کیماڑی: کراچی میں نئے ضلعے کے قیام کی منظوری، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک نیا ضلع بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ کیماڑی ضلعے کے قیام سے کراچی شہر میں اضلاع کی تعداد سات ہو جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سندھ بورڈ آف ریوینیو نے بتایا کہ اس وقت ضلع غربی میں 7 سب ڈویژنز ہیں، جن میں منگھوپیر، سائٹ، بلدیہ، اورنگی، مومن آباد، ہاربر اور ماڑی پور شامل ہیں۔
ان کی کل آبادی 39 لاکھ سے کچھ زیادہ بنتی ہے اور یوں آبادی کے حساب سے ضلع غربی پورے سندھ میں سب سے بڑا ضلع ہے۔
کراچی بندرگاہ نئے ضلع میں
سندھ کابینہ کے اجلاس میں سائٹ، بلدیہ، بندرگاہ اور ماڑی پور پر مشتمل نیا ضلع بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا جس کے بعد کابینہ نے کیماڑی ضلع بنانے کی منظوری دے دی۔
یاد رہے کہ کراچی میں بندرگاہ اور سائٹ ایریا محصولات کا بڑا ذریعہ ہیں جو اس ضلعے میں شامل کیے گئے ہیں جبکہ دوسری بندرگاہ پورٹ قاسم ملیر ضلع میں شامل ہے، جس کا قیام بھی سنہ 1996 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں عمل میں تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

یونین کونسلز اور ڈی ایم سیز میں اضافہ ہو گا
کیماڑی ضلع کے قیام کے بعد یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ اس نئے ضلع سے قبل کراچی میں 6 اضلاع موجود ہیں، جن میں ضلع شرقی 66 یونین کاؤنسل، کراچی وسطی 61، ضلع غربی 51، ضلع جنوبی 45، ضلع ملیر 20 شامل ہے۔ کورنگی ضلع کو علیحدہ ڈی ایم سی دینے کے بجائے ضلع ایسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
اس وقت ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن ملیر اور ضلع جنوبی ڈی ایم سی کے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ باقی چار ڈی ایم سیز کے چیئرمین اور کے ایم سی کے میئر ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں۔
کراچی میں اس وقت کل 243 یونین کونسل ہیں اور ان تمام کے چیئرمین کے ایم سی کے ممبران ہیں جو کراچی کے میئر اور نائب میئر کا انتخاب کرتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں جنرل ممبران کی تعداد 178 تھی اور اس سے پہلے کے نظام میں 262 اراکین تھے جو میئر اور نائب کا انتخاب کرتے تھے۔
اس فیصلے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
صوبہ سندھ میں بلدیاتی ادارے 8 روز کے بعد اپنی مدت پوری کرلیں گے، جس کے بعد ان اضلاع کی دیکھ بال ایڈمنسٹریٹر کریں گے۔ صوبائی کابینہ نے صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کو ان ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کا اختیار دے دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ نئے ضلع کا قیام انتظامی نہیں سیاسی فیصلہ ہے اور یہ کہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کوشش ہوگی کہ میئر ان کا آئے۔ ان کی اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کراچی کو سات نہیں 9 اضلاع میں تقیسم کرنے کی خواہشمند ہے۔
’اس فیصلے کی ٹائمنگ بھی درست نہیں یا تو 2013 میں بلدیاتی نظام متعارف کرانے سے قبل یہ فیصلہ کیا جاتا اس وقت ایم کیو ایم تھی، موجودہ وقت جب یہ فیصلہ کیا جارہا تھا تو وسیم اختر کو اعتماد میں لیا جاتا وہ ابھی تک میئر ہیں یا پھر جو وفاقی، شہری حکومت اور صوبائی کمیٹی پر مشتمل مشاورتی کمیٹی بنی ہے اس میں یہ تجویز پیش کی جاتی تو اس کی اہمیت میں وزن آجاتا۔‘
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سیاسی پولرائزیشن میں اضافہ ہو گا، شہری اور دیہی تفریق بڑھے گی اور ایم کیو ایم اور پی ایس پی اپنا ایجنڈہ بنائیں گے اور دوبارہ کراچی کو انتظامی صوبہ بنانے والے نعرے بھی لگیں گے۔
سندھ ٹی وی کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئر اور تجزیہ نگار فیاض نائچ کا کہنا ہے کہ ’ایک نئے ضلع کا اضافہ خوش آئند ہے اس میں کوئی قباحت نہیں۔ پیپلز پارٹی کی کوشش ہو گی کہ بلدیاتی انتخاب میں ایم کیو ایم کمزور ہو اور وہ اپنا میئر لائیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’سٹیبلشمنٹ بھی اس فیصلے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ نظر آتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی لندن سے علیحدگی کے باوجود نسل پرستی والا عنصر اور سیاست موجود ہے، اس لیے سٹیبلشمنٹ کراچی کا مینڈیٹ تقسیم کرنا چاہتی ہے پھر چاہے پیپلز پارٹی کو ہی فائدہ کیوں نہ ہو۔‘
فیاض نائچ کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب ایم کیو ایم سندھ میں مضبوط تھی تو سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کو چار اضلاع میں تقسیم کیا گیا اور یوں حیدرآباد میں ایم کیو ایم کا سیاسی تسلط قائم ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اضلاع بنانے کی روایت پہلے سے موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیپلز پارٹی اجارہ داری چاہتی ہے؟
کراچی میں قومی اسمبلی کی 21 جنرل نشستیں ہیں جن میں سے 14 تحریک انصاف، چار ایم کیو ایم پاکستان اور تین پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہیں جبکہ 42 صوبائی اسمبلی کے نشستوں میں سے تحریک انصاف کے پاس 22، ایم کیو ایم کے پاس 13 اور حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جس میں سے ملیر سے صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ کے انتقال کی وجہ سے ایک نشست خالی ہے۔ دو صوبائی نشستیں تحریک لبیک پاکستان اور ایک جماعت اسلامی کے پاس ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی فیصل سبزواری نے نئے ضلع کے قیام کے فیصلے کو ’شعبدے بازی اور غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رویونیو قوانین کے مطابق کسی بھی ضلع کے قیام سے قبل عوامی سماعت کی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلینج کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں ویسٹ کی 46 یونین کاؤنسلز میں سے 22 ایم کیو ایم نے جیتیں جبکہ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں اتحاد بنانے کے باوجود اپنا ضلعی چیئرمین نہیں لاسکیں تھیں۔
’موجودہ وقت 4 چیئرمین ایم کیو ایم اور دو پیپلز پارٹی کے ہیں۔ یہ ضلع بنا کر پیپلز پارٹی تیسرا چیئرمین لانے کی کوشش کر رہی لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں۔ پاکستان کا کوئی بھی میٹروپولیٹن شہر ایسا نہیں جو ایک ضلع سے زائد ہو، یہ مصنوعی مینڈیٹ لایا جارہا ہے۔‘
تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان بھی اس اقدام کو پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک اور ضلعی چیئرمین لانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اب پیپلز پارٹی حلقہ بندیاں کرے گی تاکہ ایک اور ڈی ایم سی میں کامیابی حاصل کرے لیکن ’ان کی غلط فہمی ہے کہ لوگ انھیں ووٹ دیں گے، یہ انتظامی نہیں سیاسی فیصلہ ہے۔‘
انھوں نے سوال کیا کہ ’ضلع وسطی میں یونین کونسلز زیادہ ہیں تو اس ضلع کو کیوں نہیں توڑا گیا؟ اگر عوام کو سہولیات پہنچانے کی بات ہے تو جنوبی اور ملیر میں ان کے چیئرمین تھے وہاں کونسا لوگوں کو پینے کے پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی سہولت فراہم کی گئیں ہیں۔‘
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کا بھی ان سے ملتا جلتا مؤقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ شہر پر اپنی سیاسی اجارہ داری قائم کرے ’ان کو کراچی سے کوئی محبت نہیں ورنہ شہر کا ایسا حال ہرگز نہیں ہوتا۔‘
وہ کہتے ہیں ’بدقسمتی سے انھیں فرینڈلی اپوزیشن ملی ہے، اگر عوام کی سہولت کے لیے یہ انتظامی تقسیم کی جارہی ہے تو پاکستان میں اس بنیاد پر نئے صوبے کیوں نہ بنائے جائیں؟ پھر پیپلز پارٹی اس پر کیوں رو رہی ہے۔‘

























