کووڈ 19: کیا پاکستان میں کورونا مریضوں کی جان بچانے والی ایمرجنسی ادویات ملنے میں مشکل پیش آ رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
کورونا میں مبتلا نمرہ کے والد کو ڈاکٹرز نے خون پتلا کرنے والے انجیکشن ’کلیزن‘ تجویز کیے لیکن چونکہ تجویز کردہ انجیکشن ہسپتال میں دستیاب نہیں تھا اس لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں گذشتہ نو دن سے زیرِ علاج اپنے والد کے لیے نمرہ کو ان انجیکشنز کا بندوبست بازار سے خود کرنا تھا۔
’ہم تین بہنیں ہیں۔ میری دو بہنیں ملک سے باہر ہوتی ہیں، اس لیے اپنے ابو کو آئی سی یو میں چھوڑ کر ان انجیکشنز کی تلاش میں نکلنا میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔‘
نمرہ بتاتی ہیں اس دن انھیں زندگی میں پہلی دفعہ یہ خیال آیا کہ ’کاش ان کا بھی کوئی بھائی ہوتا جو ان انجیکشنز کی تلاش میں اُن کی مدد کر دیتا۔‘
نمرہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی تمام فارمیسیز چھان ماریں لیکن انھیں یہ انجیکشن کہیں سے نہیں ملا۔ بلآخر انھوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور درخواست کی کہ اگر کسی کے پاس یہ انجیکشن ہے یا اس بارے میں کوئی معلومات ہے تو اُن کے ساتھ رابطہ کرے۔
’سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بعد میرے کچھ دوست یہ انجیکشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن جب تک یہ انجیکشن مجھے ملے بہت دیر ہو چکی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ادویات یا تو مل نہیں رہی اور اگر مل رہی ہیں تو بہت مہنگی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
نمرہ کے والد نہیں رہے مگر وہ پاکستان کی واحد شہری نہیں ہیں جنھیں ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے دوران ادویات کے قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس وبا سے متاثر ہونے ہونے والے افراد کے رشتہ دار اور دوست اپنے پیاروں کے لیے کورونا کی ادویات ہر طرف ڈھونڈتے نظر آئے۔ کوئی احباب سے درخواست کرتا رہا تو کسی نے سوشل میڈیا پر درخواست کی۔
بلاول علی خان کورونا میں مبتلا اپنے ایک عزیر کے لیے ’اکٹمرا‘ انجیکشن اسلام آباد اور راولپنڈی میں تلاش کرتے رہے لیکن انھیں یہ انجیکشن عام کیمسٹ کی دوکان پر میسر نہیں ہوئے اور ان کے مطابق جن کے پاس یہ دستیاب تھے وہ اس کی منھ مانگی قیمت مانگ رہے تھے۔
’ایکٹمرا انجیکشن دو سو ایم جی کی قیمت تقریباً 30 ہزار روپے ہے جبکہ ہمیں یہ 70 ہزار روپے میں دیا جا رہا تھا۔‘
بلاول کا کہنا ہے کہ کورونا کے ہاتھوں مجبور لوگ ان ادویات کو منھ مانگی قیمت پر خریدنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں ادویات اور آکسیجن کی قلت کب ہوئی؟
پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کا آغاز جب رواں برس مارچ کے وسط میں ہوا تو کورونا کیسز کی یومیہ تعداد اتنی تیزی سے بڑھی کہ چند دنوں ہی میں ہسپتالوں کے آئی سی یو بستر اور وینٹیلیٹرز گنجائش کی حد تک بھر گئے۔
بڑھتے کیسز کے پیش نظر حکومت نے کورونا سے متعلق پابندیاں بڑھاتے ہوئے حفاظتی اقدامات اٹھانے شروع کر دیے لیکن کورونا کے کیسز بڑھتے چلے گئے۔ 18 اپریل 2021 کو وبا کے آغاز کے بعد سے دوسری مرتبہ ملک میں چھ ہزار سے زائد یومیہ کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز نے 23 اپریل کو اعلان کیا کہ ہسپتال میں کورونا مریضوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہوگئی ہے لہذا حکومت آئی سی یو بستروں میں فوراً اضافہ کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ کووڈ سے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہوتا رہا اور 28 اپریل کو پاکستان میں وبا کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ 201 یومیہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے بیان کے مطابق پاکستان اپریل کے آخری ہفتے میں ملک میں تیار کردہ آکسیجن کا 90 فیصد ہسپتالوں میں استعمال کر رہا تھا۔
سماجی کارکن سلمان صوفی نے ملک میں آکسیجن کی کمی کے بائث آکسیجن بینک قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس بینک کا مقصد گھر میں زیر علاج کورونا کے مریضوں کو حکومت کے طے شدہ قیمت پر آکسیجن سلینڈر فراہم کرنا ہے۔
سلمان صوفی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں آکسیجن کی قلت ہے لیکن یہ قلت اس پیمانے کی نہیں ہے جیسا کہ ہم نے انڈیا میں دیکھی۔ لیکن کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر نہ صرف لوگوں نے ضرورت کے بغیر آکسیجن سلینڈر خریدنا شروع کر دیے بلکہ اس کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اس کی قیمت بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا۔
’ہم نے کورونا کی دوسری لہر کی دوران بھی لوگوں کو آکسیجن سلینڈرز فراہم کیے لیکن تیسری لہر کے دوران ان کی مانگ پچھلی دو لہروں سے کہیں زیادہ تھی۔‘
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ تیسری لہر کے دوران پاکستان میں چند ادویات جیسا کہ ’اکٹمرا‘ انجیکشن کی مانگ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے قلت ہوئی لیکن حکومت نے بروقت ہی اس کو درآمد کر کے اس قلت پر قابو پا لیا، اس کے علاوہ ملک میں آکسیجن کی کمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آکسیجن پیداوار کا 90 فیصد حصہ ہسپتالوں میں استعمال ہو رہا ہے لیکن ملک میں اس کی قلت نہیں۔
’ہم نے دوسری لہر کے دوران نہ صرف ایک ہزار آکسیجن بستروں کا اضافہ کیا بلکہ اپنی یومیہ پیداوار بھی بڑھائی۔ اگر ہم اس وقت وہ اقدام نہ کرتے تو اس وقت پاکستان میں بھی انڈیا جیسے حالات ہوتے۔‘
ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پاکستان نے تیسری لہر کے دوران چھ ہزار ٹن آکسیجن اور 5000 سلینڈرز درآمد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ آکسیجن کی پیداوار کے لیے متعبادل زرائع بھی تلاش کیے جا رہے ہیں جیساکہ کئی سالوں سے بند سٹیل مل کا آکسیجن پلانٹ کو دوبارہ فعال کیا گیا۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران ادویات، صحت کی سہولیات اور آکسیجن کی فراہمی حکومت کا فرض ضرور ہے لیکن شہریوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مانگ میں اضافہ کو منافع خوری کا موقع سمجھتے ہوئے ذخیرہ اندوزی نہ کریں اور حکومت کے طے شدہ قمتوں پر اس کی فراہمی یقینی بنائیں۔



























