عمران خان کے ’مغرب کو جاننے‘ پر سوشل میڈیا صارفین کا ردِعمل: ’کاش مجھے یونیورسٹی کا سیلیبس ایسے یاد ہوتا جتنا عمران خان کو مغرب یاد ہے‘

عمران

،تصویر کا ذریعہFacebook\@ImranKhanOfficial

وقت اشاعت

’میرے پاکستانیوں۔۔۔۔ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔۔۔ ریاست مدینہ۔۔۔۔ جب میں کرکٹ سے سیاست میں آیا۔۔۔ نواز شریف، شہباز شریف کی کرپشن۔۔۔ این آر او نہیں ملے گا۔۔۔ پی ڈی ایم۔۔۔ مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘

یقیناً جب بھی یہ چند فقرے آپ کے کانوں سے ٹکراتے ہیں تو آپ کو علم ہو جاتا ہے کہ ٹی وی یا ریڈیو پر ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر، خطاب یا بیان کا کوئی حصہ چل رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے بعض حریف بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ فن خطابت بخوبی جانتے ہیں، چاہے وہ دور اپوزیشن میں ’نیا پاکستان‘ بنانے کے متعلق کی گئی باتیں ہو یا حالیہ منصب سنبھالنے کے بعد پاکستانی معاشرے میں جدید اسلامی ریاست کی تشکیل کی کوشش ہو، وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر ہمیشہ موضوع بحث رہی ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو خود ان کی طلسماتی شخصیت، تو دوسرا ان کے حامیوں کا اس بات پر اترانا کہ وہ پہلے وزرائے اعظموں کی طرح ملکی و بین الاقوامی سطح پر خطابات اور تقاریر کے دوران نوٹس یعنی ’پرچی‘ کا استعمال نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیے

اگر وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر کا جائزہ لیا جائے تو کئی ایسے الفاظ اور فقرے ہیں جو اب ان کی تقریر کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک فقرہ ’ویسٹ (مغرب) کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا‘ ہے جس کا استعمال آج کل وہ اپنی بیشتر تقاریر میں کرتے نظر آتے ہیں۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کی ایک مثال گذشتہ روز ملتان میں ان کی ایک تقریر کے دوران سامنے آئی جب انھوں نے کہا کہ ’میں، میرے پاکستانیو! میں، مغرب کو سب سے بہتر جانتا ہوں، کوئی مغرب کو اس طرح اندر سے نہیں سمجھتا جتنا میں سمجھتا ہوں۔ میری زندگی کے 20 سال وہاں پیشہ ورانہ کرکٹر کی حیثیت سے گزرے ہیں۔ میں وہاں یونیورسٹی گیا۔ میں ان کی سوچ کو جانتا ہوں۔‘

وزیر اعظم عمران خان دراصل عوام سے یہ کہنا چاہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کی توہین کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے مغربی ممالک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وزیر اعظم عمران خان مغربی ممالک میں گزارے ہوئے اپنے وقت کے تجربات کی روشنی میں عوام کو ان ممالک کے طرز عمل کے بارے میں بتانے کی کوشش کر رہے تھے تاہم اس مسئلے کے بجائے سوشل میڈیا پر یہ بات زیر بحث ہے کہ آخر عمران خان مغرب میں اپنی زندگی کا اتنا حوالہ کیوں دیتے ہیں اور آیا مغربی ممالک کا کلچر ایک ’آبسیشن‘ بن کر ان کے ’ذہن پر غالب آگیا ہے؟‘

یاد رہے یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ عمران خان نے اپنی تقاریر میں مغرب کا حوالہ دیا ہو، اس سے قبل بھی وہ مغرب میں اسلاموفوبیا، بے حیائی اور دیگر موضوعات کو بارہا اپنی تقاریر کا موضوع بنا چکے ہیں۔

،ویڈیو کیپشنعمران خان کا سیاسی سفر: ’مجھے وزیر اعظم بننے میں کوئی دلچسپی نہیں‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

وزیر اعظم کے مغربی ممالک اور ثقافت کو جاننے کے بیان کے بعد ملک کے سوشل میڈیا صارفین نے اس پر مختلف تبصروں اور میمز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

فریحہ اعوان نامی ایک ٹوئٹر صارف نے عمران خان کی تقاریر کو ایک میم کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں انھوں نے ایک بنگو کارڈ پر عمران خان کے وہ تمام مقبول الفاظ لکھے ہیں جو وہ اکثر اپنی تقاریر میں بولتے ہیں، جیسے ’میرے پاس سب کچھ تھا۔‘

فریحہ

،تصویر کا ذریعہ@fay_alif

جبکہ ماہین عثمانی نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی تقاریر میں مغرب کا حوالے دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر وزیر اعظم نے ہر مرتبہ یہ (مغرب کو بہتر جانتا ہوں) کہنے پر مجھے ایک ڈالر ملتا تو میں امیر ہوتی۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@MaheenUsmani

ماہم نامی صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا ہے کہ ’کاش مجھے اپنا یونیورسٹی کا سیلیبس اتنا ہی یاد ہوتا جتنا عمران خان کو مغرب یاد ہے۔‘

مریم صبیح وزیر اعظم پاکستان سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’پاکستان سے تعلق رکھنے والے کئی امریکیوں کی طرح میں مغرب میں پیدا ہوئی۔ مجھے لگتا ہے میں مغرب کو عمران خان سے زیادہ جانتی ہوں۔‘

عمران

،تصویر کا ذریعہ@bussbohathogaya

ایک اور صارف نے لکھا ’عمران خان جتنا مغرب کو سٹاک کرتے ہیں، مغرب نے تنگ آ کر ان کے خلاف عدالت سے حکمِ امتناعی جاری کروا لینا ہے کہ میرا پیچھا چھوڑ دیں۔‘

اور عائشہ نامی صارف چاہتی ہیں کہ ’کاش کوئی مجھے ویسے ہی سمجھے جیسے عمران خان مغرب کو سمجھتے ہیں۔‘

meriamsabih

،تصویر کا ذریعہ@meriamsabih

ذوالقرنین ساہی نے اس صورتحال کو کچھ یوں بیان کیا ہے:

پرانا ڈائیلاگ: ’لگتا ہی نہیں ہم اب ملے ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے ہم جنم جنم سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں‘

نیا ڈائیلاگ: ’ایسے لگتا ہے جیسے تم عمران خان ہو اور میں مغرب‘