حریم شاہ: خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ کی ساڑھے تین سال کی بچی سے ریپ، قتل کی تصدیق

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں جمعرات کو ایک نالے سے مردہ حالت میں ملنے والی ساڑھے تین سال کی حریم شاہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کی ہلاکت سے پہلے ریپ کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ کی جاری کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کے چہرے اور گردن سمیت جسم کے مختلف حصوں بشمول جنسی اعضا پر زخموں کے نشان پائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریپ کے بعد متاثرہ بچی کے ناک، منھ اور گردن کو ہاتھوں سے دبایا گیا جس کے باعث اس کا دم گھٹ گیا اور موت واقع ہو گئی۔ ہلاکت کے بعد اس بچی کو پانی میں پھینک دیا گیا۔

پولیس نے مقدمے میں قتل کی دفعات پہلے ہی شامل کر رکھی تھیں اور اب ان میں ریپ کی دفعہ کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آر پی او کوہاٹ طیب حفیظ چیمہ کا کہنا تھا کہ یہ دلخراش واقعہ پولیس کے لیے ایک چیلنج ہے جس میں ملوث مجرموں کو جلد پکڑ لیا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

نوید اقبال کی بیٹی حریم شاہ کی گمشدگی کی رپورٹ کوہاٹ کے تھانہ محمد ریاض شہید میں درج کروائی گئی تھی۔ بچی کے خاندان کے مطابق وہ 24 مارچ کے روز سے غائب تھی جس کی اطلاع مقامی تھانے میں دی گئی اور اس کی نعش 25 مارچ کو بابری کاٹن کالونی کے پاس ایک گندے نالے سے برآمد ہوئی۔

حریم شاہ کے دادا فرہاد حسین نے بی بی سی کو اپنی روداد سنائی۔

وہ کہتے ہیں کہ حریم اُن کی پہلی اور سب سے بڑی پوتی ہونے کے علاوہ اُن کی اہلیہ اور اُن کے لیے راحت اور سکون کا باعث تھی۔

’ہمارے بچے اور بچیاں اپنے اپنے کاروبارِ زندگی، ملازمت اور تعلیم وغیرہ کے لیے دیگر شہروں میں مقیم ہیں سو ہم دونوں میاں بیوی کی زندگی حریم کے سہارے چل رہی تھی۔‘

فرہاد حسین کا کہنا تھا کہ حریم شاہ کبھی گھر سے باہر اکیلی نہیں نکلی تھی۔ ’ہمیشہ اگر اس کو باہر جانا ہوتا تو میں ساتھ ہوتا تھا یا ویک اینڈ پر اس کے چچا وغیرہ آ جاتے تھے جو اس کو ساتھ لے کر باہر گھماتے تھے۔ ہمیں نہیں پتا چلا کہ وہ کس وقت باہر نکلی اور پھر اس کی لاش ملی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جس مقام سے نعش برآمد ہوئی ہے، اس کا راستہ تو حریم نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا اور شاید ہی کبھی وہ لوگ اسے اس مقام تک لے کر گئے ہوں۔

فرہاد حسین واپڈا سے ریٹائرڈ افسر ہیں۔ ان کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے دو بیٹے فوج میں افسران ہیں جبکہ حریم کے والد نوید اقبال پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اسلام آباد میں خدمات انجام دیتے ہیں۔

فرہاد حسین کے چار پوتے، پوتیاں ہیں جس میں حریم شاہ سب سے پہلی پوتی ہونے کی وجہ سے اپنے دادا دادی اور اپنے تمام چچاؤں اور پھوپھیوں کی سب سے زیادہ لاڈلی تھی۔

اُن کا تعلق ضلع کرک سے ہے جہاں پر انھوں نے جمعرات کی شب حریم شاہ کی تدفین کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ کرک میں بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں جس وجہ سے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کوہاٹ میں رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

’جب اللہ نے مجھے پوتی دی تو میری بہو اور بیٹے نے مشترکہ طور پر فیصلہ کر کے اس کو ہمارے پاس چھوڑ دیا تھا۔ اس کی پرورش میری اہلیہ اور حریم شاہ کی دادی نے کی تھی۔‘

’وہ اپنے ماں باپ کے پاس شاید ہی کبھی رہی ہو۔ ہمیشہ ہمارے پاس رہتی تھی۔ کبھی کبھار اگر یہ اپنے ماں باپ کے پاس چلی بھی جاتی تو پھر خود ہی ضد کر کے واپس آجاتی تھی۔‘

گھر ویران ہو چکا ہے

’حریم شاہ کے چچا حسن فرہاد کا کہنا تھا کہ حریم شاہ کم عمر ہونے کے باوجود بھی بہت تمیز دار اور سمجھ دار بچی تھی۔ ’اس کے والدین نے دادا، دادی کی تنہائی دور کرنے کے لیے اس کی پیدائش کے وقت ہی سے ان کو سونپ دیا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ سے اتنا پیار نہیں کرتی تھی جتنا وہ اپنے دادا، دادی سے کرتی تھی۔

’میں جب بھی ویک اینڈ پر آتا تو اس کے کہے بغیر اس کے لیے بہت ساری چیزیں لاتا تھا۔ جب اسے پتا چل جاتا کہ میں گھر پہنچ گیا ہوں تو دوڑ کر میرا بیگ اٹھانے کے لیے آتی تھی۔ میں اس سے مذاق میں کہتا کہ مقصد بیگ اٹھانا نہیں بلکہ اپنی چیزیں لینا ہے۔‘

حسن فرہاد کے مطابق حریم کی والدہ کہتی ہیں جتنا دکھ انھیں ہے، ہو سکتا ہے شاید کسی کو بھی نہ ہو لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ چونکہ پیدائش کے وقت ہی سے حریم کو اس کی دادی نے پالا پوسا اور پیار و محبت دی تھی اس لیے اب جو حالت اُن کی ہے وہ مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔

حریم کے چچا کہتے ہیں کہ وہ ویک اینڈ پر گھر اپنے ماں باپ کو دیکھنے کم اور حریم کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے زیادہ آتے تھے۔ ’جب سے حریم ہمارے پاس آئی، ویک اینڈ پر سارا وقت اس کے ساتھ گزرتا تھا، یہاں تک کہ باہر اگر جانا بھی پڑے تو حریم میری گود میں ہوتی تھی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ابھی چند دنوں میں اُن کے تیسرے بھائی کی شادی ہونے والی ہے جس کے لیے حریم نے اپنی دادی کے ساتھ جا کر اپنی مرضی سے کپڑے خریدے تھے۔ وہ کپڑے اب اسی طرح بیگ میں پڑے ہیں۔

’زندگی نے تو آگے بڑھنا ہے۔ شادی بھی ہو گی مگر اس میں حریم نہیں ہو گی اور ہم اس کو انتہائی شوق سے خریدے گئے کپڑے پہنے ہوئے نہیں دیکھ سکیں گے۔‘

’احتجاج ختم کیا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو‘

فرہاد حسین کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد کوہاٹ اور کرک میں لوگ مشتعل تھے۔ ’جب کوہاٹ میں لاش ملی تو لوگ بڑی تعداد میں باہر نکل آئے اور احتجاج کیا۔ میں نے عمائدین علاقہ سے گزارش کر کے بڑی مشکل سے احتجاج ختم کروایا اور لاش کو تدفین کے لیے کرک لے کر آیا۔‘

’کرک میں بھی لوگ مشتعل تھے۔ یہاں پر بھی لوگ لمبا احتجاج کرنا چاہتے تھے مگر ایک بار پھر عمائدین علاقہ کے ساتھ مل کر احتجاج ختم کروایا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دونوں مقامات پر احتجاج صرف اس لیے ختم کروایا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کی وجہ سے روڈ بلاک ہونے سے عام لوگوں کو تکلیف ہو۔ اُن کے مطابق دوسری وجہ اُن سے ملزمان کی گرفتاری کا پولیس کا وعدہ ہے۔

حسن فرہاد کہتے ہیں کہ ’میری والدہ نے حریم کے مختلف نام رکھے ہوئے تھے۔ کبھی وہ اس کو دل کا ٹوٹا کہہ کر پکارتیں، کبھی جانِ من کہتی اور کبھی میرے آنگن کا پھول کہتی تھی۔ اب شاید یہ نام دوبارہ ہمارے گھر میں نہ گونجیں۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھی حریم شاہ کا نام ٹرینڈ کرتا رہا اور صارفین نے اس واقعے پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

بلال نامی ایک صارف نے لکھا: ’یہ انسانیت کا ایک کڑوا سچ ہے لیکن ہم اپنے ماضی سے کبھی سبق نہیں سیکھتے۔‘

یوٹیوبر شام ادریس نے لکھا: ’کبھی کسی والدین کو اس سب سے نہ گزرنا پڑے۔ انصاف ہونا چاہیے۔‘

صحافی وجاہت علی کاظمی نے لکھا: ’میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس ظالمانہ عمل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘

صارف زارا راجپوت نے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ اور کتنے بچے، اور کتنی لڑکیاں، اور کتنی خواتین، انصاف کے لیے اور کتنے ہیش ٹیگ؟