کراچی: جماعت اسلامی کی کشمیر یکجہتی ریلی پر حملہ، ایک ہلاک متعدد زخمی

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ’کشمیر ڈے‘ پر جماعت اسلامی کی منعقدہ ریلی پر کریکر حملہ کیا گیا ہے، جس میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم 38 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ عسکریت پسند قوم پرست جماعت سندھ ریوولیوشنری آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان زاہد عسکری نے بتایا کہ رفیق تنولی لیاقت نیشنل ہپستال میں ونٹی لیٹر پر تھے۔ جمعرات کی دوپہر کو وہ جانبر نہ ہو سکے ان کی عمر 45 سال کے لگ بھگ تھی۔ رفیق تنولی کی نمازے جنازہ جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نور الحق کے باہر ادا کی جائے گی۔
جماعت اسلامی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جماعت کے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں سوا 6 بجے یہ ریلی یونیورسٹی روڈ پر واقع بیت المکرم مسجد سے نکالی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا ’ریلی ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے بم پھیکنا، جس سے شدید دھماکہ ہوا اور دو درجن کے قریب کارکن زخمی ہوگئے ہیں جنھیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔‘
دھماکے کے بعد حافظ نعیم الرحمان نے ریلی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ایسے بزدلانہ اقدامات سے وہ نہیں ڈریں گے، جس کے بعد یہ ریلی حسن اسکوائر تک پہنچی جہاں اس کا اختتام کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گلشن اقبال پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل سواروں نے جماعتِ اسلامی کی قیادت کے ٹرک کے قریب یہ کریکر پھینکا اور فرار ہو گئے۔
سندھ کی صوبائی محکمہ صحت کی ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 38 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ زخمی المصطفیٰ ہسپتال، لیاقت نیشنل، جناح اور آغا خان ہسپتال پہنچائے گئے تھے اور کئی ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہریوں سے اظہار یکہجتی کے طور پر یوم کشمیر اس بار ’یوم استحصال‘ کے عنوان سے منایا گیا تھا، اور اس حوالے سے اسلام آباد اور کراچی سمیت کئی شہروں میں ریلیاں نکالی گئی تھیں۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’کراچی میں جماعت اسلامی کی یکجہتی کشمیر ریلی پر بم حملہ بزدلانہ کارروائی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’شہر میں اب بھی انڈین ایجنٹ موجود ہیں جن سے اہل کشمیر سے اظہارِ یکجہتی برداشت نہیں ہوا۔ ہم اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور اہل کشمیر کی زیادہ جرات کے ساتھ ترجمانی کریں گے۔‘
قوم پرست جماعت جیے سندھ قومی محاذ، جسقم نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے ہم سندھ کے لوگ محبت امن اور انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ کبھی بھی کسی غیر قانونی اور پرتشدد کارروائی کی حمایت نہیں کرتے۔
دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند قوم پرست جماعت جئے سندھ ریوولیوشنری آرمی یعنی ایس آر اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، ٹوئٹر پر تنظیم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’سندھی قوم اپنی سرزمین سندھ پر کوئی بھی قبضہ اور مذہبی انتہاپسندی قبول نہیں کرے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کالعدم تنظیم سندھو دیش ریولیشنری آرمی اس سے قبل کراچی اور گھوٹکی میں رینجرز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سندھو دیش ریوولیوشنری آرمی کون ہے؟
حکومت پاکستان نے تین ماہ قبل تخریب کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں سندھو دیش ریوولیوشنری آرمی نامی گروپ پر پابندی عائد کی تھی۔
سندھ کے قوم پرست عسکریت پسند گروپ کا قیام 2010 میں عمل میں لایا گیا، کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ میں اندرونی اختلافات اس گروپ کے قیام کی وجہ بنی تھی۔ اس سے قبل تحقیقاتی ادارے کالعدم سندھ لبریشن آرمی کا تعلق جئے سندھ متحدہ محاذ سے جوڑتے آئے ہیں۔
سندھو دیش ریوولیوشنری آرمی گلشن حدید میں چینی انجنیئروں کی گاڑی، سکھر میں سی پیک اہلکاروں سمیت کراچی میں ایک ایچ او اور رینجرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے، یہ عسکریت پسند گروپ چین پاکستان اقتصادی راہدری کا مخالف ہے اور سندھ کے معدنی وسائل پر مقامی حقوق کا حامی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
اس تنظیم کو اصغر شاہ گروپ بھی کہا جاتا ہے، جس کا سربراہ شاہ عنایت کے نام سے پہچان رکھتا ہے۔ اصغر شاہ 2005 میں گرفتار ہوئے اور پانچ سال کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی جس کے بعد انھوں نے اپنا گروپ بنانے کا فیصلہ کیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت مسلح جدوجہد سے دستبردار ہوگئے تھے، جبکہ اس عرصے میں ان کے 40 ساتھی ہلاک کیے گئے۔ واضح رہے کہ شفیع برفت اور ان کے ساتھی اس وقت جرمنی میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سندھ میں علیحدگی کی تحریک تو انیس سو ستّر سے جاری ہے لیکن اس میں مزاحمتی رنگ 2000 میں آیا جبکہ جئے سندھ متحدہ محاذ کا دوسرا جنم ہوا ہے۔
نومبر 2000 کی سرد شام کو شفیع محمد برفت کی قیادت میں دو درجن افراد نے جیئے سندھ متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی۔
اس تنظیم کے آئین میں وہ تمام نکات شامل ہیں جو جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے رکھے تھے لیکن ایک نکتے ’مزاحمت یا عسکریت پسندی‘ کا اضافہ کیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر دادو کے علاقے میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن، حیدرآباد، کوٹڑی، خیرپور، نوشہرو فیروز اور جامشورو سمیت مختلف علاقوں میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کیے گئے اور ان واقعات کی ذمہ داری سندھ لبریشن آرمی نامی غیر معروف تنظیم قبول کرنے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔
سنہ2003 سے پاکستان کے ریاستی ادارے سرگرم ہوئے اور سندھ سے گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٹنڈو محمد خان، میھڑ، خیرپور ناتھن شاھ، حیدرآباد، خیرپور، شہدادکوٹ، رتودیرو سمیت کئی شہروں سے درجنوں قوم پرست کارکن لاپتہ ہوگئے، جن میں سے کئی نے رہا ہونے کے بعد قومی دہارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔
























