کسان کی ہلاکت کا معاملہ: کسانوں کا لاہور کے ایس پی صدر کو گرفتار اور گندم کی امدادی قیمت کم از کم 2000 روپے فی من کرنے کا مطالبہ

پاکستان کسان اتحاد

،تصویر کا ذریعہFarooq Tariq

،تصویر کا کیپشنلاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کی داد رسی کرنے کی بجائے ان پر مقدمات درج کر رہی ہے
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پاکستان کسان اتحاد اور کسان رابطہ کمیٹی نے بدھ کے روز احتجاجی مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والے کسان اشفاق لنگڑیال کی موت کا ذمہ دار ایس پی صدر اور سی سی پی او لاہور کو قرار دیتے ہوئے ان کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان رابطہ کمیٹی کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایس پی صدر حفیظ الرحمان بگٹی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے جبکہ گرفتار کسانوں کو فوری رہا کیا جائے اور ان پر قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔

انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت کی طرف سے گندم کی امدادی قیمت کم از کم 2000 روپے فی من مقرر کی جائے۔

اشفاق لنگڑیال کی احتجاج کے دوران ہلاکت پر کسان رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ وہ ایک صحت مند کسان تھے ان کی ہلاکت پولیس کے تشدد اور کیمکل ملے پانی سے ہوئی ہے۔ کسان رابطہ کمیٹی نے حکومت پنجاب کا یہ موقف بھی مسترد کر دیا ہے کہ کسان اشفاق لنگڑیال کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ چار نومبر کو لاہور میں کسان اتحاد کے مظاہرے کے خلاف پولیس کارروائی کے دوران ایک کسان اشفاق لنگڑیال کی ہلاکت ہو گئی تھی جس پر صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ کسان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے جبکہ کسان اتحاد کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا کہ اشفاق لنگڑیال کی موت پولیس تشدد کے باعث ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملک اشفاق لنگڑیال بدھ کو لاہور میں مظاہرے کے دوران زخمی ہوئے تھے اور جمعرات کی شام دم توڑ گئے تھے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کی داد رسی کرنے کی بجائے ان پر مقدمات درج کر رہی ہے۔ انھوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ملک میں گندم کا بحران حکومتی نااہلی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کسان

،تصویر کا ذریعہHassan Cheema

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق ملک اشفاق لنگڑیال بدھ کو لاہور میں مظاہرے کے دوران زخمی ہوئے تھے اور جمعرات کی شام دم توڑ گئے تھے

کسانوں کے مطالبات کیا ہیں؟

پاکستان کسان اتحاد اور پاکستان کسان رابطے کمیٹی سے منسلک ارکان نے بی بی سی کو بتایا کہ کسانوں اور حکومت کے مابین گندم کی قیمت کے بارے میں کئی بار مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن تاحال یہ کسی فیصلہ کن نتائج پر نہیں پہنچے۔

کسانوں کے اہم مطالبات میں سب سے پہلے گندم کی قیمت ہے جو کسانوں کے مطابق متنازع کر دی گئی ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے گندم کی خریداری کا سرکاری ریٹ بہت کم رکھا جس کے باعث انھیں بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق رواں برس اپریل میں حکومت نے کسانوں سے گندم 1400 روپے فی من کے حساب سے خریدی لیکن گندم کی کٹائی کے بعد گندم کے مارکیٹ پہنچتے ہی اس کی قیمت 2500 روپے فی من تک چلی گئی۔

21 اکتوبر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی یعنی ای سی سی کی ذیلی کمیٹی نے 40 کلو گرام گندم کی قیمت 1600 روپے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے طور پر مختص کر دی۔ لیکن اس قیمت کا اطلاق اگلے سال سے ہو گا اور آئندہ آنے والی فصل پر یہ قیمت لاگو ہو گی۔

کسان رابطہ کمیٹی کے سربراہ فاروق طارق نے کہا کہ ’کسانوں کا مطالبہ یہ تھا کہ اس قیمت کو کو کم از کم 2000 روپے فی من کیا جائے جبکہ گنے کا ریٹ بھی 220 روپے مقرر کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی جو گندم یوکرائن اور روس سے درآمد کی گئی ہے اس کی قیمت بھی 2500 روپے فی من ہے۔ یعنی اپنے کسانوں کو تو یہ 1600 دینا چاہتے ہیں، اور روسی اور یوکرائینی کسان کو یہ 2500 دے رہے ہیں۔ کل پاکستان کسان اتحاد کے مظاہرے میں موجود کسانوں کا یہ بنیادی مطالبہ تھا۔‘

سپورٹ پرائس کیا ہوتی ہے؟

گندم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سپورٹ پرائس کا مطلب حکومت کی طرف سے زرعی پیداوار کو خریدنے کے لیے ایک خاص قیمت کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے مارکیٹ میں اس پیداوار کی قیمت مختص کی جاتی ہے۔ سنہ 2020 اور 2021 کی قیمتوں کو مختص کرنے کے لیے حکومتی اجلاس میں ہر صوبے نے تجویز دی۔ پنجاب میں گندم سب سے زیادہ کاشت کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں وہاں پر 40 کلو گرام گندم کی قیمت 1650 روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ بلوچستان میں 1745 روپے اور خیبر پختونخواہ نے 1800 روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

اسی طرح کھاد، کیڑے مار ادویات اور بیـج رعایتی نرخوں پر کسانوں کو دیے جاتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کارخانوں اور سرمایہ داروں کو زیادہ فائدہ ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

حکومت نے اس بارے میں اب تک کیا کیا ہے؟

کسان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پانچ نومبر کو حکومت کی زرعی مصنوعات کی خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی جس میں وفاقی حکومت سے ماہ نومبر کے اندر کاشتکاروں کے لیے مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور بڑی پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کو فراہم کی جانے والی بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ 2020 میں کاشتکار موجودہ کاشت کاری کے سیزن میں ان مراعات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

گندم کی امدادی قیمت، گندم اور دیگر ربیع کی فصلوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے حکمت عملی کے بارے میں جائزہ کے لیے منعقدہ زرعی مصنوعات سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اس بارے میں اب تک متعلقہ حکام سے سفارشات لی گئی ہے۔

اس اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی فوڈ سکیورٹی اور تحقیق سید فخر امام ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار، ممبران قومی اسمبلی، وزیر زراعت بلوچستان، چیئرمین پی اے آر سی، سیکرٹری فوڈ پنجاب، سیکرٹری زراعت کے پی کے اور ایم ڈی پاسکو نے شرکت کی۔

اس حکومتی کمیٹی کے ممبران کی ایک بڑی اکثریت نے سفارش کی کہ گندم کے لیے کم سے کم امدادی قیمت 1800روپے 40 کلو گرام مقرر کی جائے جبکہ سندھ سے ممبران نے گندم کی کم سے کم امدادی قیمت 2000 روپے فی من کی سفارش کی۔

اراکین کا کہنا تھا کہ گندم کی پیداوار میں معقول منافع نہ ہونے سے کاشتکار گندم کی پیداوار میں دلچسپی نہیں لیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کا قومی غذائی تحفظ بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

کھاد میں سبسڈی کی فراہمی کے طریقہ کار میں غیر مناسب تاخیر نے گندم کی مجموعی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اگلے سال ملک مہنگی گندم درآمد کرنے پر مجبور ہو گا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ہر صوبہ فوری طور پر فنڈز کے اجراء کے لیے وزارت خزانہ سے رابطہ کرے اور مجوزہ سبسڈی تقسیم کرنے کے طریقہ کار کو وزارت قومی فوڈ سکیورٹی اور تحقیق کو بھی بھجوائیں۔