اپوزیشن جماعتیں وقت سے پہلے عام انتخابات کی تیاریاں کیوں کر رہی ہیں؟

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں عام انتخابات میں لگ بھگ دو برس کا عرصہ تاحال باقی ہے تاہم نا صرف حزبِ اختلاف کی جماعتیں بلکہ حکمراں جماعت کی چند اہم شخصیات بھی وقت سے پہلے عام انتخابات کے امکانات کی بات کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

حال ہی میں وفاق میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انھیں انتخابات کی تیاری کی ہدایت کی کیونکہ ان کے خیال میں ’انتخابات جلد ہونے جا رہے ہیں۔‘

پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ حزبِ اختلاف کی دیگر بڑی جماعتوں نے حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سمیت جماعت کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت میں پی ڈی ایم کی قیادت کی جانب سے روایتی بیانات سامنے آئے لیکن کیا درحقیقت پی ڈی ایم میں بھی وقت سے پہلے انتخابات کی تیاری کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے اور کیا پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں کسی انتخابی اتحاد کے بارے غور کر رہی ہیں؟

بظاہر پاکستان کے اندر ایسے کوئی حالات نظر نہیں آتے جو عموماً وقت سے پہلے انتخابات کی شکل اختیار کر سکیں نہ ہی کوئی بیرونی صورتحال اس پر اثرانداز ہوتی نظر آتی ہے۔

تو پھر موجودہ حکومت وقت سے پہلے انتخابات کیوں کروانا چاہے گی؟ تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ اس بات کے امکانات کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے خیال میں ایسا ہو سکتا ہے کہ حکمران جماعت ایک سیاسی حکمتِ عملی کے تحت ایسا کرنا چاہے۔

یہ سیاسی حکمتِ عملی اگلے عام انتخابات کے سال یعنی سنہ 2023 میں ممکنہ طور پر پائے جانے والے حالات کے گرد گھومتی ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

حزبِ اختلاف کی جماعتیں کیا دیکھ رہی ہیں؟

ملک کی دو بڑی حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں یعنی ن لیگ اور پی پی پی بھی یہ سمجھتی ہیں کہ عام انتخابات وقت سے پہلے ہوں گے اور انھوں نے اس کے لیے تیاریوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمٰی بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تاثر درست ہے کہ ان کی جماعت وقت سے پہلے انتخابات کی تیاریاں کر رہی ہے۔

'ہمیں باوثوق ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے بھی اپنی جماعت کو وقت سے پہلے انتخابات کی تیاری کی ہدایات دے دی ہیں۔'

ان کے خیال میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر ایسی ہدایات جاری کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ 'انھیں معلوم ہے کہ ملک کے حالات کیسے ہیں، ملک تو ان سے چل نہیں رہا اور ایسے حالات میں اس طرح زیادہ دیر نہیں چلے گا۔'

عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس کے لیے تیار تھی۔ 'ہم نے ضلعی اور یونین سطح تک تنظیم سازی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ تیاری سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمارے کارکنان متحرک ہیں۔ باقی جو انتخابی معاملات ہیں وہ وقت آنے پر طے کر لیے جائیں گے۔'

'لیڈر وہی ہوتا ہے جو آنے والی صورتحال بھانپ لے'

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے پنجاب اسمبلی کے ممبر اور پارلیمانی لیڈر حسن مرتضٰی نے بھی بی بی بی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت کے چیئرمین کی طرف سے ہدایات کے بعد ان کی جماعت بھی وقت سے پہلے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے۔

’ہمارے خیال میں پاکستان میں انتخابات وقت سے پہلے ہوں گے۔ ہمارے چیئرمین نے جو بات کی ہے وہ ایک دور اندیش رہنما کی بات ہے۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو موجودہ صورتحال ہی سے بھانپ لے کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔'

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPpp

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایسی جماعت نہیں ہے جو کسی کے اشاروں میں آئے یا اس کو کسی طرف سے اشارے ملتے ہوں۔ حسن مرتضٰی کے مطابق ان کی جماعت نے وقت سے پہلے انتخابات کے امکانات کے پیشِ نظر سیاسی سرگرمی کا آغاز کر دیا ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کیوں ہوں گے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس بارے میں بات کر کے حکمراں جماعت کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ اگر وہ وقت سے پہلے انتخابات کی طرف گئی تو حزبِ اختلاف بھی تیار ہے؟

تاہم حکمراں جماعت کیوں چاہے گی کہ اپنی بظاہر مستحکم حکومت کو ختم کر کے جلد انتخابات کا راستہ اختیار کرے؟

حکمران جماعت وقت سے پہلے انتخابات کیوں چاہے گی؟

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی وجہ انتخابات کے سال میں پائے جانے والے ممکنہ حالات ہو سکتے ہیں۔

’سیاسی جماعتیں انتخابات کے سال میں ہونے والے ممکنہ حالات پر نظر رکھتی ہیں۔ سنہ 2023 میں قاضی فائز عیسٰی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے اور موجودہ آرمی چیف بھی معلوم نہیں اس وقت ہوں یا نہ ہوں۔ اس لیے پاکستان تحریک انصاف چاہے گی کہ اس سے قبل ہی انتخابات ہو جائیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

قاضی فائز عیسٰی سنہ 2023 میں اگست میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں۔ ان سے قبل لگ بھگ 19 ماہ کے لیے یہ عہدہ جسٹس عمر عطا بندیال کے پاس رہے گا۔

سہیل وڑائچ کے مطابق یہی وہ وقت ہے جس کے دوران موجودہ حکمراں جماعت چاہے گی کہ وہ عام انتخابات کروا لے۔ 'یہی وجہ ہے کہ حکمراں جماعت کے اندر بھی کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کروانے سے انھیں فائدہ ہو گا۔'

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا یہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی سیاسی چال ہو سکتی ہے؟

صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے خیال میں حکمراں جماعت بظاہر ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ 'میری پاکستان تحریکِ انصاف میں جتنے لوگوں سے بات چیت ہوئی ہے، اُن میں سے کوئی بھی اس کا حامی نہیں ہے۔'

ان کے خیال میں اس وقت حالات بھی ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کو وقت سے پہلے انتخابات کی طرف جانے کی ضرورت محسوس ہو۔ 'افغانستان کی صورتحال سے بھی موجودہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور اندرونی طور پر بھی اسے بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔'

مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق حزبِ اختلاف کی جماعتیں محض حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس قسم کے بیانات کا استعمال کر رہی ہیں جن سے یہ بیانیہ بنے کہ حکمراں جماعت وقت سے پہلے انتخابات چاہتی ہے، حالانکہ ایسا ہے نہیں۔

'اور سیاسی جماعتیں ایسی باتوں سے اپنے انتخابی حلقوں کو متحرک بھی کرتی ہیں کیونکہ عام انتخابات میں اب ویسے بھی کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تو تیاری تو انھیں کرنی ہی ہے۔'

کیا پی ڈی ایم آنے والے انتخابات میں کردار ادا کرے گی؟

ایک طویل دورانیے کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو بھی متحرک کیا ہے، تو کیا پی ڈی ایم بھی آنے والے انتخابات میں کردار ادا کر سکتی ہے؟

تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے خیال میں آنے والے انتخابات میں پی ڈی ایم کوئی زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کر پائے گی کیونکہ 'سیاسی جماعتیں انفرادی حیثیت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دیں گی۔'

تاہم صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ 'اگر سیاسی جماعتوں کو پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں ہرانا ہے تو انھیں کسی نہ کسی قسم کا اتحاد تو بنانا پڑے گا۔ پی ٹی آئی انتخابی حیثیت سے مضبوط ہو رہی ہے حال ہی میں اس نے سیالکوٹ کے ضمنی اور کشمیر کے عام انتخابات جیتے ہیں۔'

سہیل وڑائچ کے خیال میں اس وقت پی ڈی ایم کے اندر جو جماعتیں شامل ہیں ان کے درمیان انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'پی پی پی کو پنجاب میں کچھ ملے گا تو وہ واپس آ سکتی ہے'

تاہم کیا پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس اتحاد کا حصہ بننے کے لیے واپس پی ڈی ایم میں آ سکتی ہے؟ تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق اس بات کے امکانات بہت کم ہیں۔ ان کے خیال میں پی پی پی اور ن لیگ دونوں کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ دوسری جماعت نے حکمراں جماعت سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔

تاہم سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ پی پی پی کے پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت یا کسی قسم کے سیاسی اتحاد کا دارومدار اس بات پر ہے کہ 'پی پی پی کو صوبہ پنجاب میں کیا کچھ ملتا ہے۔ اگر پنجاب میں اسے کچھ نہیں دیا جاتا تو وہ کیوں صوبہ سندھ میں کچھ دینا چاہے گی۔'

یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں ن لیگ چند نشستوں کے فرق سے دوسری بڑی جماعت ہے اور پی پی پی کی محض سات نشستیں ہیں۔

تجزیہ کار سہیل وڑایچ وقت سے پہلے انتخابات کے امکانات کو رد نہیں کرتے تاہم ان کے خیال میں بھی 'حکمراں جماعت ایسا نہیں کرے گی۔ اس سے پہلے پی پی پی نے بھی نہیں کیا اور ن لیگ نے بھی ایسا نہیں کیا، میرا خیال ہے پی ٹی آئی بھی نہیں کرے گی۔'