علی ظفر، میشا شفیع تنازع: میشا شفیع کی علی ظفر کے خلاف ہتکِ عزت کی درخواست قابلِ سماعت قرار، دونوں گلوکاروں کے درمیان چار مقدمات کی تفصیلات کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور ہائی کورٹ نے گذشتہ روز گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے گلوکار علی ظفر کے خلاف ہتکِ عزت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے قابلِ سماعت قرار دیا تھا جسے سال 2020 میں ایک مقامی عدالت نے مسترد کیا تھا۔
میشا شفیع کی جانب سے سنہ 2019 میں علی ظفر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دو ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا جسے فروری 2020 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔
میشا شفیع کی قانونی ٹیم کی رکن نگہت داد کے مطابق اس کیس کو سیشن کورٹ نے اس لیے مسترد کیا تھا کیونکہ علی ظفر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے جانب سے پہلے دائر کردہ کیس اور یہ کیس ایک ہی نوعیت کا ہے۔
خیال رہے کہ 18 اپریل 2018 کو پاکستان کی مقبول گلوکارہ، اداکارہ اور ماڈل میشا شفیع نے اپنی ایک ٹویٹ میں گلوکار اور اداکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔
یہ پوسٹ اس وقت کی گئی جب دنیا بھر میں 'می ٹو' کی مہم اپنے عروج پر تھی جس کے تحت خواتین خود کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔
نگہت داد کے مطابق میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر ہتکِ عزت کا دعویٰ اس لیے کیا گیا 'کیونکہ جب میشا نے علی کے خلاف ہراساں کیے جانے پر قانونی راستہ اختیار کیا تو انھوں نے مختلف انٹرویو اور اپنے بیانات میں میشا کے خلاف باتیں کیں جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔'
انھوں نے اس بارے میں مزید بتایا کہ 'دیگر الزامات کے علاوہ علی نے میشا پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ یہ سب اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ وہ کینیڈا کی شہریت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہCourtesy Ahmed Saeed
میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان چار مقدمات کی تفصیلات کیا ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں گلوکاروں کے درمیان قانونی جنگ سال 2018 سے جاری ہے اور اس کا آغاز میشا شفیع کی جانب سے ایک ٹویٹ میں علی ظفر پر انھیں ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
میشا شفیع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ 'اس طرح کھل کر بات کرنا آسان نہیں ہے، لیکن خاموش رہنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ میرا ضمیر مجھے اب مزید اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میری ہی صنعت میں میرے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے مجھے ایک سے زیادہ بار جنسی طور پر ہراساں کیا ہے: علی ظفر نے۔
'یہ سب تب نہیں ہوا جب میں چھوٹی تھی یا صنعت میں نئی تھی۔ یہ میرے ایک پراعتماد، کامیاب، اور چپ نہ رہنے والی عورت ہونے کے باوجود ہوا۔ یہ میرے ساتھ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود ہوا۔'
تاہم یہاں یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ اس وقت میشا شفیع اور علی ظفر کے مابین چار کیسز چل رہے ہیں، جس میں سے دو مقدمات علی ظفر نے دائر کیے ہیں اور دو مقدمات میشا شفی نے۔
اس ضمن میں پہلا مقدمہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر ہتکِ عزت کا دائر کیا گیا۔ علی ظفر نے جون 2018 میں لاہور کی سیشن عدالت میں میشا کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دعویٰ دائر کر تھا۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میشا شفیع نے جھوٹے الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے بعد میشا شفیع نے ہراساں کیے جانے کے حوالے سے علی ظفر کے خلاف صوبائی محتسب کے پاس شکایت درج کروائی تھی، جسے محتسب کی جانب سے مسترد کر دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Ahmed Saeed
اس کے بعد یہی درخواست گورنر پنجاب کے پاس گئی اور اسے وہاں سے بھی مسترد کر دیا گیا۔
میشا نے محتسب اور گورنر کی جانب سے اپنی شکایت کو مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف پنجاب پروٹیکشن برائے خواتین ایکٹ2012 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد اکتوبر 2019 میں ان کی اپیل کو وہاں سے اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ میشا شفیع اور کمپنی کے مابین معاہدہ خدمات کی فراہمی کے لیے کیا گیا تھا اور اس کی ایک شق کے مطابق فریقین کے درمیان تعلقات کو ملازمت تصور نہیں کیا جائے گا۔
اس کے بعد میشا کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں کی گئی ہے اور پچھلے ایک سال سے اس کیس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔
اس کے بعد نومبر 2018علی ظفر نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے پاس میشا کے خلاف شکایت درج کروائی۔
یہ بھی پڑھیے
علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں بھی شکایت درج کروائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ان کے خلاف 'دھمکیاں اور بدنامی پر مبنی مواد' پوسٹ کر رہے ہیں۔
انھوں نے اپنے اس دعوے کے ساتھ ثبوت کے طور پر کچھ ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹوں کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔
اس شکایت میں علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں ان کے خلاف میشا شفیع اور کچھ دیگر لوگوں کی جانب سے جنسی ہراس کے الزام سے کئی ہفتے قبل ہی کئی کچھ اکاؤنٹس نے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز کر دیا تھا۔
ایف آئی اے کی جانب سے اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
اس سب کے بعد میشا شفيع کی جانب سے بھی عدالت کا دوبارہ رخ کیا گیا اور انھوں نے بھی گلوکار علی ظفر کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا، جس پر علی ظفر نے عدالت سے مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست کی۔
ان کی اس درخواست پر عدالت نے فروری2020 میں کیس کی سماعت روکنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے احکامات جاری کیے اور کہا کہ علی ظفر اور میشا شفیع دونوں کے الزامات اور مقدمات کی نوعیت ایک جیسی ہے اور گلوکار علی ظفر کا دعویٰ پہلے ہی زیر سماعت ہے اور گواہان کی شہادتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
جس کے بعد میشا شفیع کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا اور اب ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی ہے۔


























