قندیل بلوچ: لاہور ہائی کورٹ نے ماڈل اور اداکارہ کے قتل کے مرکزی ملزم کی سزا ختم کر دی

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بھائی محمد وسیم کی سزا ختم کرتے ہوئے انھیں بری کر دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جسٹس سہیل ناصر نے فریقین میں راضی نامہ ہونے اور گواہوں کے بیانات سے منحرف ہونے پر مرکزی ملزم کو بری کیا۔ یہ فیصلہ مرکزی ملزم محمد وسیم کی جانب سے ماڈل عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے دیا۔

ملزم محمد وسیم کی جانب سے ایڈوکیٹ سردار محبوب نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔

یاد رہے کہ ملتان کی ماڈل عدالت نے 27 ستمبر 2019 کو قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل کا فیصلہ سُناتے ہوئے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بھائی محمد وسیم کو عمرقید کی سزا سُنائی تھی۔

سوشل میڈیا پر اپنے بےباک انداز سے شہرت پانے والی قندیل بلوچ کو جولائی 2016 میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر میں موجود تھیں۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ انھیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو کرتے ہوئے قندیل بلوچ کے وکیل صفدر عباس شاہ نے بتایا کہ قندیل کے والدین کی جانب سے انھیں قندیل کا وکیل مقرر کیا گیا تھا جبکہ ایڈوکیٹ محبوب کو قندیل کے بھائیوں کا وکیل مقر کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’قندیل کے والدین کی جانب سے میں نے راضی نامہ جمع کروایا تھا کہ اگر عدالت وسیم کو بری کرتی ہے تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم اس کے بعد وسیم کے وکیل نے عدالت میں بریت کی رٹ دائر کی اور آج اسے بری کر دیا گیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’دو چیزوں کی بنیاد پر قندیل کے بھائی کو بری کیا گیا جس میں ہماری طرف سے جمع کرایا گیا راضی نامہ اور دوسرا عدالت میں پولیس کی جانب سے جمع کروائے جانے والا 164 کا بیان۔ ان کو بنیاد بناتے ہوئے وسیم کی جانب سے یہ کہا گیا کہ مجھے دھمکا کر پولیس نے اعترافی بیان لیا تھا جبکہ میں نے قندیل کو قتل نہیں کیا۔‘

ایڈوکیٹ صفدر عباس نے مزید بتایا کہ قندیل کے والدین چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے اس کیس سے بری ہو جائیں تاہم ایک مہینہ قبل قندیل کے والد کا بھی انتقال ہو گیا تھا جس کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ملتان کی ماڈل عدالت نے سنہ 2019 میں اس مقدمے کے ایک ملزم محمد عارف کو اشتہاری قرار دے دیا تھا جبکہ قندیل کے بھائی اسلم شاہین اور مذہبی سکالر اور پاکستان تحریک انصاف کے علما ونگ کے سابق رکن مفتی عبدالقوی سمیت پانچ ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

عدالت کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ محمد وسیم کو دفعہ 311 کے تحت عمرقید کی سزا سنائی جاتی ہے جبکہ استغاثہ دیگر ملزمان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

خیال رہے کہ محمد وسیم نے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ یہ جرم انھوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ 'قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھیں' تاہم بعد میں جب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تو انھوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

اس سے قبل قندیل کے والد نے عدالت سے محمد وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کرنے کی درخواست کی تھی جسے رد کر دیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے ملزمان میں قندیل کے دو بھائیوں محمد وسیم اور اسلم شاہین کے علاوہ ان کے قریبی رشتہ دار حق نواز، ظفر اقبال، محمد عارف، مفتی عبدالقوی اور عبدالباسط شامل تھے۔

محمد وسیم اور حق نواز اس مقدمے کے مرکزی ملزمان تھے جبکہ ملزم عبدالباسط ٹیکسی ڈرائیور تھا اور اُس پر الزام تھا کہ اس نے قندیل بلوچ کے قتل کے بعد محمد وسیم اور حق نواز کو فرار کروانے میں مدد کی تھی۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کو ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے ماڈل کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا تاکہ اس مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد کیا جا سکے۔اسی عدالت نے سنہ 2019 میں ہی مقتولہ کے والد کی جانب سے اپنے دونوں بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں صلح یا مدعی مقدمہ کی طرف سے معاف کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ قندیل بلوچ کو جب چھ سال قبل قتل کیا گیا تھا تو اس وقت مقتولہ کے والد اور مقدمے کے مدعی محمد عظیم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ قطعی طور پر ملزمان کو معاف نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

قندیل بلوچ کون تھیں؟

قندیل بلوچ کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کے ایک غریب خاندان سے تھا۔ ان کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا لیکن انھیں شہرت قندیل بلوچ کے نام سے ہی ملی۔

انھیں پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا سیلبریٹی کہا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر انھیں یہ شہرت اپنے اس بےباک انداز کی وجہ سے حاصل ہوئی جو بعد میں ان کے قتل کی وجہ بھی بنا۔

سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں کی تعداد ہزاروں میں تھی اور ان کے قتل سے قبل پاکستان میں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی دس شخصیات میں ان کا نام بھی شامل تھا۔

2014 میں شہرت ملنے کے بعد قندیل کی نجی زندگی کی معلومات بھی سامنے آئیں۔ یہ بھی پتا چلا کہ لڑکپن میں ان کی شادی ہوئی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ قندیل نے اپنے شوہر کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک ’ظالم‘ شخص تھا جو انھیں مارا پیٹا کرتا تھا اور اسی لیے وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ اسے چھوڑ آئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کا خرچہ اٹھانے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے انھوں سے بعدازاں اسے اس کے والد کے حوالے کر دیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق قندیل نے اس کے بعد سے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا تھا۔

یہ بھی دیکھیے

تاہم بیٹے کو اس کے والد کے پاس بھیجنے کے بعد ہی فوزیہ عظیم قندیل بلوچ بنیں۔ ان کی بےباکانہ حرکات کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے لیکن قندیل نے اپنے انداز اور خیالات کے بارے میں کبھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے دھمکیاں ملتی ہیں لیکن میرا یقین ہے کہ موت کا وقت معین ہے اور جب آپ کی موت کا وقت آ جائے تو آپ کو مرنا ہوتا ہے۔‘

قندیل کیس کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم

یاد رہے کہ سنہ 2016 میں پاکستان کی پارلیمان نے قندیل بلوچ کے قتل ہی کے ردِ عمل میں شروع ہونے والی مہم کے بعد غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم منظور کی تھی۔

اس کے مطابق مرنے والے کے لواحقین کی جانب سے معاف کیے جانے کے باوجود قتل کرنے والے کو عمر قید یا 25 برس قید کی سزا ہوگی۔

اس سے قبل پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر مقدمات میں یہ دیکھنے میں آیا تھا کہ مدعی قتل کرنے والے کے ماں باپ یا بہن بھائی ہوتے تھے جو انھیں معاف کر دیتے تھے جس کے بعد ان پر مقدمہ ختم ہو جاتا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد اسے سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث لایا گیا اور یہ واقعہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی آیا اور پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافے کی وجہ اس ضمن میں مناسب قانون سازی نہ ہونے کو قرار دیا گیا تھا۔