ایک نئے انسٹیٹیوٹ کو چلانا بہرحال ایک چلینج ہوتا ہے۔ پروفیسر ہوانگ کیپنگ اس چلینج پر نہ صرف پورے اترئے بلکہ انھوں نے اس کو ایک شاندار ادارہ بنایا تھا۔‘

واضح رہے کہ پروفیسر ہوانگ گیپنگ منگل کے روز کراچی یونیورسٹی کی حدود میں ایک خود کش حملے کے نتیجے میں دیگر دو چینی اساتذہ ڈنگ میوپنگ اور چن سائی کے ہمراہ موقع پر ہلاک ہوئے گئے تھے۔ دہشت گردی کے اس حملے میں پاکستانی ڈرائیور خالد سمیت مجموعی طور پر چار افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے۔

ان زخمیوں میں سے ایک اور چینی استاد وانگ یو پلیز اور پاکستانی محافظ حمید گل شامل ہیں۔

خیال رہے کہ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیجیئن ژاؤ نے کہا ہے کہ ’چین اس بڑے دہشتگرد حملے کی سخت مذمت اور اس بارے میں شدید برہمی کا اظہار کرتا ہے۔ چین ان بدقسمت ہلاک شدگان، زخمیوں اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔‘

چینی استاد

چین کے یہ استاد کراچی یونیورسٹی اور چین کی سیچوان نارمل یونیورسٹی کے درمیان ایک معاہدے کے تحت چینی زبان کی تعلیم دینے کے لیے کراچی یونیورسٹی میں موجود تھے۔ سیچوان نارمل یونیورسٹی نے یہ منصوبہ چین کی حکومت کے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت دیا ہے۔

جس میں سیچوان نارمل یونیورسٹی نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ سنٹر قائم کیے ہیں۔ جہاں پر پاکستانی طالب علموں کو مختصر اور لمبے دورانیہ کے چینی زبان کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔

جواد رانا کہتے ہیں کہ پروفیسر ہوانگ کیپنگ کے ہاتھوں کئی پاکستانیوں نے چینی زبان میں عبور حاصل کیا اور وہ اس وقت باعزت روزگار کما رہے ہیں۔

چینی استاد

،تصویر کا ذریعہNASEER GUL

،تصویر کا کیپشنپروفیسر ہوانگ گیپنگ نے سنہ 2013 میں اس ادارے کا آغاز کیا تھا اور کچھ عرصے خدمات انجام دینے کے بعد وہ واپس چین چلے گئے تھے

شاندار استاد اور دوستانہ ماحول میں تربیت

جواد رانا کہتے ہیں کہ پروفیسر ہوانگ کیپنگ اپنے شاگردوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'انھوں نے پورے ادارے کا ماحول مکمل طور پر دوستانہ بنا رکھا تھا۔ وہ ہر ایک طالب علم کو اس کے نام سے جانتے تھے۔ ہر ایک سے بات کرتے تھے۔ ہر ایک کا حال احوال پوچھتے تھے۔‘

جواد رانا کے مطابق پروفیسر ہوانگ طالب علموں سے زیادہ سے زیادہ چینی زبان میں بات کرتے تھے۔ اس طرح ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ طالب علم جلد ازجلد چینی زبان پر عبور حاصل کریں۔ اس کے لیے وہ سختی نہیں کرتے تھے بلکہ گپ شپ کے ماحول میں کوئی موضوع چنتے اور اس پر بات چیت شروع ہو جاتی تھی۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

جواد رانا کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیں چینی حروف تہجی سکھانے کے لیے تصاویر کا سہارا لیا تھا۔ وہ روایتی طور پر صرف لیکچر نہیں دیتے تھے بلکہ وہ مختلف طریقے استعمال کرکے عملی تربیت کے مواقع فراہم کرتے تھے اور اس کے لیے اکثر اوقات وہ چھوٹی موٹی پارٹی رکھتے تھے۔'

کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے طالب علم محب اللہ کہتے ہیں کہ 'میں اور ہمارے دیگر ساتھی طالب علم چینی لیکچرار چن سائی کے طالب علم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ 'شاندار شخصیت کی مالک اور محبت کرنے والی استاد تھی اور ان کی ہلاکت پر ہم سب سکتے کی کیفیت میں ہیں۔'

چینی استاد

عید ملن پارٹی کا وعدہ

محب اللہ کہتے ہیں کہ ہماری تمام چینی اساتذہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ ’وہ تمام تھے تو ہمارے استاد لیکن ان سے دوستی تھی، ہم لوگ کلاس کے بعد بھی ملتے تھے۔ یہ مواقع چینی اساتذہ خصوصاً چن سائی مہیا کرتی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے لیے مختلف تقریبات یا پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا۔ جس میں ہم لوگ پاکستانی کھانے پکاتے اور وہ چین کے پکوان تیار کرتے تھے۔‘

محب اللہ کہتے ہیں کہ ان پارٹیوں کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہم طالب علموں کو چین کی ثقافت اور کلچر سے روشناس کروایا جائے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے یہ اساتذہ پاکستان کے بارے میں بھی زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے۔

محب اللہ کا کہنا تھا کہ ادارے میں افطاری کا بھی پروگرام ہوا تھا۔ اس میں کئی طالب علم شریک نہیں ہوسکے تھے کیونکہ یہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ کئی طالب علموں کی عدم شرکت پر چن سائی نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ عید کے موقع پر عید ملن پارٹی رکھی جائے۔ جس پر ہم سب بڑے پر جوش تھے۔

محب اللہ اپنے شفیق اساتذہ کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد چینی زبان کے مرکز کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'اب اس حادثے کے بعد ہم نہیں جانتے کہ کیا ہوگا۔ ہمارا ادارہ دوبارہ کھل بھی سکے گا کہ نہیں اور اگر یہ کھل بھی گیا تو اس کا ماحول کیسا ہو گا۔'

چینی استاد

مستقبل میں چینی زبان پر عبور رکھنے والے کی بہت مانگ ہو گی

کراچی یونیورسٹی کے چینی زبان کے ایک اور طالب علم نثار اشتیاق کا کہنا تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والی چینی لیکچرار ڈنگ میوپینک 'اکثر ہمیں کہتی تھیں کہ ون بیلٹ ون روڈ کی وجہ سے آنے والے وقت میں چینی زبان پر عبور رکھنے والوں کی بہت مانگ ہوگی۔ اس لیے اگر ہم لوگوں کو اپنا مستقبل اچھا کرنا ہے تو ہمیں خوب محنت کرنی چاہیے۔'

نثار اشتیاق کہتے ہیں کہ لیکچرار ڈنگ میوپینک اور لیکچرار چن سائی کو دیکھیں تو دونوں ایک دوسری کی بہنیں لگتی تھیں مگر ایسا نہیں تھا۔ دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔

'ہمیں لگتا تھا کہ لیکچرار ڈنگ میوپینک بہت زیادہ پیشہ ورانہ انداز میں پڑھاتی تھیں۔ ان کا انداز کلاس کے اندر نو کمپرومائز والا ہوتا تھا جبکہ چن سائی کھلے ڈھلے انداز میں اپنا کام کرتی تھیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'مگر ایک بات دونوں میں مشترک تھی کہ وہ اپنے فرائض مکمل طور پر دیانت داری سے ادا کرتی تھیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا وہ کبھی تاخیر سے پہنچی ہوں۔ جس وجہ سے ہم لوگ بھی کلاس کی پابندی کرتے تھے۔'

نثار اشتیاق اس حملے میں زخمی ہونے والے چینی استاد لیکچرار وانگ یو پلیز کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

چینی استاد

،تصویر کا ذریعہNASEER GUL

کئی شاگرد برسرورزگار ہیں

جواد رانا کہتے ہیں کہ پروفیسر ہوانگ گیپنگ سے چینی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے کئی لوگ اس وقت برسرروزگار ہیں۔

نہ صرف یہ کہ برسر روزگار ہیں بلکہ وہ اپنے خاندانوں کو اچھی زندگی بھی فراہم کررہے ہیں۔ یہ سب لوگ اس وقت صدمے کی کیفیت میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے کے بعد تقریباً اپنے تمام کلاس فیلوز سے بات ہوئی ہے۔ ہر ایک کی رائے تھی کہ یہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہیں۔ اس طرح ایک استاد کا مارا جانا بہت افسوسناک ہے۔ سب ہی لوگ مارے جانے والوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔‘