پھلاں کاری: وادی نیلم کی مقامی چادر جس نے صائمہ بی بی کے خاندان کو فاقوں سے بچا لیا

،تصویر کا ذریعہSAJID MIR
- مصنف, ساجد میر
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
’ہمارے گھر میں فاقے ہو رہے تھے اور میں کام کر کے اپنے خاندان کی مدد کرنا چاہتی تھی. محلّے میں خواتین کو چادریں بناتے دیکھا تو مجھ میں بھی اس کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے سوچا اگر میں بھی چادر بنانا سیکھ لوں تو انھیں بیچ کر میں گھر والوں کی مدد کر سکتی ہوں.‘
صائمہ ابھی دوسری کلاس میں تھیں کہ ان کے گھر کے واحد کفیل، ان کے والد کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا۔ گھر پر کوئی کمانے والا نہیں رہا تو ان کے لیے سکول جانا بھی بہت مشکل ہو گیا۔ سکول کی فیس اور کتابیں کاپیاں کیا، گھر پر تو دو وقت کی روٹی میسر نہیں تھی۔
صائمہ نے سات سال کی عمر میں سکول جانا چھوڑ دیا اور اپنے خاندان کی مدد کرنے کے غرض سے چادر بنانے کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔
پھلاں کاری کی چادر بُننا وادی نیلم کا مقامی فن ہے۔ بھیڑوں کے اون سے بننے والی یہ موٹی چادر سخت سردی میں بھی انسان کو گرم رکھتی ہے اور اس کے دیدہ زیب رنگ ہر دیکھنے والے کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرانے وقتوں میں اس چادر کی تیاری میں استعمال ہونے والا تمام سامان مقامی سطح پر تیار کیا جاتا تھا اور گھر کے تمام افراد اس عمل میں ہاتھ بٹاتے تھے۔
گاؤں کے مرد بھیڑوں کا اون کاٹ کر گھر کی خواتین کے حوالے کر دیتے جو اس سے دھاگہ تیار کرتیں۔ مرد حضرات اس کو تانڑی پر بُنتے، جس کے بعد کنارے بنانے کی ذمہ داری خواتین کی ہوتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSAJID MIR
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی ترجیحات تبدیل ہوتی رہیں، گھروں میں بھیڑ بکریاں پالنے کا رواج آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا اور مقامی اون کی پیدوار کم ہو گئی۔ پھر چادر بنانے والے زیادہ تر افراد کو بازار سے دھاگہ خرید کر اپنا کام جاری رکھنا پڑا۔ تاہم اب کچھ گنے چنے لوگ مقامی بھیڑ کی اون سے ہی چادریں تیار کرتے ہیں.

،تصویر کا ذریعہSAJID MIR
اُس زمانے میں وادی نیلم میں شادی بیاہ کے موقعوں پر دولہا کے لیے پھلاں کاری کی چادر اوڑھنا لازمی سمجھا جاتا تھا اور دولہا اور اس کے دوستوں کو ان کی چادروں سے پہچانا جا سکتا تھا۔ یہ چادر تحفے کی طور پر بھی دی جاتی تھی۔ تاہم اب جہاں مقامی لوگوں میں اس کی مانگ کم ہوئی ہے، وہیں سیاحوں کی اس علاقے میں آمد سے اس چادر کو ایک نئی مارکیٹ مل گئی ہے۔
سیاحوں کی وجہ سے چادر کی مانگ میں اضافے سے صائمہ بی بی نے بھی فائدہ اٹھایا۔

،تصویر کا ذریعہSAJID MIR
صائمہ نے بتایا کہ انھیں یہ کام سیکھنے میں آٹھ ماہ لگے جس کے بعد انھوں نے اپنے گھر میں تانڑی لگائی اور چادر بُننے کا کام شروع کر دیا۔
’مجھے اپنی پہلی چادر مکمل کرنے میں 15 دن لگے۔ وہ چادر میں نے اب تک سنبھال کر رکھی ہوئی ہے کہ اپنے بھائی کی شادی پر اُس کو تحفے کے طور پر دوں گی۔
شروع میں وہ اپنے بنائی ہوئی چادریں مقامی دکانداروں کے پاس چھوڑ دیتی تھیں اور ان کی فروخت سے ملنے والے پیسے انھیں مل جاتے۔ ’کبھی سیاح چادر ڈھونڈتے ڈھونڈتے آتے تو میں خود ہی ان کو بیچ دیتی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہSAJID MIR
صائمہ نے چادریں بیچ بیچ کر جب کافی پیسے کما لیے تو انھوں نے اپنے بھائی کو ایک دکان کھول کر دی اور اس کی ماسٹرز تک پڑھائی مکمل کروائی۔’اب بھی میں چادروں کے پیسے بھائی کو دیتی ہوں جس سے وہ اپنی دوکان کا سامان خریدتا ہے۔ گھر کے اخراجات بھی ان ہی پیسوں سے چلتے ہیں۔‘
صائمہ بی بی کا کہنا تھا ان کی خواہش ہے کہ ان کے بہن بھائی اپنی تعلیم حاصل کریں۔ ’بڑے بھائی کی نوکری لگ جائے اور ہمارا مکان بن جائے، بس۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد میں کام نہیں کروں گی، میں اپنا کام جاری رکھوں گی اور اپنے خاندان کی مدد کرتی رہوں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہSAJID MIR
صائمہ کے مطابق ہر چادر بنانے میں 15 دن لگتے ہیں اور ایک چادر 10 سے 15 ہزار میں فروخت ہوتی ہے۔ ’جتنی اس پر محنت ہوتی ہے، اتنی اجرت نہیں ملتی۔ لیکن کیا کریں، اس کے علاوہ یہاں کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق کچھ لوگ اپنا دھاگہ خود لانا پسند کرتے ہیں، جن سے وہ صرف اپنی مزدوری کے تین ہزار روپے لیتی ہیں۔

























