سندھ میں کورونا کی ویکسین نہ لگوانے پر 91 افراد گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
پاکستان کے صوبہ سندھ میں اگر آپ کے پاس ویکیسن کارڈ دستیاب نہیں یا آپ نے ویکیسن نہیں لگوائی تو آپ کو تھانے بھی جانا پڑسکتا ہے، اس جرم کی سزا ایک ماہ قید یا دوسو روپے جرمانہ ہوسکتی ہے۔
شمالی سندھ کے ضلعہ سکھر میں پولیس نے گذ شتہ روز 91 افراد کو حراست میں لیا اور ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی شق 188 اور دفعہ 144 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ 188 کی شق کےتحت اگر کوئی حکم عدولی کرتا ہے، کسی سرکاری ملازم کو نقصان پہنچاتا ہے یا اس سے کسی کی زندگی، صحت یا سکیورٹی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے تو اس شخص کو حراست میں لیا جاسکتا ہے اور اس کو ایک ماہ قید یا دوسو رپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
سکھر میں سرکار کی مدعیت میں تماچانی تھانے میں دائر ایک مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ شام چار بجے کے قریب وہ کورونا ویکسین کے کارڈ چیک کرنے کے لیے گشت کر رہے تھے۔
`مدرسہ پکٹ پر ناکہ بندی کر کے ویکسین کارڈ چیک کر رہے تھے کہ سامنے سے 6 افراد آ رہے تھے ان سے ویکسین کارڈ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہے جس پر انھیں حراست میں لیا گیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق گرفتار افراد سے شخصی ضمانت کے لیے کہا گیا لیکن وہ فراہم نہیں کرسکے لہذا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی سکھر عرفان سموں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے 15 مقدمات دائر کیے گئے ہیں اور 91 افراد کو حراست میں لیا گیا، انھوں نے بتایا کہ گشت کے علاوہ ہوٹلوں، شاپنگ مال کو بھی چیک کیا جارہا ہے جہاں کورونا ویکسین کارڈ سے داخلہ مشروط کی گیا تھا۔ اگر کس کے پاس کارڈ دستیاب نہیں یا اس نے ویکسین نے نہیں لگوائی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں پہلا قرنطینہ سینٹر سکھر میں ہی قائم کیا گیا تھا جہاں ایران سے آنے والے زائرین کو رکھا گیا تھا، اس وقت وہاں 637 ایکٹو کیس ہیں جبکہ اس وقت تک 42 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق ساڑھے تین لاکھ کے قریب افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے جو کل آبادی کا 27 فیصد ہے۔
دوسری جانب آئی جی سندھ کی جانب سے تمام اضلاع کے افسران کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ حکومت سندھ کی ہدایت پر کورونا ویکسین کارڈ چیک کرنے کی مہم کا فوری آغاز کیا جائے اور اس بارے میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ارسال کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزید پڑھیے
اس سے قبل محکمہ داخلہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ویکسین کارڈ چیک کریں اور عدم دستیابی پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ 24 گھنٹوں میں15مریض انتقال کر گئے جس سے اموات کی مجموعی تعداد7310 ہوگئی ہے جبکہ 784 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ اس وقت تک صوبے میں ساڑھے چار لاکھ کے قریب کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ملک بھر کے عوام کے لیے این سی او سی کا انتباہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس سے قبل 21 ستمبر کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے اپنے ایک پیغام میں ویکسین نہ لگوانے والوں کو خبردار کیا تھا۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مزید 58 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 2357 نئے کورونا کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایکٹو کورونا کیسوں کی تعداد 61558 ہے اور گذشتہ ایک روز میں 48151 ٹیسٹ کیے گئے۔
این سی او سی کی ویب سائٹ کے مطابق ملک میں اب تک 56229457 افراد نے ویکسین کی ایک ایک ڈوز لگوا لی ہے جبکہ 25493964 افراد مکمل ویسکین لگوا چکے ہیں۔
پاکستان میں کورو نا کے باعث ہلاکتوں کی کل تعداد 27432 ہو چکی ہے جبکہ 4561 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ وبا کے آغاز سے اب تک ملک میں کل 1232595 کیس سامنے آ چکے ہیں۔

























