براڈ شیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ: ’بیوروکریسی نے براڈ شیٹ کیس کا ریکارڈ چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی‘

جسٹس ریٹایرڈ عظمت سعید

،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

تحریک انصاف کی حکومت نے براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں پانچ افراد کے خلاف فوری طور پر فوجداری مقدمات قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کمیشن نے ان پانچ افراد کو مرکزی ملزمان قرار دیا یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ سنہ 2011 سے سنہ 2018 کا عرصہ نیب کا ’تاریک ترین‘ دور تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں قائم براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں جن افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ان میں ماہر قانون احمر بلال صوفی، اس وقت ایف بی آر کے عہدیدار حسن ثاقب شیخ، اس وقت کے وزارت قانون کے جوائنٹ سیکریٹری غلام رسول، برطانیہ میں سابق ڈپٹی کمشنر عبدالباسط، اس وقت سفارت خانے میں بطور ڈائریکٹر آڈٹ اینڈ اکاؤئنٹس تعینات رہنے والے شاہد علی بیگ اور یہ معاہدہ کروانے والے طارق فواد ملک شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ حکومت براڈ شیٹ سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔

براڈ شیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ میں بیوروکریسی پر متعلقہ ریکارڈ چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرنے اور اسے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں غائب کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فواد چوہدری نے گذشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن نے سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے بھی غفلت کی نشاندہی کی ہے اور اصلی دستاویزات حکومت کے پاس ہیں، اس کی بنیاد پر سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس اکاؤنٹس کیس دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ہمارے قانونی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی کمیشن نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیں اور کمیشن نے رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم عمران خان کو ارسال کی تھی جسے آج وفاقی کابینہ کے فیصلے بعد پبلک کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رواں برس جنوری میں وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ کے معاملے پر ریٹائرڈ جج عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی تھی جسے اپنی تحقیقات 45 روز میں مکمل کرنا تھی۔

’سوئس اکاؤنٹس سے متعلق دستاویزات غائب ہو گئے اور کسی کو پتا بھی نہیں چلا‘

فواد چوہدری کا اس بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ماضی میں سابق چیئرمین نیب قمر زمان اور دیگر پراسیکیوٹرز کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سوئس اکاؤنٹس اور اس سے متعلقہ دستاویزات غائب ہو گئے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن کی تجاویز کے مطابق سابق چیئرمین قمر زمان اور نیب کے اس وقت کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا اور آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کی دیگر قیادت اس وقت اس لیے بری ہوئی تھی کہ نیب کے پاس سوئس اکاؤنٹس کا اصل ریکارڈ نہیں تھا جو کہ دراصل ایک جھوٹ تھا لیکن جسٹس عظمت سعید شیخ نے اوریجنل ریکارڈ دریافت کیا ہے جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن کے مطابق شہادتوں کو ضائع کرنا یا چھپانا مجرمانہ فعل ہے لہٰذا اس کے وقت کے ڈائریکٹر جنرل نیب اور پراسیکیوٹر جنرل اور دیگر لوگوں کے خلاف بھی فوجداری کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔

براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ میں کیا ہے؟

نیب

،تصویر کا ذریعہNAB

،تصویر کا کیپشنکاوے موسوی نے پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب پر 'دھوکہ دہی' کا الزام عائد کیا ہے تاہم اب تک نیب کی جانب سے اس پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا

جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت براڈ شیٹ سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔

براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بیوروکریسی نے براڈ شیٹ کا ریکارڈ چھپانے اور گم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، ریکارڈ کو کئی محکموں حتیٰ کہ دوسرے براعظم تک سے غائب کروایا گیا۔ براڈ شیٹ کے معاہدے کا حکومتی ریکارڈ نہ صرف پاکستان بلکہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے بھی غائب کروایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی اداروں اور بیورو کریسی کے عدم تعاون پر موہن داس گاندھی کو فخر محسوس ہوا ہو گا۔

براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کاوے موسوی سزا یافتہ شخص ہے جس نے بعض شخصیات پر الزامات لگائے، تاہم موسوی کے الزامات کی تحقیقات کمیشن کے ٹی او آرز میں شامل نہیں تھیں اس لیے حکومت چاہے تو کاوے موسوی کے الزامات کی تحقیقات کروا سکتی ہے۔

براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ کرتے وقت بین الاقوامی قوانین اور استعداد کی کمی دیکھنے میں آئی۔

براڈ شیٹ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتی سسٹم کی وجہ سے ملک کی بدنامی اور مالی نقصان ہوا۔ براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ناقص تھا اور یہ معاہدہ منسوخ کرنا ناگزیر تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی کرپٹ لوگوں کی فہرست براڈ شیٹ کو دی جانا ایک حقیقت ہے۔ فہرست کے مطابق سیاسی کرپٹ لوگوں کی تحقیقات ہونا تھی اور اس فہرست کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی اہم ہدف نواز شریف اور ان کے خاندان کو رات کے اندھیرے میں بیرون ملک بھجوا دیا گیا۔

کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب بھی کوئی غیر ملک، قومی معاملات میں ملوث ہوتا ہے تو ملکی خود مختاری پر سمجھوتہ ہوتا ہے۔

کمیشن رپورٹ نے براڈ شیٹ کمپنی سے معاہدے میں ماہر قانون دان احمربلال صوفی کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین نیب نوید احسان کےکمیشن کے سامنے دیے گئے بیان کے مطابق احمر بلال صوفی نے جیری جیمز کے ساتھ معاہدے سے تعلق کچھ نہیں بتایا، جبکہ انھوں نے ہی اس وقت کے براڈشیٹ کے چیئرمین جیری جیمز سے رابطہ کیا تھا۔

انکوائری کمیشن کے مطابق سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب احمر بلال صوفی کا نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان سنہ 2002 میں معاہدے کے منسوخی کے حوالے سے کردار مشکوک ہے جس پر تحقیقات کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ احمر بلال صوفی کو تحریک انصاف حکومت کی جانب سے پانچ اگست 2019 میں انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے بعد کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی برادری سے قانونی رابطوں کے حوالے سے ایک ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی جبکہ اب انکوائری کمیشن کی سفارشات کے روشنی میں ان کے خلاف حکومت نے فوجداری مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم احمر بلال صوفی نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ براڈ شیٹ کمیشن نے ان کا مؤقف سنے بغیر ان پر الزامات عائد کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ نیب کے وکیل تھے اور اپنے موکل کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔

احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ ’نیب نے جب براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا تو ان سے اس بارے میں نہ مشاورت کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے مخالف فریق سے بات چیت کے لیے لندن بھیجا گیا۔‘

صوفی
،تصویر کا کیپشنانکوائری کمیشن کے مطابق سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب احمر بلال صوفی کا نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان سنہ 2002 میں معاہدے کے منسوخی کے حوالے سے کردار مشکوک ہے جس پر تحقیقات کرنا ضروری ہے

انھوں نے کہا کہ ’وہ اپنے دوستوں سے صلاح مشورے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کمیشن کی رپورٹ کا جواب کس فورم پر دینا ہے۔‘

کمیشن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت کے نیب چیئرمین نوید احسان بھی اس معاہدے میں شامل تھے اور جبرالٹر نام کی ایسی کوئی کمپنی نہیں تھی جس کے ساتھ پاکستان نے کبھی معاہدہ کیا ہو۔

‏کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جیری جیمز جس سے پہلا معاہدہ کیا گیا اس کا براڈ شیٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔

‏کمیشن نے جج کلیم خان جو اس وقت وزارت قانون میں تھے، سابق سفارتکار عبدالباسط، پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات افسر شاہد بیگ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

پراسیکیوٹر جنرل براڈ شیٹ کے پے رول پر تھے

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ براڈ شیٹ کمپنی کے اس وقت کے سربراہ جیری جیمز کو دو اقساط میں 18 لاکھ ڈالر سابق سفارتکار عبدالباسط کی موجودگی میں مئی 2008 کو دیے گئے۔ جبکہ ‏پاکستانی ہائی کمیشن میں موجود افسر شاہد بیگ نے ان دونوں چیکس پر دستخط کیے تھے۔

‏براڈ شیٹ کمیشن کے سامنے شاہد بیگ کے دیے گئے بیان کے مطابق رپورٹ میں لکھا ہے کہ براڈ شیٹ کولوراڈو کو ادائیگی کرنے کی منظوری حکومت پاکستان سے نہیں لی گئی تھی۔

‏براڈ شیٹ رپورٹ میں سیکریٹری قانون راجہ نعیم کے بیان کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ تمام سیٹیلمنٹ معاہدے کا ریکارڈ وزارت قانون سے چرا لیا گیا۔ جبکہ ‏جیری جیمز کااصل براڈ شیٹ ایل ایل سی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے وقت پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم نے چیئرمین نیب کو اندھیرے میں رکھا، چیئرمین نیب کی جانب سے معاہدے کو وزارت قانون سے منظور کروانے کی ہدایت پر بھی دھوکہ دیا گیا اور چیئرمین نیب سمجھتے رہے کہ ان کے احکامات پر من و عن عمل ہو چکا ہے۔

کمیشن نے رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وقت کے سیکریٹری قانون نے بھی وزیر قانون کے مکمل جائزے سے پہلے فائل اٹھا لی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فاروق آدم عالمی معاہدے ڈرافٹ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے پراسکیوٹر جنرل فاروق آدم نے براڈ شیٹ کو وضاحت دی کہ ہم نے پاکستان کو باندھ دیا ہے جس میں لفظ ’ہم‘ یہ اشارہ دیتا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل براڈ شیٹ کے پے رول پر تھے۔

کمیشن رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ فاروق آدم نے معاہدے کے درست عمل کو ہائی جیک کر لیا تھا۔ فاروق آدم نے چیئرمین نیب ہی نہیں ریاست کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی۔

عبدالباسط

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبراڈ شیٹ کمپنی کے اس وقت کے سربراہ جیری جیمز کو دو اقساط میں 18 لاکھ ڈالر سابق سفارتکار عبدالباسط کی موجودگی میں مئی 2008 کو دیے گئے

کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ فاروق آدم کا بطور پراسیکوٹر جنرل تقرر جنرل امجد کی غلطی تھی اور فارق آدم پیشہ وارانہ خامیوں اور دیانتداری سے محروم نظر آئے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سابق سفیر شریف الدین پیزادہ کے بھی براڈ شیٹ کے پے رول پر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں موجودہ سیکریٹری قانون کے بیان کا حوالے دیتے ہوئے لکھا کہ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کو ادائیگی سے متعلق فائل چوری ہو گئی ہے اور اس کا ریکارڈ اٹارنی جنرل آفس، وزارت خارجہ اور خزانہ سے بھی غائب تھا۔

کمیشن کی انکوائری رپورٹ میں سابق چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے کردار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ نیب کی طرف سے سنہ 2008 میں ایک غلط فرم کو براڈشیٹ کے نام پر15 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔

کمیشن تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 لاکھ ڈالر کی غلط ادائیگی ریاست کے ساتھ فراڈ ہے۔

براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرپشن نے پاکستان کے تمام اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور بطور قوم ہمیں کرپشن کو ختم کرنا ہو گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمیں کرپشن کو تحفظ دینے والی بنیادوں کو گرانا ہو گا اور عوامی عہدوں پر موجود افراد کا مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیے۔

براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ سرکاری عہدوں پر موجود لوگوں سے مفادات کے ٹکراؤ نہ ہونے کا بیان حلفی لیا جائے اور غیر ملکی کمپنی کی خدمات لیتے وقت پورا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔

براڈ شیٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی اداروں کی خدمات لیتے وقت وزارت خارجہ سے متعلقہ کمپنی کی مکمل رپورٹ لی جائے جس میں کمپنی کی ساکھ، قانونی معاملات سمیت تمام پہلو دیکھے جائیں۔ براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کی سرکاری اداروں تک کھلےعام رسائی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

براڈ شیٹ کمیشن نے اٹارنی جنرل آفس میں قائم انٹرنیشنل ڈسپیوٹ یونٹ کو افرادی قوت کی کمی کے سامنا کا بھی ذکر کرتے ہوئے ڈسپیوٹ یونٹ میں ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کی سفارش کی ہے۔ جبکہ براڈ شیٹ کمیشن نے وزارت قانون کی استعداد بڑھانے کا بھی کہا ہے۔

جبکہ وزارت خارجہ اور سفارتخانوں کو بین الاقوامی معاہدوں کا ریکارڈ حفاظت میں رکھنے کی ہدایات دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ نے اپنے سیاسی ناقدین کو اس رپورٹ میں جواب دیتے ہوئے لکھا کہ مارگلہ کے دامن میں رپورٹ لکھتے وقت گیدڑوں کی موجودگی بھی ہوتی تھی، تاہم گیدڑ بھبھکیاں مجھے کام کرنے سے نہیں روک سکتیں۔

تحقیقاتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کیا تھے؟

جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کی سربراہی میں براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن نے پاکستان اور غیر ملکی کمپنی براڈ شیٹ کے معاہدے کے پانچ حصوں کی جانچ کرنا تھی اور اس معاملے میں شامل اور اس سے مستفید ہونے والے افراد کا تعین کرنا تھا:

فرمز کا انتخاب: براڈ شیٹ اور آئی اے آر(انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری) فرمز کا انتخاب کیسے کیا گیا، ان فرمز کا تعارف کس نے کرایا، فرم سے معاہدے کا مسودہ کس نے تیار کیا۔

معاہدے کی منسوخی: اکتوبر سنہ 2003 میں کن وجوہات کی بنا پر معاہدے کو منسوخ کیا گیا، نیب نے کب معاہدے کی منسوخی کا فیصلہ کیا، کیا معاہدے کی منسوخی سے قبل براڈ شیٹ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

براڈ شیٹ اور آئی اے آر کے ساتھ تصفیہ: جنوری 2008 میں آئی اے آر اور مئی 2008 میں براڈ شیٹ کے ساتھ تصفیے کی شرائط کیا تھیں، تصفیے کے وقت کس قسم کی قانونی مشاورت کی گئی، تصفیے کے لیے ادائیگی کا طریقہ کار کیا تھا۔

ثالثی: حکومت پاکستان نے کس انداز میں لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (ایل سی آئی اے) کے سامنے کارروائی میں ثالثی کی اور لندن ہائی کورٹ آف جسٹس میں اپیل دائر کی، کیا قانونی چارہ گوئی کے عمل کی معقول نگرانی کی گئی۔

ادائیگی: دعویدار کو ادائیگی کے عمل اور برطانیہ میں حکومت پاکستان کے اثاثوں کی حفاظت کے بارے میں بھی جانچ پڑتال کرنا۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی کو کسی بھی فرد کو طلب کرنے اور کسی بھی محکمے سے ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی حاصل تھا۔