بابو سر ٹاپ: سیزن کی پہلی برفباری کے بعد راستہ مشروط طور پر کھولنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہMuhammad Asif
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
گلگت بلتستان کی ضلع دیامیر میں انتظامیہ نے سیزن کی پہلی برفباری کے بعد 13 ہزار سات سو فٹ بلندی پر واقع بابو سر ٹاپ کا راستہ مشروط طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسافر اور سیاح یہ راستہ اب صبح نو بجے سے شام چار بجے تک استعمال کر سکیں گے۔
ڈپٹی کمشنر دیامیر نے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ حالیہ برفباری کے بعد بابو سر ٹاپ کا راستہ برف کی وجہ سے خطرناک ہو چکا ہے۔ جس وجہ سے مخصوص اوقات کے علاوہ یہ راستہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔
واضح رہے گزشتہ دنوں برفباری کے سبب مانسہرہ ناران جل کٹ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی تھی، جہاں مسافر اور سیاح کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے تھے تاہم اب ٹریفک بحال ہو چکی ہے۔
اس نوٹیفکیشن کا اطلاق صرف بابو سر ٹاپ پر ہو گا جبکہ ناران اور کاغان کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔
ہوٹل ایسوسی ایشن ناران کے چیئرمین سیٹھ مطیع اللہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ بابو سر ٹاپ ایک ویران مقام ہے، جہاں پر آبادی موجود نہیں اور اگر خدا ناخواستہ کہیں کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو کسی بھی سیاح اور مسافر کو امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMuhammad Asif
بابو سر ٹاپ کا راستہ کیوں بند ہوتا ہے؟
سیٹھ مطیع اللہ کا کہنا تھا کہ بابو سر ٹاپ کا راستہ سال میں چند ماہ ہی کے لیے کھلتا ہے۔ گلگت بلتستان پہنچنے کے لیے یہ راستہ شاہراہ قراقرم اور کوہستان کی نسبت کم مسافت والا راستہ ہے، جس کو استعمال کرنے سے کم از کم چار گھنٹے کا فرق پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ سیاح ناران، کاغان کے علاوہ جل کوٹ، بابو سر ٹاپ اور دیگر مقامات کی سیر کرتے ہوئے بھی گلگت بلتستان داخل ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں اور اس کے بعد بابو سر ٹاپ اور ناران کاغان کے راستوں کے کھلے رہنے اور بند ہونے کا تمام تر انحصار موسمی حالات پر ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ایک بار پھر محکمہ موسمیات نے 19 اور 20 اکتوبر کو بارشوں اور برف باری کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔ اب اگر بابو سر ٹاپ اور کاغان میں برفباری ایک فٹ سے زائد پڑتی ہے تو پھر راستے کھولنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بابو سر ٹاپ کا راستہ اگلے سال مئی جون جبکہ ناران کاغان کا راستہ مارچ اپریل میں کھلے گا۔‘
سیٹھ مطیع اللہ کا کہنا تھا اگر یہ برف باری ایک فٹ سے کم پڑتی ہے تو پھر راستوں کو دوبارہ کھولنا ممکن ہو سکتا ہے۔
زیادہ برفباری کے بعد راستے کھولنے سے حادثات اور راستے بند ہونے کا خطرہ رہتا ہے جیسا کہ حالیہ دونوں میں سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
’بابو سر ٹاپ کا لطف اٹھانا خوفناک تھا‘
محمد آصف اور ان کی اہلیہ ثمر آصف گلگت بلتستان کی دس روزہ سیاحت کے بعد بابو سر ٹاپ کے راستے واپس ملتان جارہے تھے۔ ملتان سے ہنزہ جاتے ہوئے بھی انھوں نے بابو سر ٹاپ کے راستے کا انتخاب کیا تھا مگر وہ وادی کاغان اور بابو سر ٹاپ پر زیادہ نہیں رکے کیونکہ ان کا ارادہ تھا کہ واپسی پر وہ ان علاقوں میں ایک دن اور ایک رات گزاریں گے۔
محمد آصف بتاتے ہیں کہ ’برفباری والے روز کوئی چار بجے کے قریب ہم بابو سر ٹاپ سے کوئی ایک کلو میٹر پیچھے تھے کہ ہمیں ٹریفک مکمل طور پر بند ملی، جس میں تاحد گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ اس وقت برفباری بھی جاری تھی۔ ایک دو گاڑیوں نے کوشش کی وہ آگے بڑھ سکیں لیکن پھسلن کے باعث وہ ایسا نہ کر سکیں بلکہ مزید روڈ بلاک کرنے کا سبب بنیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ہمیں کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کر رہا تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔
’موقع پر موجود کچھ سیاحوں کا خیال تھا کہ صورتحال تھوڑی دیر میں بہتر ہو جائے گئی تاہم میں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں چلاس شہر جا کر رکنا چاہیے اور صورتحال بہتر ہونے پر دوبارہ سفر اختیار کرنا چاہیے۔‘
محمد آصف کا یہ فیصلہ ان کے لیے بہتر ثابت ہوا کیونکہ اس کے فوراً بابو سر ٹاپ پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں اور کئی سیاح اور مسافر پھنسے رہے۔
رحیم گل پشاور سے اپنے دوستوں کے ہمراہ گلگت جارہے تھے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ رات چلاس میں گزار کر اپنا سفر جاری رکھیں گے۔
رحیم گل کا کہنا تھا کہ ’جب برفباری شروع ہوئی تو ہم بابو سر ٹاپ پر تھے۔ ہمارے سامنے کئی گاڑیاں پھسلیں جس کے بعد ہم لوگ رک گئے۔ شروع میں تو ہم لوگوں نے اس برفباری کا لطف اٹھایا مگر ہمیں اس وقت پتہ نہیں تھا کہ یہ لطف ہماری لیے ساری رات کا عذاب بن جائے گا اور ہمارا سارا سفر ہی غارت ہو جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بابو سر ٹاپ پر برف باری کا لطف اٹھانا خوفناک تجربہ ثابت ہوا تھا۔
’ہم لوگ تقریباً ساری رات پھنسے رہے۔ ہم نے دیکھا کہ کئی عورتیں، بچے اور بوڑھے انتہائی مشکلات کا شکار تھے، جن کی مدد کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔‘


























