عثمان مرزا: متاثرہ لڑکی کا ملزمان کی شناخت سے انکار، سوشل میڈیا پر نظامِ انصاف پر تنقید

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
پاکستان میں نظامِ انصاف پر آئے روز تنقید کی جاتی ہے اور جب بھی کہیں کسی واقعے کی ویڈیو یا خبر منظرِ عام پر آتی ہے تو ریاست کی جانب سے اسے 'ٹیسٹ کیس' بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔
ایسے ہی مطالبے گذشتہ برس جولائی میں بھی کیے گئے جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ای 11 میں ایک جوڑے کو برہنہ کر کے، ان پر تشدد کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور اس حوالے سے صارفین کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
اُس وقت اسلام آباد پولیس کی جانب سے فوری ایکشن بھی لیا گیا اور متعلقہ افسران نے متاثرین کو مکمل انصاف دلوانے کی یقین دہانی کروائی تھی جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس مقدمے کی بذاتِ خود پیروی کی بھی بات کی تھی۔ تاہم اب اس مقدمے میں ایک نیا موڑ آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر اکثر صارفین کو مایوس کر دیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ منگل کے روز متاثرہ لڑکی نے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
عدالت میں لڑکی کی جانب سے ایک بیانِ حلفی جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں جو ملزمان نامزد اور گرفتار ہیں یہ وہ لوگ نہیں جو ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں اور وقوعہ کے وقت موجود تھے۔
تاہم سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو اکثر صارفین متاثرہ لڑکی کے اس بیان کی سچائی پر سوالات اٹھاتے نظر آتے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اس کی وجہ ملزمان کی جانب سے کی جانے والی بلیک میلنگ ہے، تاہم اس بارے میں ظاہر ہے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ اکثر افراد کی جانب سے اس مقدمے کا موازنہ شارخ جتوئی کیس سے بھی کیا جا رہا ہے۔
احسن راشد نامی ایک صارف نے توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'ایک عام مڈل کلاس فیملی کبھی بھی ایک طویل قانونی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتی، ریاست کو ہی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔'
کچھ افراد ریاست کی مداخلت کی اپیل کرتے دکھائی دیے جبکہ اکثر افراد نے قانونی نظام پر مایوسی کا اظہار کرتے دکھائی دیے اور ایک صارف نے تو یہ تک کہا ’اگر ویڈیو ثبوت بھی ناکافی ہے تو یہ اس نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا ثبوت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ahsaAhansra
'ایک عام مڈل کلاس فیملی کبھی بھی ایک طویل قانونی جنگ کا حصہ نہیں بنے گی'
جہاں کچھ صارفین کی جانب سے متاثرہ لڑکا اور لڑکی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہیں دیگر صارفین ان سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے معاشرے اور قانونی نظام کی خامیوں کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج کے باعث ہی اس حوالے سے پولیس کی جانب سے نوٹس لیا گیا تھا، اور ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔
ایک صارف نے لکھا کہ اس بارے میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں، ایسا عدالتوں میں روزانہ دیکھنے میں آتا ہے۔ عام طور پر بھی متاثرین عدالت سے باہر ہی معاملات بہتر کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں اور اپنے بیانات سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اس طرح ملزمان کو رہائی مل جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/neuteralopinion
ایک صارف نے وکلا سے سوال کیا کہ 'ہم سب نے ہی وہ انتہائی اذیت ناک ویڈیو دیکھی تھی، کیا ہم عدالت میں بطور گواہ اس حوالے سے اپیل کر سکتے ہیں یا ہمارے پاس اور کیا آپشن ہیں جس سے یہ یقینی بنایا جائے کہ یہ شخص جیل میں ہی رہے۔'
مریم نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’عثمان مرزا رہا ہونے والا، صرف یہ سوچ بھی میرے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/teepu
ٹیپو نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانا اور انھیں شرمندہ کرنا بہت آسان ہے۔ عثمان مرزا مقدمے میں متاثرہ جوڑا طاقتور کے خلاف اپنی زندگیوں کی جنگ بھی لڑ رہا تھا۔ ویڈیو ثبوت بھی موجود ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں کہ جوڑا ملزمان کی نشاندہی بھی کرے؟ ریاست جوڑے کی حفاظت کیوں نہیں کر سکتی؟‘
'شاہ رخ جتوئی بھی تو سابقہ چیف جسٹس کے نوٹس لینے پر قابل گرفت ہوا'
کچھ صارفین کی جانب سے اس مقدمے کا موازنہ ماضی کے مشہور شاہ زیب قتل کیس سے بھی کیا جا رہا ہے۔
اس مقدمے کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ شاہ زیب خان کی ہلاکت کا واقعہ 24 دسمبر 2012 کی شب کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں پیش آیا تھا جہاں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں نے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کر کے انھیں قتل کر دیا تھا۔
جون 2013 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دو ملزمان کو سزائے موت جبکہ دو کو عمر قید کی سزا دینے کا حکم دیا تھا۔
سزائے موت سنائے جانے کے بعد نومبر 2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے ماتحت عدالت کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کی ہدایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
سنہ 2017 میں شاہ زیب خان کے والدین نے قصاص اور دیت کے قانون کے تحت صلح نامے کے بعد ملزم شاہ رخ جتوئی کو معاف کر دیا تھا جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔
تاہم فروری 2018 میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اس مقدمے میں ملوث چاروں مجرمان کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انھیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/Salman Masood
ایک صارف نے لکھا کہ 'شاہ رخ جتوئی کیس میں تو سابقہ چیف جسٹس کے نوٹس لینے پر قابل گرفت ہوا تھا اس کیس میں اب مدعی ہی پیچھے ہٹ جائے تو کوئی عدالت بھی کیا کرے گی۔'
کرن ناز نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’زینب زیادتی/قتل کیس کے علاوہ اس ملک میں واقعی مظلوم کے ساتھ انصاف کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ عثمان مرزا کیس میں متاثرہ لڑکی کے تازہ بیان نے دل بہت دکھا دیا ہے۔ یہ شاید وہی خوف ہے جو بتاتا ہے کہ درندوں کا یہاں کچھ نہیں بگڑنا۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ 'ویڈیو میں صاف دکھائی دینے والے مجرم کو سزا نہ دے سکنے والے انصاف اور ماں جیسی ریاست کو کس نے اندھا کر دیا؟ جنگل کا قانون'
ایک صارف نے متاثرہ لڑکا اور لڑکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جان کی ضمانت کون دے گا؟ کیا نہیں پتا کہ پاکستان میں صلح یا کیس واپس لینے کے لیے کتنا دباؤ ہوتا ہے؟ کیا ریمنڈ ڈیوڈ کیس بھول گئے؟‘
صحافی سلمان مسعود نے لکھا کہ ’۔۔۔۔۔ ایسے نظام میں انصاف لینا کتنا مشکل ہے جس میں اتنی خرابیاں ہیں۔ اسے آسانی سے اپنے حق میں موڑا جا سکتا ہے اور یہاں طاقتور ہمیشہ احتساب سے بچ جاتے ہیں۔‘


























