آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان: ثناءاللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ مسلم لیگ نون سے مستعفی
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
مسلم لیگ نواز بلوچستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ عبد القادر بلوچ اور صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری نے اپنی جماعت سے دس برس کے تعلق کو ختم کر کے اپنے حامیوں کے ساتھ نواز لیگ سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ پارٹی چھوڑنے والے دونوں رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ نواز لیگ بلوچستان کے 20 اضلاع کے عہدیداروں نے پارٹی سے علیحیدگی اختیار کی ہے لیکن جس کنونشن سے وہ خطاب کررہے تھے اس میں نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے رہنماﺅں اور کارکنوں کی اتنی بڑی تعداد نظر نہیں آئی۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے علیحیدگی کی خاص وجہ کیا بتائی؟
24 اکتوبر کو نواز لیگ سے ناراضگی کے بعد کسی اجتماع سے جنرل قادر کا یہ پہلا خطاب تھا۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ پارٹی سے ان کی ناراضگی کی ایک وجہ 25 اکتوبر کوکوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں نواب ثناءاللہ زہری کو شرکت کی دعوت نہ دینا تھی۔
لیکن ان کی ناراضگی کی اصل وجہ نواز شریف کے فوج سے متعلق بیان ہے۔
ان کے مطابق نواز شریف نے کوئٹہ کے جلسے سے خطاب کے دوران فوج کے رینکس سے کہا کہ جب انھیں فوج کے سربراہ کا کوئی حکم آئے تو وہ اس کو دیکھیں کہ وہ حکم آئینی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل قادر نے اسے فوج میں بغاوت کی بیج بونے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں فوج نہ ہو یا فوج میں بغاوت ہو تو ان ممالک کا حشر لیبیا، عراق اور شام جیسا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں پاکستان کی فوج کی وجہ سے ہیں۔
'میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک ایسے گروہ کے ساتھ چلوں جو افواج پاکستان کے خلاف بات کرے اور اس قسم کی اپیل کرے۔‘
جنرل قادر نے کہا کہ وہ اب اپنی تمام تر توانائی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے استعمال کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ 'اپنی ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کی خاطر جن کے بیٹے، بھائی اور شوہر لاپتہ ہیں اپنی پرانی فیملی فوج جو کہ مجھ سے ناراض ہے کے پاس بھی جاﺅں گا۔‘
سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری کا موقف
ثناءاللہ زہری کے خطاب کا ایک بڑا حصہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور ان کے خاندان پر تنقید پر مشتمل تھا۔
اختر مینگل اور ثناءاللہ زہری کے خاندانوں کے درمیان نہ صرف طویل عرصے سے اختلافات ہیں بلکہ گذشتہ سال بی این پی نے پارٹی کے ایک اہم رہنما نوابزادہ امان اللہ زہری کے قتل کا الزام ثناءاللہ زہری اور ان کے رشتہ داروں پر عائد کیا تھا۔
خیال رہے کہ اس صورتحال کے باعث اختر مینگل نے نواز لیگ کی قیادت کو یہ کہا تھا کہ اگر نواب ثناءاللہ زہری کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کریں گے تو وہ اور ان کے پارٹی کے لوگ اس جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔
یہی وجہ ہے کہ نوازلیگ کی قیادت نے نواب ثناءاللہ زہری سے یہ کہا تھا کہ وہ اس جلسے میں شریک نہ ہوں جو کہ ان کی اور جنرل قادر کی ناراضگی کی ایک وجہ بنی۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ثناءاللہ زہری نے ان کو بے وفا قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نواز لیگ کا اس وقت ساتھ دیا جب کوئی بلوچستان میں اس کا نام لینے کے لیے تیار بھی نہیں تھا۔
ہم نے نواز لیگ کو بلوچستان میں ایک بڑی پارٹی بنا کر دی مگر نواز شریف نے ہمارے ساتھ وفا نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے بھی نواز شریف کے ساتھ اچھائی کی بدلے میں نواز شریف نے ان کے ساتھ بے وفائی کی۔
ثناءاللہ زہری اورجنرل قادر نے نواز لیگ سے اگرچہ علیحدگی کا اعلان تو کیا لیکن انھوں نے کسی اور پارٹی میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان صلاح و مشورے کے بعد کریں گے۔
کیا ان استعفوں سے نواز لیگ پر بلوچستان میں کوئی بڑااثر پڑے گا؟
کوئٹہ شہر کے سوا بلوچستان کے زیادہ تر دیگر علاقوں میں نواز لیگ کو عوامی سطح پر بہت زیادہ پزیزائی حاصل نہیں تاہم مختلف قبائلی اور دیگر بااثر شخصیات کی وجہ سے اس جماعت کو بلوچستان سے قومی اور بلوچستان اسمبلی کی نشستیں ملتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں بلوچستان میں نواز لیگ کی حکومتیں بھی بنتی رہیں۔
نوازلیگ سے علیحیدہ ہونے والے رہنماﺅں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کو خیرباد کہنے سے بلوچستان سے نواز لیگ کا صفایا ہوگیا ہے تاہم پارٹی کے بلوچستان کے جنرل سیکریٹری اور سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے اس دعوے کو مسترد کیا۔
ثناءاللہ زہری اور جنرل قادر کی علیحیدگی کے فوراً بعد جمال شاہ کاکڑ پارٹی کے بعض دیگر عہدیداروں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب پہنچے۔
ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے سے خطاب کرتے ہوئے جمال شاہ نے دونوں رہنماﺅں کی پارٹی سے علیحدگی پر افسوس کا ظہار ضرور کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پارٹی مستحکم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو ڈویژنل صدور اور چند دیگر عہدیداروں کے سوا پارٹی کا کوئی عہدیدار علیحدہ ہونے والے رہنماﺅں کے ساتھ نہیں گیا۔
جمال شاہ کاکڑ کے ساتھ آنے والے نواز لیگ کے ایک اور پرانے کارکن کا کہنا تھا کہ ثناءاللہ زہری کے ساتھ جو لوگ پارٹی کو چھوڑ کر چلے گئے ان کا تعلق ثناءاللہ زہری کے آبائی ضلع خضدار سے تھا۔
سینیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ثناءاللہ زہری اور جنرل قادر کے جانے سے نواز لیگ پر اس حد تک اثر پڑے گا کہ دو اثرورسوخ رکھنے والی شخصیات اپنے حامیوں کے ساتھ اس سے الگ ہوئے لیکن بلوچستان میں جن کارکنوں اور رہنماﺅں کی نواز شریف کی وجہ سے پارٹی سے وابستگی ہے ان پر ان کے جانے سے کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑے گا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سطح پر پی ڈی ایم نواز شریف کے لیے پارٹی سے علیحیدہ ہونے والے رہنماﺅں کے مقابلے میں زیادہ معاون اور مددگار ثابت ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ نواز شریف اس وقت جس بیانیے کو لے کرچل رہے ہیں وہی بیانیہ جمیعت العلماءاسلام کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں بلوچستان کی سطح پر دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ سٹریٹ پاور رکھتی ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اور نواز لیگ کی مرکزی قیادت نے اپنے ایک دو رہنماﺅں پر پی ڈی ایم کو ترجیح دی۔