ٹی ایل پی کے مظاہروں کے دوران پولیس اہلکار کی ہلاکت: 'ہمیں تو بس یہی بتایا گیا کہ شہادت کی اچھی موت ہوئی ہے'

کانسٹیبل خالد جاوید
،تصویر کا کیپشنکانسٹیبل خالد جاوید گھر کے واحد کفیل تھے
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
  • وقت اشاعت

وہ جمعے کا دن تھاـ اگلے روز معمول کے مطابق ان کے والد نے گھر آنا تھا۔ ہر بار کی طرح محمد اویس بےتابی سے ان کے منتظر تھے۔

ہر ہفتے کی رات ان کے والد کانسٹیبل خالد جاوید گھر آ جاتے تھے۔ اتوار کی چھٹی اپنے بچوں کے ساتھ پسرور کے علاقے چوبارہ میں اپنے گھر پر گزارتے اور پیر کی صبح دوبارہ واپس لاہور لوٹ جاتے تھے۔ ان دنوں وہ تھانہ گوالمنڈی میں تعینات تھے۔

اس روز جب محمد اویس نے اپنے والد کو فون کیا تو انھیں قدرے مایوسی بھی ہوئی اور دھڑکا سا بھی لگ گیا۔ ان کے والد کی ڈیوٹی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ممکنہ لانگ مارچ کے راستے پر لگا دی گئی تھی۔

تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان نے لاہور میں ملتان روڈ پر واقع اپنے مرکز کے سامنے چند روز سے احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا اور اس دن ان کی طرف سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان متوقع تھا۔

مقامی انتظامیہ نے اس ممکنہ مارچ کو روکنے کے لیے راستے پر کنٹینر لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں جبکہ میو ہسپتال کے قریب ایک مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعنینات کی گئی تھی۔

اس سے قبل جب رواں برس اپریل میں ٹی ایل پی اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں تو کئی پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

17 سالہ محمد اویس اب اضطراب کا شکار تھے۔ شام کا وقت تھا، انھوں نے ایک مرتبہ پھر والد کو فون کیا۔ 'ابو نے بتایا کہ بیٹا جنگ شروع ہو گئی ہے۔'

ٹی ایل پی نے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا تھا اور سینکڑوں کی تعداد میں ان کے کارکنان اپنے راستے میں رکھی رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے میو ہسپتال کے قریب اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔

کانسٹیبل خالد جاوید بھی وہاں موجود تھے۔ لانگ مارچ کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ نتیجتاً پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

گھبراہٹ کے عالم میں محمد اویس نے ایک مرتبہ پھر اپنے والد کو فون کیا مگر اس مرتبہ کوئی جواب نہیں ملا۔ وہ کوشش کرتے رہے مگر فون نہیں مل رہا تھا۔

'میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی اور بہت سخت بے چینی کی وجہ سے میرے پیٹ میں درد ہونا شروع ہو گیا تھا۔'

محمد اویس
،تصویر کا کیپشنکانسٹیبل خالد جاوید کے بیٹے محمد اویس نے ایک دکان پر لگے ٹی وی پر برینکنگ نیوز دیکھی اور گھر کی طرف دوڑے

اسی دوران وہ اپنے فون میں بیلنس لوڈ کروانے ایک قریبی دکان پر گئے تھے کہ وہاں لگے ٹی وی پر انھوں نے بریکنگ نیوز چلتے دیکھی۔ 'پولیس کے دو اہلکار مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔'

محمد اویس واپس گھر کی طرف دوڑے۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کے گھر تک اطلاع پہنچ گئی تھی۔ کانسٹیبل خالد جاوید ہلاک ہونے والے ان دو اہلکاروں میں شامل تھے۔

'میرا آج بھی جی چاہتا ہے ایک دفعہ ان سے گلے مل لیتا'

محمد اویس نے نم آنکھوں، کانپتی آواز میں بی بی سی کو بتایا کہ 'میرے لیے وہ وقت بیان کرنا بھی مشکل ہے جب میں نے وہ خبر سنی۔ ان کی شہادت سے آدھا گھنٹا پہلے میری ان سے بات ہوئی تھی۔'

اس کے بعد سے ہر اتوار کا دن خاص طور پر ان کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ 'میرا آج بھی جی چاہتا ہے کہ میں ایک دفعہ انھیں گلے لگا سکتا۔'

محمد اویس پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ وہ انٹرمیڈیٹ میں پری میڈیکل کے طالب علم ہیں اور ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں۔ ان کی ایک بڑی بہن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے جبکہ دو بڑی بہنیں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور دو چھوٹی بہنیں بھی سکول جاتی ہیں۔

اویس کے مطابق 'ابو کہتے تھے کہ تم نے پریشان نہیں ہونا، تم بس اپنی تعلیم جاری رکھو اور اپنے ہدف حاصل کرو۔ لیکن اب میرے ابو شہید ہو گئے ہیں۔'

محمد اویس کی زندگی کیسے بدلی؟

محمد اویس اور ان کے خاندان کے لیے آنے والے دن اچانک غیریقینی میں بدل گئے تھے۔ وہ اور ان کے چچا محمد عارف کے خاندان اکٹھے ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ ان کی ذمہ داری اب ان کے چچا محمد عارف پر آن پڑی تھی جو کھیتی باڑی کرتے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد عارف نے بتایا کہ کانسٹیبل خالد جاوید 'ہمارے گھر کے واحد ایسے کفیل تھے جن کی وجہ سے گھر کا سرکل چل رہا تھا۔ ان کے جانے سے اب ہمیں مشکلات ہوں گی۔'

کانسٹیبل خالد جاوید
،تصویر کا کیپشنحکام کے کانسٹیبل خالد جاوید کے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ 'محکمہ انھیں اکیلا نہیں چھوڑے گا'

وہ لاہور سے اپنے بھائی کی میت لے کر آئے تھے اور ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے میں کی گئی تھی۔ پولیس کے اعلٰی افسران ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئے تھے اور انھوں نے کانسٹیبل خالد جاوید کے خاندان کو یقین دلایا تھا کہ 'محکمہ انھیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔'

حکومتی حکمتِ عملی کیا رہی؟

دوسری جانب ٹی ایل پی کا لانگ مارچ لاہور میں رکا نہیں تھا۔ وہ جوں جوں آگے بڑھ رہا تھا پولیس ان کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور نتیجتاً کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو رہے تھے جن میں پولیس کے اہلکار بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے

تین روز بعد جب لانگ مارچ لاہور سے باہر نکل کر حافظ آباد پہنچا تھا تو پولیس کے کم از کم چار اہلکار ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو چکے تھے۔ ٹی ایل پی نے بھی دعوٰی کیا تھا کہ ان کے کئی کارکنان مارے گئے تھے۔

اس دوران وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات بھی شروع کر رکھے تھے اور ساتھ ہی انھیں خبردار بھی کر دیا گیا تھا کہ انھیں مزید آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ وفاقی محکمہ داخلہ نے دو ماہ کے لیے صوبہ پنجاب میں رینجرز کو تعینات کر کے پولیس کو ان کے ماتحت کر دیا تھا۔

رینجرز نے دریائے جہلم کے پل پر ناکہ لگا لیا تھا اور مظاہرین کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اس سے آگے نہ بڑھیں۔ وہ نہیں بڑھے۔ انھوں نے وہیں پڑاؤ لگا لیا تھا۔ اس دوران حکومت اور اہلِ سنت کے چند علما کے ساتھ حکومت کے مذاکرات میں ایک نیا معاہدہ طے پا گیا۔

کانسٹیبل خالد جاوید

معاملہ کیسے حل ہوا؟

ٹی ایل پی کے بنیادی مطالبات تھے پاکستان فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کرے اور ان کے سفیر کو ملک سے نکال دے۔ اور یہ کہ گزشتہ چند ماہ سے جیل میں قید ٹی ایل پی کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو رہا کیا جائے۔

ساتھ ہی انھوں نے یہ مطالبات بھی رکھ دیے کہ حالیہ لانگ مارچ کے آغاز سے اس روز تک ان کے جتنے کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا انھیں رہا کر دیا جائے۔ حکومت نے یہ مطالبہ منظور کر لیا۔ ان کے کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔

جو دوسرے مطالبے حکومت نے منظور کیے ان میں تحریک لبیک پاکستان پر سے پابندی ہٹانا اور ان کے رہنماؤں اور کارکنان کے ناموں کو فورتھ شیڈول میں سے نکالنا شامل تھا۔

ان مطالبات کی منظوری کے بعد ٹی ایل پی کے دریائے جہلم کے قریب پڑاؤ کیے مظاہرین گھروں کو واپس لوٹ گئے۔

'بس ہمیں یہی بتایا گیا کہ اچھی شہادت کی موت ہوئی ہے'

تاہم ان تمام فیصلوں اور اقدامات کے دوران یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ کانسٹیبل خالد جاوید جیسے ان پولیس والوں کے قتل کا ذمہ دار کون تھا جو رواں برس جھڑپوں میں ہلاک ہوئے تھے؟

کانسٹیبل خالد جاوید کے بھائی محمد عارف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کے بھائی کی موت کیسے ہوئی تھی۔

'اس وقت ایسا موقع بھی نہیں تھا اور میری حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ میں اس طرح کی کوئی چیز پوچھ سکتا۔ بس ہمیں یہی بتایا گیا کہ اچھی شہادت کی موت ہوئی ہے اور ہم سب کی بھی خواہش ہے کہ ہمیں شہادت کی موت نصیب ہو۔'

محمد عارف کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بھائی کی میت کو خود غسل دیا تھا۔ ان کے جسم پر ہر جگہ شدید زخموں کے نشان تھے۔ جس طریقے سے حکومت نے تمام معاملے سے نمٹنے کا طریقہ اپنایا اس کے حوالے سے محمد عارف کا کہنا تھا کہ 'بات چیت پہلے بھی تو ہو سکتی تھی۔'

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ 'شاید اللہ کی یہی مرضی تھی۔ اگر ایسا واقعہ نہ ہوتا تو میرے بھائی کو شہادت نصیب نہ ہوتی۔ شاید اسی لیے ایسا ہوا۔'

عدنان

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنکانسٹیبل محمد عدنان کو اس روز بخار تھا جب ان کی ڈیوٹی حافظ آباد میں اس مقام پر لگائی گئی تھی جہاں ٹی ایل پی کے کارکنان نے پڑاؤ کر رکھا تھا

'کیا اسے انصاف ملے گا؟'

تاہم عارف اکیلے نہیں جنھیں نہیں معلوم کہ ان کے بھائی کی موت کیسے ہوئی۔ ضلع گوجرانوالہ میں حافظ آباد پولیس کے کانسٹیبل محمد عدنان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

محمد عدنان کو اس روز بخار تھا تاہم ان کی ڈیوٹی حافظ آباد میں اس مقام پر لگائی گئی تھی جہاں ٹی ایل پی کے کارکنان نے پڑاؤ کر رکھا تھا۔ محمد عدنان کے ایک ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ دوا کھا کر مظاہرین سے کچھ فاصلے پر ریلوے ٹریک کے پاس لیٹے ہوئے تھے۔

وہ وہاں سے غائب ہو گئے۔ دو روز بعد ان کی تشدد زدہ لاش قریب واقع کھیتوں سے ملی تھی۔ ان کے ساتھی کے مطابق انھیں مظاہرین نے اغوا کیا تھا اور تشدد کر کے مارنے کے بعد کھیتوں میں پھینک دیا تھا۔

تاہم تھانہ صدر وزیرآباد میں درج کی گئی ایف آئی آر میں ابتدائی طور پر انھیں 'نامعلوم شخص' لکھا گیا تھا۔

ان کے ساتھی کے مطابق 'پولیس کئی گھنٹے بعد ان کی شناخت کر پائی۔ اور شناخت سے پہلے ہی نامعلوم کر کے ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ اب قانونی طور پر یہ انتہائی مشکل ہو گیا ہے کہ کانسٹیبل عدنان کے قاتلوں کو عدالت سے سزا دلوائی جا سکے۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے اپنے کانسٹیبل کے گم ہونے کے بعد ان کی بازیابی کے لیے بھی کوشش نہیں کی اور اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔

'اس کے بعد افسران اس کے گھر پر جا کر آخری رسومات میں شریک ہو گئے اور اس کو پولیس کا شہید قرار دے دیا گیا۔ مگر کیا اس کو انصاف ملے گا؟'

'وہ فیس مانگ رہے ہیں، ہمیں تو ابھی تنخواہ بھی نہیں ملی'

پولیس کے اندر پائے جانے والے ایسے جذبات کا اظہار حافظ آباد پولیس کے سی آئی اے کے انچارج خالد واریہ نے انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس کو لکھے ایک خط میں بھی کیا تھا۔

اس خط میں انھوں نے 'پولیس افسران کی طرف سے مبینہ طور پر ناقص منصوبہ بندی اور بزدلی دکھانے پر پولیس اہلکاروں کی جانیں خطرے میں ڈالنے پر تحقیقات' کا مطالبہ کیا تھا۔ ساتھ ہی انھوں نے پولیس کو دو ماہ کے لیے رینجرز کے ماتحت کرنے کے حکومتی فیصلے پر بھی افسوس کا اظہار کیا تھا۔

پسرور میں محمد اویس اور ان کے چچا محمد عارف ان تمام حالات سے بے خبر تھے۔ محمد عارف کو اس وقت یہ فکر تھی کہ کانسٹیبل خالد جاوید کی دو بیٹیاں یونیورسٹی میں تعلیم کے سلسلے میں ہاسٹل میں رہایش پذیر تھیں ان کی فیس کیسے ادا کی جائے گی۔

'وہ فیس مانگ رہے تھے اور ہمیں تو ابھی تنخواہ بھی نہیں ملی۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے ادا ہو گی۔ ان سے تھوڑا وقت مانگا ہے۔ کوئی انتظام کریں گے۔'

محکمہ 'شہید' پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کا خیال کیسے رکھتا ہے؟

محمد اویس کو فکر تھی کہ کیا اب وہ اپنی تعلیم جاری رکھ پائیں گے۔ محمد عارف نے بتایا کہ محکمے نے ان سے متعلقہ دستاویزات وغیرہ مانگ لی تھیں تاہم اب تک دوبارہ ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔ اور کانسٹیبل خالد جاوید کی تنخواہ بھی انھیں تاحال موصول نہیں ہوئی تھی۔

کانسٹیبل خالد جاوید
،تصویر کا کیپشنترجمان پولیس کے مطابق 'شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی تنخواہ بھی ان کی بیوہ یا بچوں کو ملنا شروع ہو جاتی ہے اور ان کی کیٹیگری کے مطابق دیگر مراعات بھی ملتی ہیں'

لاہور پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ عموماً ضروری کاغذی کارروائی مکمل ہونے میں دو ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے جس کے بعد 'شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی تنخواہ بھی ان کی بیوہ یا بچوں کو ملنا شروع ہو جاتی ہے اور ان کی کیٹیگری کے مطابق دیگر مراعات بھی ملتی ہیں۔'

محمکہ پولیس 'شہید' کے بچوں میں سے ایک کو نوکری بھی دیتا ہے۔ یہی دیکھ کر کانسٹیبل خالد جاوید کے بیٹے محمد اویس اب یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ محکمہ پولیس میں ملازمت اختیار کر لیں۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ تعلیم حاصل کریں اور ڈاکٹر بنیں۔

'میں چاہتا ہوں جس طرح میرے بابا پولیس کی نوکری کرتے ہوئے شہید ہو گئے، میں بھی اسی طرح شہید ہونا چاہتا ہوں۔'

تاہم ان کے خاندان کے باقی افراد کا خیال ہے کہ وہ فی الحال جذباتی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اگر محمد اویس پولیس میں ملازمت اختیار بھی کریں تو اعلٰی تعلیم حاصل کر کے ایک افسر کے طور پر کریں۔