چلتی گاڑی کی چھت پر ڈنڈ پیلنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر گرفتاری، لوگ ایسا کرتے ہی کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@spcantt
- مصنف, عزیز اللہ خان اور عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
سوشل میڈیا پر ہٹ ہونے کے جنون نے بہت سوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی ہیں۔ اس رنگین دنیا میں کوئی غیر قانونی اسلحے کی نمائش کرتے پکڑا گیا ہے تو کسی نے ٹرین کے قریب ویڈیو بنانے کے دوران اپنی جان کھو دی ہے۔
ایک طرف تو پاکستان میں غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افراد اب سوشل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر مقبول ہو رہے ہیں تو وہیں قانون توڑنے کی صورت میں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں بھی آجاتے ہیں۔ لیکن آخر ایسی وائرل تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا جنون آتا کہاں سے ہے؟
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ایسے رویے معمولی نہیں بلکہ یہ بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کرنے کی کوشش اور خطرے مول لینے کی عادت ہے۔
یعنی ایسے میں ہر کسی کی یہ کوشش رہتی ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تصاویر اور ویڈیوز ڈالی جائیں جس سے انسان رات و رات مشہور ہوجائے۔ چند لائیکس پانے کے لیے لوگ کوئی بھی حد پار کرنے کو تیار ہوسکتے ہیں۔
’سٹنٹ دیکھنے میں اچھا ہے مگر اس نے دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media
خیبر پختونخوا کے ایک مکینک اور ٹیکسی ڈرائیور جواد احمد عرف لڈو کو تیز رفتار چلتی گاڑی کی چھت پر پش اپس یا ڈنڈ نکالنا اس وقت مہنگا پڑ گیا جب ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ایسی وائرل ہوئی کہ پولیس بھی حرکت میں آ گئی اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا اور پھر ضمانت پر ان کی رہائی ممکن ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مردان کے علاقے پار ہوتی کے رہائشی جواد کی یہ ویڈیو ملاکنڈ روڈ پر ریکارڈ کی گئی، جس میں وہ ایک تیز رفتارگاڑی کی چھت پر پش اپس یا ڈنڈ نکالنے کے انداز میں اوندھے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کا ایک ہاتھ گاڑی کے کھلے دروازے پر جبکہ دوسرا ہاتھ گاڑی کی چھت پر ہے اور اس دوران وہ پش اپس لگاتے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ گاڑی بھی وہ خود ڈرائیور کر رہے تھے اور پش اپس کرنے کے بعد وہ چلتی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ویڈیو ان کے پیچھے آنے والی دوسری گاڑی میں بیٹھے شخص نے بنائی۔
جب جواد سے اس بارے میں بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو وہ خوفزدہ تھے۔ انھوں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے لیے مزید کوئی مسئلہ بن جائے۔
انھوں نے کہا کہ اس حرکت پر انھوں نے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/FACEBOOK
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے لڈو پر تنقید کی کہ انھوں نے اس خطرناک کرتب سے دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’انھیں تو ہالی وڈ میں جانا چاہیے نہ کہ اس طرح اپنا ٹیلنٹ ضائع کریں۔‘
گرفتاری کیسے ممکن ہوئی؟
مردان کے ضلع پولیس آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کسی دوست نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھیجی تھی جس کے بعد انھوں نے مردان میں ٹریفک پولیس کے آفیسر امجد خان کو اس بارے میں کہا تو مذکورہ شخص کی شناخت جواد عرف لڈو کے نام سے ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہMardan Police
تھانہ پار ہوتی میں ایف آئی آر درج کے مطابق انھیں پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 279 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس میں دو سال قید اور 3000 روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں جبکہ ان کا ڈرائئونگ لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف ان کے خود کے لیے خطرناک تھا بلکہ اس سڑک اور اس کے قریب دیگر افراد کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جواد اس سے پہلے بھی اس طرح کے کرتب کر چکے ہیں لیکن اس مرتبہ چونکہ ویڈیو منظرعام پر آئی تو اس وجہ سے گرفتاری ممکن ہو سکی۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق جواد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کچھ ایسا کریں جس سے لوگ انھیں پہچانیں اور وہ سٹار بن جائے لیکن شاید انھیں معلوم نہیں تھا کہ یہ عمل ان کے اور دیگر لوگوں کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔
’یہ خطرہ مول لینی کی عادت ہے‘
ماہرِ نفسیات تانیہ وقاص کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بعض لوگ توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان میں تھرل سیکنگ یعنی خطرہ مول لینے کی عادت بھی ہوتی ہے۔
’بنیادی ضروریات کی طرح انسانوں میں مشہور ہونے کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ جیسے بھوک اور پیاس ہے اسی طرح انسانوں میں اپنے کسی کام سے پہچانے جانا یا کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے کی جستجو بھی پائی جاتی ہے۔‘
’لوگ کبھی کبھار کسی بھی طرح سے مشہور ہونا چاہتے ہیں۔۔۔ کچھ لوگوں میں تھرل سیکنگ مادہ کچھ زیادہ ہوتا ہے اور ان میں کسی کا خوف نہیں ہوتا۔ وہ خطرے کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
انھوں نے مزید بتایا کہ ’قدرتی طور پر انھیں خطرے مول لینے کی عادت خوش کرتی ہے۔ صحیح راستے پر چلنا ان کے لیے طویل مدتی کام ہوتا ہے۔‘
تانیہ کے مطابق جب ایک انسان کو مشہور بھی ہونا ہو اور اس میں اس کے لیے صبر بھی نہ ہو تو وہ شارٹ کٹ کا راستہ لیتا ہے۔ ’یہ ایسا ہی ہے جیسے بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔‘
’لوگوں کو لگتا ہے کہ ایسی ایک عجیب ویڈیو بنا لیں تو وہ پوری دنیا میں شہرت حاصل کر لیں گے۔ ان کے سامنے ایسی مثالیں موجود ہوتی ہیں کہ اگر کسی کی ایک ویڈیو ٹک ٹاک پر ہِٹ ہوگئی ہے تو اب میری بھی ہوسکتی ہے۔‘
وہ سمجھتی ہیں کہ ایسے لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنا ٹیلنٹ ضائع نہ کریں بلکہ اسے درست فورم پر باحفاظت انداز میں استعمال کریں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو سے قانون کہاں کہاں متحرک ہوا؟
سوشل میڈیا کے ذریعے متعدد ایسی کارروائیاں ہوئی ہیں جس میں پولیس حرکت میں آئی اور قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
گزشتہ سال جب کووڈ 19 کی لہر آئی تو لوگوں نے پرندوں اور جانوروں کے شکار شروع کر دیے۔ نایاب جانوروں کے شکار کے لیے محکمہ وائلڈ لائف سے اجازت لینا لازم ہوتی ہے جبکہ محکمہ شکار کے حوالے سے کچھ اصول طے کرتا ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات نے ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جنھوں نے غیر قانونی طور پر نایاب جانوروں کے شکار میں حصہ لیا اور پھر اپنے شکار کے ساتھ تصاویر یا ویڈیوز فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر جاری کیں۔
سوشل میڈیا کی معروف ایپ ٹک ٹاک پر بھی متعدد ایسی کارروائیوں کی نشاندہی ہوئی جو غیر قانونی تھیں اور پھر ان پر یا تو انکوائریاں کی گئیں اور یا ان لوگوں کے خلاف قانون حرکت میں آیا۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے ریلوے پھاٹک کے نزدیک بھی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے دو افراد کو ریلوے پولیس کی جانب سے گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔
ملزمان کی جانب سے بنائی جانے والی ویڈیو میں ایک شخص اپنے دوست سے کہتا ہے کہ ’جب تک مجھے کرایہ نہیں ملتا تب تک میں پھاٹک بند رکھوں گا۔‘ جس کے بعد اس کا دوست ریلوے ٹریک کا پھاٹک بند کر دیتا ہے۔
درج کیے جانے والے مقدمے میں پاکستان ریلوے ایکٹ کے تحت دفعات 121، 120 اور 129 اور پی پی سی 186 اور 290 شامل کی گئی ہیں، جس پر انھیں زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس واقعے پر ریلوے پولیس کے ترجمان ارسلان بٹ کا کہنا تھا کہ وہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لا کر انھیں مثال بنانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب راولپنڈی میں رپورٹ ہونے والے ایک واقعے میں 18 برس کا نوجوان ٹرین کے نزدیک ویڈیو بنانے کی کوشش میں ہلاک ہو گیا تھا۔


























