پریانتھا کمارا کی موت: سیالکوٹ کی صنعت میں غیر ملکیوں کی خدمات کتنی اہم ہیں؟

،تصویر کا ذریعہSIALKOT CHAMBER OF COMMERCE
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
- وقت اشاعت
’پاکستان میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کا پہلا دور تھا جب امریکہ کی جانب سے پاکستان سے برآمد ہونے والے سرجیکل مصنوعات پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سرجیکل مصنوعات پر پابندی کوالٹی میں کسی کمی یا نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ سرٹیفکیشن سسٹم کی عدم دستیابی پر عائد کی گئی۔‘
’امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے بعد سیالکوٹ سے صنعت کاروں کا ایک وفد امریکہ کے دورے پر گیا جس میں پابندی اٹھانے کا کہا گیا تاہم امریکہ کی ٖفوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے ادارے نے پاکستانی تاجروں کو جواب دیا کہ جب تک سرٹیفکیشن کا معاملہ حل نہیں ہوتا اس وقت پابندی نہیں اٹھائی جائے گی۔‘
اس واقعے کا ذکر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اشتیاق بٹ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کیا۔
اشتیاق بٹ نے بتایا کہ جب معاملہ حل نہیں ہوا تو پھر پاکستان کی وزارت تجارت کے ذریعے سرجیکل مصنوعات کی سرٹیفکیشن کے لیے کوالٹی جانچنے کے معیار کا نظام متعارف کرانے کا معاہدہ کیا گیا جسے سیالکوٹ میں لگایا گیا۔
انھوں نے کہا اس سسٹم کو چلانے کے لیے پہلے امریکہ سے ماہرین پاکستان آئے تاکہ اس سسٹم کے ذریعے سرٹیفکیشن کے نظام کو رائج کیا جاسکے۔
اشتیاق بٹ نے بتایا کہ ان غیر ملکی ماہرین نے پہلے تو سسٹم کو خود چلایا اور اس کے ساتھ انھوں نے ایسے مقامی افراد کی تریبت بھی شروع کر دی جو اس سسٹم کو ان کی غیر موجودگی میں چلا سکیں۔
انھوں نے بتایا کہ امریکہ سے آئے ماہرین کچھ عرصہ تو یہاں مقیم رہے اور اس نظام کے ذریعے سرٹیفکیشن کے عمل کو چلائے رکھا تاکہ پاکستانی سرجیکل مصنوعات کی امریکی منڈی میں برآمد بلا تعطل جاری رہ سکے لیکن کچھ عرصہ بعد مقامی افراد نے اس شعبے میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ پھر غیر ملکی ماہرین کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔
غیر ملکی ماہرین کی جانب سے سرجیکل مصنوعات کی سرٹیفکیشن کے نظام میں معاونت کے واقعے کے تین عشروں سے زائد عرصے کے بعد اسی سیالکوٹ شہر میں ایک ہجوم کے ہاتھوں مبینہ توہین مذہب کے الزام کی بنا پر سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا قتل ہوتے ہیں جو گزشتہ نو برس سے شہر کی ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں ایک انتظامی عہدے پر کام کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ تھے۔ مبینہ توہین مذہب کے الزام میں ہجوم نے انھیں پہلے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارا اور پھر ان کی لاش کو جلا دیا۔
سیالکوٹ میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے نے جہاں پاکستان کے تشخص کو ٹھیس پہنچایا تو اس کے ساتھ پاکستان کے ایکسپورٹ سٹی سیالکوٹ کے کاروباری تاثر کو بھی بری طرح مجروح کیا۔
سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا ان غیر ملکیوں میں شامل تھے جو سیالکوٹ کی صنعت، جو نوے فیصد سے زائد برآمدی شعبے پر مشتمل ہے، کو اپنے شعبوں میں مہارت اور صلاحیت سے فائدہ پہنچا رہے تھے۔

سیالکوٹ پاکستان کے برآمدی شعبے میں ایکسپورٹ سٹی کے نام سے مشہور ہے اور یہاں بننے والی مصنوعات کی بیرون ملک بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے اور اس کے ساتھ اس شہر کے کاروباری طبقے نے شہر کی ترقی اور اس کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے کچھ ایسے منصوبے بھی مکمل کیے کہ جس کی مثال پاکستان کے کسی دوسرے شہر میں نہیں ملتی۔
مثلاً سیالکوٹ شہر کے ایئرپورٹ کی تعیمر اور ایئر سیال نامی ایئر لائن سے لے کر انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو سیالکوٹ کی کاروباری برادری نے اپنی مدد آپ کے تحت شروع کیا اور اسے پایہ تکیمل تک پہنچایا۔
سری لنکا کے شہری کے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعے سے سیالکوٹ کا ایک منفی تاثر ابھرا ہے تاہم سیالکوٹ کا کاروباری طبقہ اس واقعے کے منفی اثرات سے جلد باہر نکلنے کے بارے میں پر امید ہے اور وہ شہر کو غیر ملکی ورکرز اور ملازمین کے لیے ابھی بھی محفوظ سمجھتا ہے۔
ان کے مطابق اگرچہ پریانتھا کمارا کا واقعہ نہایت ہی افسوس ناک ہے تاہم سیالکوٹ کی صنعت میں غیر ملکی ماہرین اور ملازمین کا کردار ماضی کی طرح مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔
سیالکوٹ کا برآمدی شعبے میں کتنا حصہ ہے؟
پاکستان کے صنعتی شعبے اور خاص کر برآمدی شعبے میں سیالکوٹ کا ایک بہت اہم کردار ہے۔ سیالکوٹ شہر جہاں کھیلوں کے سامان اور جراحی یعنی سرجیکل مصنوعات کی تیاری اور ان کی برآمد کے لیے معروف ہے تو اس کے ساتھ یہاں دوسرے شعبے کی صنعتیں بھی بہت زیادہ تعداد میں کام کر رہی ہیں۔
چمڑے کی مصنوعات، ٹیکسٹائل کی مصنوعات، مارشل آرٹ، باکسنگ، سیفٹی گارمنٹس، کٹلری اور کچھ دوسرے شعبوں میں تیار ہونے والی مصنوعات سیالکوٹ سے دنیا بھر کی منڈیوں میں جاتی ہیں۔ اسی طرح موسیقی کے لیے بھی استعمال ہونے والے آلہ جات سیالکوٹ میں تیار ہوتے ہیں۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر قاسم ملک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سیالکوٹ کے صنعتی شعبے میں تیار ہونے والا سامان تقریباً سو فیصد برآمد ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیالکوٹ میں زیادہ تر درمیانی درجے کی صنعت کی فیکٹریاں ہیں جن کی تعداد دس سے پندرہ ہزار ہے۔
قاسم ملک نے بتایا کہ سیالکوٹ کے صنعتی شعبے میں تیار ہونے والی برآمدی شعبے کی مصنوعات ڈھائی ارب ڈالر کے قریب ہیں جو پاکستان کے برآمدی شعبے میں تقریباً دس فیصد تک بنتا ہے۔
سیالکوٹ چیمبر کے سابق صدر قیصر بریار نے اس سلسلے میں بتایا کہ سیالکوٹ میں تیار ہونیوالی مصنوعات کی مقامی کھپت اس لیے نہ ہونے کے برابر ہے کہ انھیں بیرون ملک اپنی کوالٹی کی وجہ سے بہت اچھی قیمت ملتی ہے اور اس قیمت پر مقامی مارکیٹ میں یہ چیز فروخت نہیں ہو سکتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غیر ملکی سیالکوٹ کی صنعت میں کیا خدمات انجام دیتے ہیں؟
سیالکوٹ کے صعنتی شعبے میں کتنے غیر ملکی کام کرتے ہیں اس سلسلے میں کوئی حتمی اعداد و شمار تو سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پاس نہیں ہیں۔
نائب صدر قاسم ملک کے مطابق کسی فیکٹری میں کتنے غیر ملکی کام کرتے ہیں اس کا ڈیٹا اس فیکٹری کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں کوئی جامع ڈیٹا نہیں۔
تاہم انھوں نے بتایا کہ سیالکوٹ کے صنعتی شعبے میں غیر ملکیوں کی کوئی زیادہ بڑی تعداد نہیں کہ ہم جس کی بنیاد پر کہہ سکیں کی ان کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے صنعتی شعبے کے افراد کے مطابق جو غیر ملکی یہاں کام کرتے ہیں ان کی تعداد محدود ہے اور وہ بھی انتظامی عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ غیر ملکی یا تو انٹرنیشنل برانڈز کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں جو سیالکوٹ میں تیار ہونے والی مصنوعات کی کوالٹی کے معیار کی جانچ پڑتال کے کام پر مامور ہوتے ہیں یا وہ غیر ملکی شامل ہیں جو کسی درآمدی مشینری کی تعیناتی کے لیے یہاں آتے ہیں اور کچھ عرصہ اس کی کارکردگی چیک کرنے کے لیے یہاں رک جاتے ہیں۔
اسی طرح کچھ غیر ملکی افراد سیالکوٹ میں نہیں رہتے بلکہ وہ اسلام آباد یا لاہور میں رہتے ہیں جو وقتاً فوقتاً سیالکوٹ کی صنعتوں میں انٹرنیشنل برانڈز کی طرف سے مصنوعات کی تیاری کو دیکھنے اور اس کا معائنہ کرنے آتے ہیں کہ کیا یہ مصنوعات ان کی ضروریات کے مطابق تیار ہوتی ہیں اور اس کے بعد یہ واپس چلے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سیالکوٹ کی صنعت میں سری لنکا، بنگلہ دیش، کوریا اور کچھ دوسرے ممالک کے لوگ انتظامی عہدوں یا دوسرے امور کی نگرانی کے لیے کام کرتے ہیں یا یہاں کے دورے پر آتے رہتے ہیں۔
قیصر بریار نے اس سلسلے میں بتایا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں کیونکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بہت زیادہ کام ہو رہا ہے اور وہاں کی پیداواری تکنیک اور مہارت کے ساتھ سپلائی چین کے معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں چلانے کے لیے ان ملکوں کے افراد یہاں کچھ تعداد میں کام کر رہے ہیں۔
اسی طرح کچھ چینیوں نے اپنی کمپنیاں بھی سیالکوٹ میں قائم کر رکھی ہیں اور کورین افراد بھی یہاں آتے رہتے ہیں۔
قاسم ملک نے اس سلسلے میں کہا کہ ان غیر ملکیوں کا سیالکوٹ کے برآمدی شعبے میں بہت اہم کردار ہے اگرچہ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تاہم ان کی تیکنیک سے اس شہر کے صعنتی شعبے کو بہت زیادہ مدد ملی ہے۔
سیالکوٹ میں ائیرپورٹ، ائیر سیال اور دوسرے منصوبوں کے مکمل ہونے میں غیر ملکیوں کے کردار پر قاسم ملک نے کہا کہ وہ منصوبے پاکستانی ہی چلا رہے ہیں اور ان میں غیر ملکی شامل نہیں۔
سیالکوٹ کی ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں کام کرنے والے ایک ویتنامی شہری مسٹر تان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈھائی سال سے سیالکوٹ میں کام کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل مل کے شعبہ پراڈکشن میں ان کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔ مسٹر تان نے بتایا کہ سیالکوٹ کام کرنے کے لیے ایک بہت اچھا شہر ہے اور انھیں آج تک یہاں کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا۔
مسٹر تان سے جب پوچھا گیا کہ وہ سیالکوٹ میں سری لنکا کے شہری کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ تھا تاہم وہ کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔
غیر ملکیوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
سیالکوٹ کی صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق غیر ملکیوں کی خدمات لینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کچھ شعبوں میں ان کی مہارت اور تیکنیک پاکستانی ورکرز کے مقابلے میں زیادہ اچھی ہے۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر ڈاکٹر سرفراز بشیر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ غیر ملکی انتظامی امور بہت اچھے طریقے سے نمٹاتے ہیں اور مزدوروں کے ساتھ ان کا رویہ بھی بہت بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کا تعلیمی لیول اور اپنے شعبے میں ان کی مہارت بھی انھیں ایک برتری دلاتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ جب ایک زمانے میں آئی ایس او کے معیار پر پورا اترنا لازمی تھا تو ان غیر ملکی ماہرین اور پروفینشلز نے سیالکوٹ کی صنعت کو بہت مدد فراہم کی۔ انھوں نے کہا اگرچہ غیر ملکیوں کی تعداد زیادہ نہیں تاہم جو ہیں انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحتیوں سے شہر کے برآمدی شعبے کو بہت مدد فراہم کی۔
قیصر بریار نے کہا کہ غیر ملکی افراد کی سب سے بڑی خاصیت پراڈکشن فلور پر ان کی انتظامی صلاحیتیں ہیں جس کی وجہ سے پیداوار زیادہ بہتر انداز میں ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا خاص کر سری لنکا سے تعلق رکھنے والے افراد کی انتظامی صلاحیتیں بہت بہتر ہیں جس کی وجہ سے ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور خاص کر ٹیکسٹائل کے شعبے میں یہ زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کوالٹی کنٹرول میں یہ افراد بہت بہتر ہوتے ہیں جس کی وجہ ان کا تیکنیکی طور پر زیادہ باصلاحیت ہونا ہے۔
قاسم بریار نے سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کے ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد دوسرے غیر ملکیوں کے تحفظ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فیکٹریوں میں اس بارے میں کونسلنگ کا عمل جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور اس سلسلے میں فیکٹریوں کے ہیومن ریسورس کے شعبے کام کر رہے ہیں۔


























