صحافی شاہد زہری کی ہلاکت: ’میرے بیٹے نے کبھی ذکر نہیں کیا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے‘

شاہد زہری
،تصویر کا کیپشنابتدائی طبی امداد کے بعد شاہد زہری کو علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا جہاں وہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

’وہ پیارکرنے والا انسان تھا۔۔۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص ابدال یا ملنگ ہے، میرا بیٹا بھی اسی طبعیت کا انسان تھا۔ اسے ناصرف اپنی بیٹیوں اور گھر والوں سے بہت زیادہ پیار تھا بلکہ وہ باہر والوں سے بھی اتنا ہی پیار کرتا تھا۔‘

بلوچستان کے صنعتی شہر حب سے تعلق رکھنے والے صحافی شاہد زہری کے والد محمد اشرف زہری کا کہنا ہے کہ شاہد نے ناصرف انھیں بلکہ خاندان کے کسی فرد سے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے تاثر ملتا کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے۔

صحافی شاہد زہری پر سنہ 2013 میں بھی حملہ ہوا تھا جس میں وہ بچ نکلے تھے مگر اتوار کی شب ہونے والا حملہ اُن کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں صحافیوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوتی رہی ہے لیکن شاہد زہری کو جس انداز سے بم حملے کا نشانہ بنایا گیا وہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد شاہد کی گاڑی کی ڈرائیونگ سائیڈ پر نصب کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے شاہد زہری شدید زخمی ہوئے اور بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

’وہ میرے بیٹوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس نے مجھ سے کبھی یہ ذکر نہیں کیا کہ اسے کہیں سے کوئی دھمکی مل رہی ہے۔۔۔ اگر مجھے پریشانی سے بچانے کے لیے اس نے ایسی کسی بات کا تذکرہ نہیں کیا تو کم از کم وہ خود تو احتیاط برتتا، مگر ہم نے اسے کبھی زندگی میں محتاط ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔‘

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ بی ایل اے نے اپنے بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے شاہد زہری پر متعدد الزام عائد کیے ہیں۔

شاہد زہری کی ہلاکت کے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے پولیس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہد زہری کے والد کا کہنا تھا کہ 'وہ اکثر شہر اور دیگر علاقوں میں اکیلا گھومتا پھرتا رہتا تھا۔۔۔ جن کو دھمکیاں ملتی ہیں وہ تو بہت زیادہ حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہیں مگر ہم نے شاہد کو گھر سے نکلتے یا کہیں آتے جاتے کوئی ایسی حفاظتی تدبیر اختیار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

کار
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق شاہد زہری کی کار کی ڈرائیونگ سائیڈ پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا

شاہد زہری کی بم دھماکے میں ہلاکت نے بلوچستان میں صحافیوں کو ایک مرتبہ پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسند تنظیموں کی لڑائی میں صحافی پِس رہے ہیں۔‘

شاہد زہری کے والد کے مطابق شاہد نے پسماندگان میں تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

شاہد زہری کون تھے؟

شاہد زہری کا تعلق بلوچستان کے شہر حب سے تھا۔ وہ سنہ 2009 میں میٹرو ون نیوز چینل سے وابستہ ہوئے اور حب سے نیوز چینل کے لیے رپورٹنگ کرتے تھے۔

حب میں موجود ان کے صحافی ساتھیوں کے مطابق شاہد زہری کو ماضی میں نہ صرف دھمکیاں ملی تھیں بلکہ اُن پر حملہ بھی ہوا تھا۔

لسبیلہ پولیس کے سربراہ ایس ایس پی طارق الہی مستوئی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شاہد زہری پر سنہ 2013 میں حملہ ہوا تھا جس میں وہ خود تو بچ گئے تھے لیکن ان کے ساتھ موجود دوسرا شخص ہلاک ہوا تھا۔

ان کی ہلاکت کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

اتوار کی شب شاہد زہری جس بم حملے کی وجہ سے ہلاک ہوئے وہ ان کی چلتی گاڑی میں ہوا۔ واقعے کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ نظر آرہا ہے کہ ایک موڑ کاٹنے کے فوراً بعد گاڑی میں دھماکہ ہوتا ہے۔

ایس ایس پی طارق الہی مستوئی نے بتایا کہ شاہد زہری آر سی ڈی شاہراہ پر سرخ رنگ کی ایک کار میں اکیلے سفر کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جب ان کی گاڑی سٹی پولیس سٹیشن کے قریب پہنچی تو اس میں زوردار دھماکہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد ان کو علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا جہاں وہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ضلعی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد گاڑی کی ڈرائیونگ سائیڈ پر نصب کیا گیا تھا جس کی وجہ سے گاڑی کا یہ حصہ زیادہ متاثر ہوا۔

لاش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

مقدمے کے اندراج کے بعد واقعے کی مختلف پہلوﺅں سے تحقیقات؟

ایس ایس پی لسبیلہ نے بتایا کہ شاہد زہری کی ہلاکت کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں جو مواد استعمال کیا گیا تھا اس کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں جبکہ اس واقعے کے حوالے سے دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

’وہ آخر کہیں رکے ہوں گے جہاں ان کی گاڑی میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا ہو گا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ وہ شہر کے کن کن علاقوں سے گزرے اور کہاں کہاں رکے۔‘

یہ بھی پڑھیے

حب میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا دوسرا واقعہ؟

حب کراچی سے متصل بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔ سنہ 2000 میں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے حب میں بھی بدامنی کے دیگر واقعات کے علاوہ بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی پیش آتے رہے۔

شاہد زہری کی ہلاکت سے قبل سنہ 2007 میں بھی حب میں ایک صحافی خادم شیخ کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ خادم شیخ حب سے سندھ ٹی وی کے لیے رپورٹنگ کرتے تھے۔

شاہد زہری کی ہلاکت سے حب اور دیگر علاقوں میں صحافیوں میں خوف و ہراس

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے حب میں شاہد زہری کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں بی یو جے کے صدر سلمان اشرف اور دیگر عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد ازجلد گرفتار کر کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

شاہد زہری کی ہلاکت کے واقعے کے بعد حب میں ایک مرتبہ پھر صحافیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

صحافت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حب کے ایک سینیئر صحافی نے بتایا کہ ’حب سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے باعث پہلے ہی صحافی خوف کے ماحول میں کام کر رہے تھے لیکن اس واقعے نے ہماری تشویش میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کر دیا ہے۔‘

’ہم گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں اور ان کو مختلف علاقوں میں پارک کرتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہو سکے گا کہ ہم ہر جگہ رکنے کے بعد یہ دیکھ سکیں کہ ہماری گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں کے ساتھ کوئی چیز نصب تو نہیں نصب کی گئی۔‘

انھوں نے بتایا کہ آزادی صحافت یہاں پہلے سے ناپید تھی لیکن لوگوں کو جو تھوڑی بہت معلومات فراہم کی جا سکتی تھیں ایسے واقعات کے بعد وہ بھی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

سینئر صحافی کے مطابق حب میں صحافیوں پر دونوں جانب سے دباﺅ ہے۔

’حکومتی ادارے کہتے ہیں کہ علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کی کوریج نہ کرو اور ہم جب ایسا کرتے ہیں تو عسکریت پسند پھر صحافیوں کو خفیہ اداروں کا آلہ کار قرار دے کر ٹارگٹ کرتے ہیں۔‘

حب سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیئر صحافی نے کہا کہ بلوچستان میں آزادانہ صحافت اب ممکن نہیں کیونکہ یہ کسی بھی فریق کے لیے قابل برداشت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خوف کی وجہ سے صحافی بہت سارے واقعات کی کوریج نہیں کرتے ہیں اور اگر مجبوری کے عالم میں بعض واقعات کی کوریج کرنی پڑے تو سیلف سینسر شپ کی وجہ سے درست معلومات نہیں پہنچائی جا سکتیں۔

انھوں نے اسے صحافیوں کے لیے ایک مشکل اور خطرناک صورتحال قرار دیا۔

فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ خوف کی وجہ سے کوئٹہ جیسے شہر میں بھی صحافی بہت ساری تنظیموں کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسا کرنے سے ان پر کسی کے ایجنٹ ہونے کا لیبل لگ سکتا ہے۔‘

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں صحافیوں کی ہلاکت

بلوچستان میں صحافیوں پر حملوں میں اضافہ سنہ 2007 سے ہوا۔ پی ایف یو جے کے صدر کے مطابق بلوچستان میں گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران مجموعی طور پر 43 صحافی مارے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے 25 صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ باقی فرائض کی انجام دہی کے دوران بم دھماکوں اور اس نوعیت کے دیگر واقعات میں مارے گئے۔

شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسند تنظیموں کی لڑائی میں صحافیوں کو گھسیٹا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ صحافی عسکریت پسند تنظیم کے ساتھ ملا ہوا تھا اس لیے ٹارگٹ ہوا، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ سکیورٹی فورسز کے لیے کام کر رہا تھا اس لیے مارا گیا، یہ بات اب ختم ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'اگر دونوں اطراف سے کسی کو کسی صحافی کی سرگرمیوں پر شک ہے تو وہ ہم سے بات کرے اور بہت سی تنظیمیں اور پریس کلب موجود ہیں جہاں اس بات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جو 25 صحافی ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں، ان میں سے بھی صرف 8 سے 10 کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں نے قبول کی ہیں جبکہ باقی صحافیوں کے قتل کے محرکات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔‘