پی ٹی آئی کے استعفے: ضلع ہنگو سے جیتنے والے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی کیا کریں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو نیوز، پشاور
- وقت اشاعت
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ایسے وقت میں کامیاب ہوئے ہیں جب ان کی جماعت کے بیشتر افراد نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفے دے دیے ہیں۔
اس کے علاوہ ہنگو سے ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بعض پولنگ سٹیشنز پر خواتین ووٹرز نے ووٹ نہیں ڈالے۔ اس حلقے سے اب تک کہ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح سات فیصد سے بھی کم ہے۔ تو ایسی صورتحال میں الیکشن کمیشن کے کیا کر سکتا ہے؟
پی ٹی آئی کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی کیا کریں گے؟
ڈاکٹر ندیم خیال اتوار کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 33 کے ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار دوسرے اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے امیدوار نے 20772 ووٹ حاصل کیے جبکہ جے یو آئی کے امیدوار نے 18224 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ تیسرے نمبر پر عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار نے 3314 ووٹ حاصل کیے۔
یہ نشست پی ٹی آئی کے رہنما خیال زمان کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی نے ضمنی انتخاب کے لیے ڈاکٹر ندیم خیال کو ٹکٹ دیا تھا۔
یہاں سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کہ بیشتر اراکین مشترکہ طور پر قومی اسمبلی سے استعفے دے چکے ہیں تو کیا نو منتخب رکن قومی اسمبلی ندیم خیال کامیابی کے بعد حلف لیں گے اور رکن قومی اسمبلی اس رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے یا وہ قومی اسمبلی میں اپنے حلقے کی نمائندگی کریں گے۔
الیکشن کمیشن سے باقاعدہ نتیجے کے اعلان اور نوٹیفیکیشن کے بعد نو منتخب رکن قومی اسمبلی کو ایوان سے حلف لینا ہوگا۔
اس بارے میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نو منتخب رکن قومی اسمبلی ندیم خیال حلف لینے کے بعد مستعفی ہو جائیں گے۔
سوشل میڈیا پر اس بارے میں کافی تنقید ہو رہی ہے کہ اگر استعفیٰ ہی دینا تھا تو پھر انتخابات میں حصہ کیوں لیا تھا اور یہ کہ ان انتخابات پر جو اخراجات آتے ہیں اس سے ملکی خزانے کو نقصان ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں ندیم خیال کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں کو معلوم ہے کامیابی کے بعد ندیم نے حلف لے کر استعفیٰ دے دینا ہے، لیڈر شپ پر ایسے اعتماد کی مثال نہیں ملتی۔‘
اس بارے میں ڈاکٹر ندیم خیال سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہنگو کے این اے 33 میں کل ووٹرز کی تعداد تین لاکھ اٹھارہ ہزار نو سو انیس ہے جس میں مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار پانچ سو تینتالیس جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ اٹھتیس ہزار تین سو چھہتر ہے۔
اس حلقے کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے گوشوارے کے مطابق ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد تینتالیس ہزار ایک سو اڑتالیس تھی جس میں چونتیس ہزار تین سو تین مرد اور آٹھ ہزار آٹھ سو پینتالیس خواتین ووٹرز ہیں۔
اس گوشوارے کے مطابق ووٹ ڈالنے کی کل شرح تیرہ فیصد سے کچھ زیادہ رہی ہے جبکہ خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شروع 6 فیصد تک بتائی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا ہے کہ الیکشن قوانین کے مطابق اگر کسی حلقے میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح 10 فیصد سے کم ہو تو الیکشن کمشنر اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کا حکم دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب الیکشن کمشنر کی صوابدید ہے کہ وہ اگر سمجھتے ہیں کہ دوبارہ انتخاب کرایا جائے یا جن پولنگ سٹیشنز میں خواتین نے ووٹ نہیں ڈالے یا مبینہ طور پر نہیں ڈالنے دیے گئے، ان پولنگ سٹیشنز پر ہی دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے اور یا پھر ان ہی نتائج کو تسلیم کر لیا جائے۔
ہنگو میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح کم کیوں؟
اتوار کو جب این اے 33 میں پولنگ جاری تھی تو بعض علاقوں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئیں کہ مبینہ طور پر مقامی قائدین نے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کر دیا ہے اور یہ متفقہ فیصلہ ہے۔
اس کے بعد اس کی وضاحت کی گئی کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ لیکشن کمیشن کے مقامی افسران کے مطابق خواتین ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ علماء کرام اور دیگر قائدین نے تو اعلانات کیے تھے کہ خواتین ووٹ ڈالنے کے لیے آئیں۔
سرکاری حکام نے بتایا کہ ایک دو ایسے پولنگ سٹیشن تھے جو مردوں اور خواتین کے لیے مشترکہ طور پر بنائے گئے تھے، ان میں ہنگو کا چھپری نریاب کا علاقہ تھا جہاں خواتین ووٹ ڈالنے نہیں آئیں۔
پاکستان کے بعض علاقوں میں خواتین کے ووٹ سے متعلق مردوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں یا انتخابی امیدوار متفقہ طور پر اس علاقے کے حالات کے مطابق یہ فیصلہ کر لیتے تھے کہ خواتین پولنگ سٹیشنز میں ووٹ ڈالنے نہیں جائیں گی۔ لیکن پھر الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین کے کم سے کم دس فیصد ووٹ ڈالنے کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد امیدوار بھی کوششیں کرنے لگے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح بڑھ سکے اور خواتین بھی اس میں شریک ہوں۔

























