کراچی: جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اور ان کا ڈرائیور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک، نمازِ جنازہ ادا

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کراچی میں دیوبند مسلک کے نامور عالم اور جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اپنے ڈرائیور سمیت ایک حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کی نمازِ جنازہ اتوار کی صبح ادا کی گئی اور بعد ازاں ان کی تدفین جامعہ فاروقیہ میں ان کے والد مولانا سلیم اللہ خان کے پہلو میں کر دی گئی۔
یہ واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ساڑھے سات اور آٹھ بجے کے درمیان پیش آیا۔ شاہ فیصل پولیس کے مطابق مولانا عادل کی گاڑی شاہ فیصل کالونی میں شمع شاپنگ پلازہ کے قریب رُکی، جہاں موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور نے ان پر فائرنگ کردی۔ نتیجے میں مولانا عادل اور ڈرائیور مقصود زخمی ہوگئے۔
مولانا عادل کو لیاقت نیشنل ہسپتال اور ان کے ڈرائیور کو جناح ہسپتال پہنچایا گیا تھا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئے۔ جناح ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔
مولانا عادل کی نمازِ جنازہ اتوار کی صبح جامعہ فاروقیہ فیز ٹو حب ریور روڈ پر ادا کی گئی۔ اس میں جے یو آئی کے عطا الرحمان، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدر، مولانا راشد محمود سومرو، جماعت اسلامی کے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، مولانا قاری محمد حنیف جالندہری جالند،جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی نعمان نعیم اور اورنگزیب فاروقی سمیت دیگر علما نے شرکت کی۔
مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہNazeer Nasir
واقعہ کیسے پیش آیا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے کی تفصیل کے بارے میں ایس پی سی ٹی ڈی راجہ عمرخطاب کا کہنا ہے کہ ایک موٹرسائیکل پر تین حملہ آور آئے تھے۔
’موٹرسائیکل چلانے والے ملزم نے دو حملہ آوروں کو مولانا عادل کی گاڑی کے پیچھے اتارا اور موٹرسائیکل دوسرے روڈ پر لے جا کر کھڑی کی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’دو حملہ آوروں نے نائن ایم ایم پستول سے فائرنگ کی اور ملزمان مولانا عادل کی گاڑی کی ریکی کر رہے تھے۔ حملہ آور کن راستوں سے فرار ہوئے اور حملے میں ایک ہتھیار استعال ہوا یا ایک سے زائد اس کی تفتیش جاری ہے۔‘
اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو آئی جی سندھ مشتاق مہر کی جانب سے دی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا اس میں ڈاکٹر مولانا عادل، مقصود اور عمیر سوار تھے، شمع شاپنگ سینٹر پی ایس شاہ فیصل کورنگی کے پاس مولانا عادل اپنی ویگو کے ساتھ رُکے تھے اس دوران ان کا ایک ساتھی کچھ خریدنے گیا تھا۔ پولیس کو جائے وقوع سے گولیوں کے پانچ خول ملے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے مولانا عادل پر حملے کی مذمت کی ہے اور ان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مولانا عادل کون تھے؟
مولانا عادل جامعہ فاروقیہ کے صدر تھے، یونیورسٹی کا درجہ رکھنے والے جامعہ فاروقیہ میں عربی اور اسلامیات میں ایم اے کے علاوہ پی ایچ ڈی سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔
وہ اس سے قبل جامعہ فاروقیہ کے سیکریٹری جنرل کے منصب پر فائز رہے، جہاں سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائشیا چلے گئے جہاں معارف الوحی اور علم انسان فکیلٹی سے وابستہ رہے۔
مولانا عادل کے والد مولانا سلیم اللہ تھے جو دیوبند مسلک کے نامور عالم اور استاد رہے اور ایک بڑے عرصے سے وفاق المدراس العربیہ کے صدر رہے، اس سے قبل وہ تحریک سواد اعظم کے بنیادی قائدین میں شامل تھے۔
مولانا سلیم اللہ خاں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے اور 1955 میں پاکستان آئے تھے، دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ کے مطابق مولانا سلیم اللہ کا تعلق آفریدی پٹھانوں کے خاندان ملک دین خیل سے تھا ان کے قبیلے کے کچھ افراد مظفرنگر یوپی کے قصبہ حسن پور لوہاری میں آبسے تھے۔
2017 میں والد کے انتقال کے بعد مولانا عادل ملائیشیا سے وطن واپس آگئے اور جامعہ فاروقیہ کی ذمہ داری سنبھالی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فرقہ وارانہ کشیدگی
ایس پی سی ٹی ڈی راجہ عمرخطاب کا کہنا ہے کہ مولانا عادل پرحملہ فرقہ واریت پھیلانے کی سازش ہے۔
کراچی میں محرم الحرام کے بعد فرقہ ورانہ کشیدگی پائی جاتی ہے، شیعہ اور دیوبند مسلک سے وابستہ افراد پر مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں، جبکہ سنّی جماعتوں کی جانب سے بڑی بڑی ریلیاں بھی نکالی گئیں تھیں۔ پیغمبر اسلام کے نواسے اور ان کے جانثاروں کے چہلم کے دو روز کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی نے مولانا عادل پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ شہر کے امن تباہ کرنے کی سازش ہے۔
اہلسنّت والجماعت پاکستان کے صدر علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سمیت پاکستان کی تمام ایجنسیز 24 گھنٹے کے اندر اندر مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے منظر عام پر لائے بصورت دیگر کروڑوں لوگوں کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں۔
پی ڈی ایم اے کے جلسے سے قبل حملہ
پاکستان کی متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم اے نے 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ عام کا اعلان کر رکھا ہے اور اس جلسے سے ایک ہفتہ قبل یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پولیس حکام کو قاتلوں کی گرفتاری فوری عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کچھ شدت پسند شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں پولیس ٹیکنالوجی کی مدد سے فوری قاتلوں تک رسائی حاصل کرے۔
کراچی میں ایک سال کے اندر حملے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گذشتہ سال مارچ میں دارالعلوم کورنگی کے سربراہ مفتی تقی عثمانی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے لیکن دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔






















