آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عبدالقادر بلوچ: پی ڈی ایم میں شامل مسلم لیگ ن کے رہنما کی ناراضی کی وجہ کیا ہے؟
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں کا سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کرنے میں کامیاب ہوا لیکن اس جلسے کے بعد پی ڈی ایم میں شامل اہم جماعت مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان کی تنظیم میں اختلافات منظر عام پر آ گئے۔
بظاہر ان اختلافات کی سب سے بڑی وجہ بھی کوئٹہ میں منعقد ہونے والا جلسہ ہی بنی ہے، اس جلسے کے بعد مسلم لیگ ن کے بلوچستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) عبد القادر بلوچ نے پارٹی اور پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ڈی ایم کوئٹہ کا جلسہ جنرل قادر بلوچ کی ناراضی کی وجہ کیوں بنا؟
اگرچہ بعض مبصرین کی رائے یہ ہے کہ چونکہ جنرل قادر ایک سابق فوجی ہیں لہذا وہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے فوج کی اعلیٰ قیادت کو تنقید کا نشانہ بنانے پر ناراض ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض مبصرین اس بات سے مکمل اتفاق نہیں کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی و سینئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) عبدالقادر کی ناراضی کی سب سے بڑی وجہ پی ڈی ایم کے کوئٹہ کے جلسے میں ن لیگ کے سابق صدر اور سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری کو جلسہ عام میں شرکت کی دعوت نہ دینا تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’نواب ثنا اللہ زہری دبئی میں تھے۔ ان کو جنرل قادر نے یہ کہا تھا کہ کوئٹہ میں جلسہ ہو رہا ہے اس لیے وہ اس میں شرکت کے لیے آئیں۔‘
شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ’پی ڈی ایم میں بلوچستان سے شامل اہم جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے یہ واضح کیا تھا کہ نواب ثنا اللہ زہری کی شرکت کی صورت میں بی این پی کی قیادت اور کارکن جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بی این پی کی عدم شرکت کی صورت میں نہ صرف جلسہ متاثر ہو سکتا تھا بلکہ اس صورتحال کو حکومت پی ڈی ایم کے خلاف بھی استعمال کرسکتی تھی۔‘
واضح رہے کہ اختر مینگل تحریک انصاف کی حکومت میں اتحادی تھے تاہم رواں برس وفاقی حکومت کی جانب سے ان سے کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث انھوں نے حکومتی اتحاد سے علحیدگی اختیار کر لی تھی۔
شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ شاید صورتحال کو کشیدہ ہونے اور جلسے کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ن لیگ کی قیادت نے نواب ثنااللہ زہری کو جلسے میں شرکت سے روک دیا جو جنرل (ر) قادر بلوچ کی ناراضی کی وجہ بنی۔
سینئر تجزیہ نگار سلیم شاہد بھی جنرل (ر) قادر بلوچ کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہی سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سردار اختر مینگل اور ان کی پارٹی کی عدم شرکت سے جلسہ کے خراب ہونے کا خدشہ تھا اس لیے ن لیگ کی مرکزی قیادت نے یہ سمجھا کہ نواب ثنااللہ زہری کو جلسے میں نہیں آنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ جنرل قادر سابق فوجی ہیں شاید فوج کے بعض عہدیداروں کے بارے میں ن لیگ کے قائد اور دیگر رہنماﺅں کے ریمارکس سے بھی ناراض ہوں۔‘
بلوچستان نیشنل پارٹی نواب ثنااللہ زہری کی شرکت کے لیے کیوں تیار نہیں تھی؟
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور نواب ثنااللہ زہری کے درمیان نہ صرف سیاسی اختلاف ہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے خاندانوں کے درمیان قبائلی اختلافات بھی رہے ہیں۔
جس مختصر عرصے کے لیے نواب ثنااللہ زہری اور سردار اختر مینگل ایک سیاسی پلیٹ فارم پر اکھٹے رہے وہ 1997 میں عام انتخابات سے قبل کا تھا جب پاکستان نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل موومنٹ (مینگل) کا بلوچستان نیشنل پارٹی کی شکل میں انضمام ہوا۔
تاہم بی این پی کے ٹوٹنے کے بعد نہ صرف سردار اختر مینگل اور نواب ثناءاللہ سیاسی حوالے سے ایک دوسرے کے خلاف رہے بلکہ 2018 کے اوائل میں بطور وزیر اعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کو ہٹانے کے لیے جو تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی بی این پی نے اس کی حمایت کی تھی۔
تاہم بی این پی اور نواب ثنااللہ زہری کے درمیان اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب سنہ 2019 میں بی این پی کے رہنما نوابزادہ امان اللہ زہری کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ نواب امان اللہ زہری کا تعلق نہ صرف زہری قبیلے کے نواب خاندان سے تھا بلکہ وہ رشتے میں نواب ثنااللہ زہری کے ماموں بھی تھے۔
نوابزادہ امان اللہ زہری کے قتل کی ذمہ داری بی این پی نے نواب ثنااللہ زہری اور ان کے دیگر قریبی رشتہ داروں پر عائد کی تھی تاہم انسداد دہشت گردی خضدار کی عدالت نے نواب ثنااللہ زہری اور ان کے بھائی نوابزادہ نعمت اللہ زہری کو قتل کے مقدمے سے بری کیا تھا۔
حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ ن میں نوابزادہ ثنااللہ زہری کی غیر فعالیت
نواب ثناءاللہ زہری سنہ 2013 کے عام انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے تھے۔ بعد ازاں وہ مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر منتخب ہوئے جبکہ مری معاہدے کے تحت سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کے وزارت اعلیٰ کی مدت ختم ہونے کے بعد نواب ثنااللہ زہری ن لیگ کی جانب سے وزیر اعلیٰ بن گئے۔
بعض سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ نواب ثنااللہ زہری ن لیگ کی وجہ سے ہی وزیر اعلیٰ بنے تھے لیکن جب حکومت کے خاتمے کے بعد ن لیگ پر مشکل کی گھڑی آئی تو نواب ثنااللہ زہری غیر فعال ہو گئے۔
وزارت اعلیٰ کے خاتمے کے بعد انھوں نے ن لیگ کی صوبائی صدارت کا عہدہ چھوڑ دیا جبکہ سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل ان کے بھائی نعمت اللہ زہری تحریک انصاف میں شامل ہو گئے جبکہ ان کے قریبی رشتہ دار اور سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل خضدار آغا شکیل درانی نے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
نواب ثنااللہ زہری کے ایک اور قریبی رشتہ دار آغا شاہزیب درانی بلوچستان سے ن لیگ کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تاہم شہزادہ ذوالفقار کے مطابق ن لیگ کی قیادت کو یہ شکایت ہے کہ انھوں نے بعض اہم مواقع پر ن لیگ کے فیصلے کے برعکس ووٹ دیا۔
وزارت اعلیٰ سے علیحیدگی کے بعد نواب ثنااللہ زہری نے ن لیگ کی صدارت کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
کیا جنرل قادر بلوچ اورنواب ثناءاللہ زہری کی علیحیدگی سے بلوچستان میں ن لیگ پر کوئی فرق پڑے گا؟
نواب ثناءاللہ زہری کی ن لیگ سے علیحیدگی کے بعد ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھنے والے جنرل قادر بلوچ ن لیگ بلوچستان کے صدر مقرر کیئے گئے تھے ۔
2018ءکے عام انتخابات میں نواب ثناءاللہ زہری بلوچستان سے ن لیگ کے منتخب ہونے والے واحد رکن بلوچستان اسمبلی تھے ۔
نوازشریف کے وزرات عظمیٰ کے خاتمے، نیب عدالتوں سے انہیں اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کو سزاﺅں اور ان کی گرفتاری کے خلاف پنجاب اور دیگر صوبوں میں ن لیگ کی جانب سے جس شدت کے ساتھ رد عمل کا اظہار کیا گیا اس کا مظاہرہ بلوچستان کی قیادت کی جانب سے نہیں ہوا۔
نواب ثناءاللہ زہری پہلے ہی غیر فعال ہوگئے تھے جبکہ جنرل قادر بلوچ پارٹی کو حکومت مخالف تحریک کے لیے موبلائز نہیں کرسکے ۔
سلیم شاہد اور شہزادہ ذوالفقار دونوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں ن لیگ کی جانب سے شرکت بھی بہت زیادہ نہیں تھی جس کا ن لیگ کی مرکزی قیادت نے نوٹس بھی لیاتھا۔
اس سوال پر کہ کیا کہ نواب ثناءاللہ زہری اور جنرل قادر کی ن لیگ سے علیحیدگی سے بلوچستان میں ن لیگ پر کوئی اثر پڑے گا سلیم شاہد کا کہنا تھا کہ جنرل قادر عام انتخابات میں ہار گئے تھے تاہم نواب ثناءاللہ زہری کا قبائلی اور سیاسی اثرورسوخ ہے اور وہ ایک الیکٹیبل ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ڈھائی سال سے نواب ثناءاللہ زہری ن لیگ میں بہت زیادہ متحرک نہیں تھے ۔
شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ نواب ثناءاللہ زہری کا بڑا قبیلہ ہے ۔ ان کے بلوچستان میں سیاسی اور قبائلی اثرورسوخ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ کی بلوچستان میں اس وقت جو پوزیشن ہے شاید نواب ثناءاللہ زہری اور جنرل قادر کی علیحیدگی سے اس پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے ۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نوازلیگ کا جو بیانیہ ہے اس کو عوام میں بہت زیادہ پزیرائی مل رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت اور ایسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ کو جو پزیرائی مل رہی ہے اس کے باعث شاید ان لوگوں پر اثر پڑے جو ن لوگ کو چھوڑ رہے ہیں۔