ظہور احمد: خفیہ معلومات کی فروخت کے ملزم پولیس اہلکار کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

،تصویر کا ذریعہSocial media
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد کی ایک عدالت نے خفیہ معلومات فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکار ظہور احمد کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی ایف آئی اے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اُنھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
جمعرات کو وفاقی ادارہ برائے تحقیقات (ایف آئی اے) کے انسدادِ دہشتگردی ونگ نے ملزم کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا اور مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
تاہم ایڈیشنل سیشنز جج محمد سہیل نے اپنے حکمنامے میں لکھا کہ چونکہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی کوئی قابلِ فہم وجہ فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اُنھیں چھ جنوری 2022 تک کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا رہا ہے۔
معاملہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ گرفتار پولیس اہلکار اے ایس آئی ظہور احمد کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقدمے کا اندراج 13 دسمبر کو کیا گیا تھا جبکہ 14 دسمبر کو ملزم کو پہلی بار ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے انسداد دہشت گردی وِنگ کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق گولڑہ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اے ایس آئی کو خفیہ دستاوزات یا معلومات ’غیر ملکی سفیر/ایجنٹ‘ کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ باوثوق ذریعے کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اے ایس آئی گولڑہ ظہور احمد ایک غیر ملکی سفیر/ ایجنٹ سے ملاقات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ایف آئی آر میں متعلقہ شخص کی سفید رنگ کی ٹویوٹا کرولا کا رجسٹریشن نمبر بھی درج ہے اور ساتھ لکھا گیا ہے کہ اے ایس آئی کی اس ملاقات کا مقصد خفیہ معلومات یا دستاویزات فراہم کرنا تھا جو کہ ملکی مفاد کے خلاف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اے ایس آئی نے غیر ملکی سفیر یا ایجنٹ سے میٹرو بس سٹیشن کے پاس جناح ایونیو پر ملنا تھا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی بنا پر ایک ٹیم تشکیل دی گئی جو وہاں پہنچی۔
بتایا گیا ہے کہ وہاں موجود ذریعے نے تصدیق کی کہ ٹویوٹا کرولا میں جس کے شیشے کالے تھے، اے ایس آئی کو کہیں لے جایا گیا ہے تاہم ایف آئی اے کی ٹیم کو تجویز دی گئی کہ وہ وہیں انتظار کریں۔
ایف آئی آر کے مطابق کچھ دیر بعد وہی ٹویوٹا کرولا اے ایس آئی کو واپس اسی مقام پر اتار کر چلی گئی جس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے انھیں گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ اے ایس آئی کے پاس دو فون تھے اور اُن کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا لیکن وہ غیر ملکی سفیر کے ساتھ اپنی ملاقات کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف آئی اے کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے موقع پر ہی انکشاف کیا کہ وہ غیر ملکی سفیر/ ایجنٹ کو خفیہ معلومات یا دستاویزات فراہم کرنے کے بدلے پیسے لے رہے ہیں۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ بادی النظر میں اے ایس آئی کا یہ اقدام 1923 کے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور انسداد کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔
ایف آئی اے کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ اے ایس آئی کی تحویل سے 50 ہزار کیش، اے ٹی ایم کارڈز اور یو ایس بی بھی برآمد ہوئی۔
خیال رہے کہ 30 نومبر کو ان ہی اے ایس آئی کی مبینہ گمشدگی کی خبریں سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی تھیں تاہم پولیس نے ان کی گمشدگی کا کوئی مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس کے بعد ان کے فون سے ان کی اہلیہ کو ایک پیغام موصول ہوا تھا کہ وہ مری گئے ہوئے ہیں اور دو روز بعد وہ گھر واپس پہنچ گئے تھے۔
پولیس ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اے ایس آئی مری نہیں گئے تھے تاہم ان کی گمشدگی کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور انھیں اب کس غیر ملکی سفیر یا ایجنٹ سے ملنے پر گرفتار کیا گیا ہے اس بارے میں پولیس حکام بات کرنے سے گریزاں ہیں۔
























