کووڈ 19 اور اومیکرون: پاکستان میں مثبت کیسز کی یومیہ شرح ’اب تک کی سب سے زیادہ‘، گذشتہ 24 گھنٹوں میں 23 اموات

پاکستان، کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

پاکستان میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد 7678 رہی ہے جو کہ اس وبا کے شروع ہونے کے بعد سے کسی ایک دن میں سامنے آنے والے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

پاکستان میں کورونا کی روک تھام کے لیے بنائے گئے قومی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس وائرس سے 23 افراد کی موت بھی ہوئی ہے جبکہ 961 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

اس وقت پاکستان میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 57935 ہے جبکہ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح 12 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے عالمی رہنماؤں کے لیے تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا ابھی ’خاتمے کے قریب بھی نہیں ہے۔‘

اس وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے حکومت پاکستان نے ایسے شہروں میں سخت پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے جہاں مریضوں کی اوسط شرح دس فیصد سے زیادہ ہے۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پاکستان میں این سی او سی کے اعلان کے مطابق نئی پابندیوں کے اطلاق کے لیے شہروں کو دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک وہ شہر ہیں جہاں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی شرح مسلسل تین دن تک اوسطاً دس فیصد سے زائد ہو گی، جبکہ دوسرے وہ شہر جہاں یہ شرح دس فیصد یا اس سے کم ہو گی۔

نئے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد پاکستان میں کورونا کی اس لہر میں اموات یا سنگین حالت والے مریضوں کی تعداد گذشتہ برس آنے والی تیسری لہر کے مقابلے میں کم بتائی جا رہی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ویکسین لے چکا ہے اور اسی لیے ہسپتالوں پر بوجھ پہلے کی طرح نہیں۔ این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سات کروڑ اسی لاکھ افراد مکمل طور پر ویکسینیٹڈ جبکہ دس کروڑ تئیس لاکھ افراد ویکسین کی پہلی خوراک لے چکے ہیں۔

Pakistan covid cases

12نئی پابندیاں کیا ہیں؟

این سی او سی کے مطابق وہ شہر جہاں کووڈ 19 کے نئے مریضوں کی شرح دس فیصد سے زیادہ پائی گئی وہاں تعلیمی ادارے کھلے تو رہیں گے تاہم 12 برس سے کم عمر بچے ایک دن کے وقفے سے سکول جائیں گے اور سکول میں کل تعداد کے نصف کو ہی حاضری کی اجازت ہو گی۔

سال سے زائد عمر کے بچوں کے تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے تاہم مکمل طور پر ویکسینیٹڈ طلبا ہی سکول، کالج اور یونیورسٹیز میں جا سکیں گے۔ اعلامیے کے مطابق طبی استثنٰی کے علاوہ یکم فروری سے 12 سال سے زائد عمر کے تمام طلبہ کے لیے کووڈ ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوانا لازمی ہے۔

10 فیصد سے زیادہ شرح والے شہروں میں شادی بیاہ سمیت ان ڈور تقریبات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ آؤٹ ڈور تقریبات میں زیادہ سے زیادہ 300 افراد شریک ہو سکیں گے۔ ان تقریبات میں شریک شہریوں کا مکمل ویکسینیٹڈ ہونا لازمی ہے۔

ان شہروں میں ریستورانوں کے اندر کھانا کھانے پر پابندی ہو گی تاہم آوٹ ڈور ڈائننگ ان افراد کے لیے کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو مکمل طور پر ویکسینیٹڈ ہیں۔ اس پابندی کا اطلاق بھی چوبیس جنوری سے ہو گا۔

پابناں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان شہروں میں باکسنگ، کراٹے، مارشل آرٹس، رگبی، واٹر پولو، کبڈی اور ریسلنگ جیسے ان تمام کھیلوں پر پابندی ہو گی جن میں قریبی رابطہ ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر کھیلوں کی اجازت ہے۔

ورزش گاہیں، باغات، سینیما اور مزاروں میں گنجائش سے نصف افراد کو جانے کی اجازت ہو گی اور وہ شہری جنھوں نے ویکسینیشن نہیں کروائی وہ ان مقامات پر نہیں جا سکیں گے۔

ان پابندیوں کا اطلاق 24 جنوری سے ہو گا۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر عائد پابندی 15 فروری تک لاگو رہے گی تاہم دیگر تقریبات سے متعلق پابندی قائم رکھنے کا فیصلہ 31 جنوری کو کیا جائے گا۔

تاحال این سی او سی کی جانب سے ان شہروں کی کوئی فہرست تو جاری نہیں کی گئی جہاں یہ 10 فیصد سے زیادہ مثبت کیس سامنے آ رہے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق ان شہروں میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔ پنجاب سے ملنے والی معلومات کے مطابق صوبے کے دو شہر ایسے ہیں جہاں شرح فیصد سے زیادہ ہے اور ان میں لاہور (15.2) کے علاوہ راولپنڈی (10.3) شامل ہے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ایک ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’شہر میں مثبت کیسز کی شرح میں اضافے کے باعث ریستورانوں کی چار دیواری میں کھانوں، شادی کی تقریبات اور دیگر اجتماعات پر 24 جنوری سے پابندی عائد کی جائے گی۔ جبکہ کھلی فضا میں اجتماعات میں 300 سے کم افراد کی اجازت ہو گی۔‘

شادیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ ’لاہور میں سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں چھٹی جماعت تک 50 فیصد بچوں کو روزانہ سکول آنے کی اجازت ہو گی۔ اس بات کا اطلاق جنوری 20 سے جنوری 31 تک کیا جائے گا۔ جبکہ ساتویں سے 12ویں جماعت کے طلبا معمول کے مطابق پڑھائی جاری رکھیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

10 فیصد تک مثبت مریضوں والے شہروں میں کم سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ایسے شہروں میں ان ڈور تقریبات اور شادیوں میں صرف 300 مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو شرکت کی اجازت ہے جبکہ آؤٹ ڈور شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں 500 مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

ان شہروں میں 12 برس سے کم عمر بچوں کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہو گی لیکن ان پر کووڈ 19 کے تمام پروٹوکولز کی جیسے کہ ماسک پہننا، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پابندی کرنا ہوگی۔ بارہ سال سے زائد عمر کے طلبا کو بھی سکولوں میں مکمل حاضری کی اجازت ہو گی بشرطیکہ وہ مکمل طور پر ویکسینیٹڈ ہوں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعلامیے کے مطابق بازاروں اور تجارتی مقامات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے تاہم پبلک ٹرانسپورٹ میں گنجائش سے 70 فیصد جبکہ ریل گاڑی میں 80 فیصد مسافروں کی سواری کی اجازت ہو گی اور دوران سفر ماسک پہننا لازمی ہے۔ اندرون ملک پروازوں کے دوران کھانا اور مشروبات پیش کرنے پر پابندی عائد رہے گی جبکہ ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

دفتروں میں مکمل ویکسینیٹڈ ملازمین کو 100 فیصد حاضری کے ساتھ کام جاری رکھنے کی اجازت ہو گی البتہ گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

’پی ایس ایل 7 کے پہلے مرحلے میں 25 فیصد تماشائیوں کو میچ دیکھنے کی اجازت ہو گی‘

سپر لیگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ادھر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی ) نے پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے پہلے مرحلے کے لیے 25 فیصد تماشائیوں کے لیے میچ دیکھنے کی منظوری دی ہے۔ لیگ کا پہلا مرحلہ 27 جنوری سے سات فروری تک نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔

فیصلے کے مطابق کراچی میں شیڈول ہر میچ میں تقریباً آٹھ ہزار تماشائیوں کو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

ایونٹ کا دوسرا مرحلہ 10 فروری سے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ تمام اس مرحلے میں تماشائیوں کی تعداد سے متعلق فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

تاہم ان تمام تماشائیوں کی صحت اور حفاظت کے پیش نظر سٹیڈیم میں داخلے کے لیے سخت کووڈ 19 پروٹوکولز بنائے گئے ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

  • 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کی مکمل کوویڈ 19 ویکسین ہونا لازمی ہو گا
  • سٹیڈیم کے داخلی دروازوں پر اپنا درست ویکسینیشن سرٹیفکیٹ دکھانا لازمی ہو گا
  • سٹیڈیم میں چہرے کو ماسک سےمسلسل ڈھانپے رکھنا لازم ہو گا

’وبا ابھی خاتمے کے قریب بھی نہیں‘

ٹیڈراس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ادھر جینیوا میں عالمی ادارہ صحت کے ہیڈکوارٹرز میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈراس نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران دنیا بھر میں وائرس کی اومیکرون قسم کے باعث ایک کروڑ 80 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر ٹیڈراس ادھانوم غیبریسس نے اس مفروضے کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ کورونا کی اومیکرون قسم پچھلی اقسام کے مقابلے میں کئی گنا کم موثر ہے اور اس سے وائرس کے باعث پیدا ہونے والا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک میں کورونا کی کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

جہاں ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ وائرس کی اومیکرون اوسطاً کم خطرناک ثابت ہو گی، اس بارے میں یہ بیانیہ گمراہ کن ہے کہ اس سے سنگین بیماری لاحق نہیں ہو سکتی۔'

'اومیکرون کے باعث لوگ ہسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں اور اموات بھی ہو رہی ہیں اور کم شدت والے کیسز بھی طبی سہولیات پر بوجھ بن رہے ہیں، اس بارے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔'