خواجہ سعد اور سلمان رفیق کی ضمانت پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں نیب کی سرزنش اور سوشل میڈیا پر ردِ عمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکنِ پارلیمان خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کے حوالے سے جو تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے اس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔
سعد رفیق اور ان کے بھائی کو دسمبر 2018 میں نیب نے پیراگون ہاؤسنگ سکینڈل میں اپنی تحویل میں لیا تھا جس کے بعد رواں برس 17 مارچ کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔
ضمانت دیتے وقت بھی جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’یا تو نیب خراب ہے یا اہلیت کا فقدان ہے، دونوں ہی صورتحال میں معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ نیب کے پاس ضمانت خارج کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔‘
تاہم پیر کو تفصیلی فیصلہ جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر اس کے اقتباسات شیئر کیے جا رہے ہیں جن میں سے ایک میں جسٹس مقبول باقر نے فیصلے کے آغاز میں ہی انگریز فلسفی اور سیاسی اکانومسٹ جان سٹورٹ مل کا یہ قول لکھا ہے:
'ایک ریاست جو اپنے عوام کو چھوٹا کر دکھائے تاکہ وہ اس کے ہاتھوں میں اچھے مقاصد ہی کے لیے سہی آلہ کار بنے رہیں، یہ جان لے گی کہ چھوٹے آدمیوں سے کوئی بڑا کام نہیں لیا جا سکتا۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فیصلے پر سوشل میڈیا ردِ عمل پر بعد میں نظر ڈالتے ہیں اور اس سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس فیصلے میں کیا کہا گیا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تمام شواہد کو دیکھتے ہوئے چیئرمین نیب نے اس معاملے میں مزید کارروائی کرنے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا وہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ اگر ملزمان کے خلاف لگائی گئی شکایات اس کی بنیاد تھی تو یہ واضح نہیں کہ شکایات میں الزامات کیا تھے اور نیب کے سامنے ایسی کیا معلومات پیش کی گئی تھیں کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ کمپنی کی مینیجمینٹ کے اقدامات پر قومی احتساب آرڈینسن کے سیکشن 9 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ نیب کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں تھے جو درخواست گزار بھائیوں کو کمپنی سے جوڑتے ہوں اور جس کی بنا پر کمپنی کے کسی بھی غلط اقدام کی وجہ سے ان کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی وجہ بنے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کمپنی کے خلاف ریفرنس میں 5 الزامات لگائے گئے لیکن نیب نے درخواست گزاروں سعد رفیق اور سلمان فریق سے ایک بھی سوال اس حوالے سے نہیں کیا جبکہ ان سے طویل دورانیے پر مبنی پوچھ گچھ کئی مرتبہ کی گئی جس کا آغاز کم از کم مارچ 2018 میں ہو چکا تھا۔
عدالت نے کہا ہے کہ نیب نے درخواست گزاروں سے طلبی کے نوٹسز کے ذریعے ان چند رقوم کے بارے میں پوچھا جو انھیں کمپنی کی جانب سے کسی زمین کے لین دین میں ملی تھی۔
نیب نے درخواست گزاروں کو ایک بلڈر کی جانب سے ملنے والی رقم پر بھی سوال اٹھائے ہیں جو ان کے مطابق کمپنی کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا تھا۔
عدالت نے کہا ہے کہ نیب اس حوالے سے رقم کی لین دین میں کسی قسم کی قانون کی خلاف ورزی کو ثابت نہیں کر سکا ہے اور نہ ہی یہ کہ درخواست گزاروں نے ان ذرائع سے بدیانتی اور غیر قانونی طریقے سے اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ یہ ذاتی نوعیت کا لین دین تھا جس سے عوام یا حکومت کے مفاد پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی یہ کمپنی کے شکایت کنندہ گاہکوں کو پلاٹوں کے مبینہ طور پر قبضہ نہ دینے یا رقوم واپس نہ کرنے کا باعث بنا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب اب تک درخواست گزاروں کے کمپنی کے بطور ممبر، پارٹرنر یا ڈائریکٹر تعقق کو ثابت نہیں کر سکا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ دخواست گزاروں کے خلاف تحقیقات، ان کی گرفتاری اور 15 ماہ کے طویل عرصے تک ان کی حراست، بادی النظر میں احتساب آرڈیننس سے ہم آہنگ یا مطابقت نہیں رکھتا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سوشل میڈیا پر ردِ عمل
خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی جانب سے اس فیصلے پر مختصر ردِ عمل دیے گئے۔
خواجہ سعد رفیق نے لکھا الحمداللہ اور ان کے بھائی نے قران کی آیت لکھی جس کا مفہوم ہے وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے رسوائی۔
قائدِ حزبِ اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا جو اس وقت خود بھی نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں کہنا تھا کہ خواجہ برادرز کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ دراصل نیب کے خلاف ایک فردِ جرم کی مانند ہے۔ ان (بھائیوں کی) استقامت اور عزم قابلِ ستائش ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نیب کو حذبِ اختلاف کے خلاف ایک آلۂ کار کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ جسٹس مقبول باقر نے صحیح معنوں میں نیب کی سرزنش کی ہے۔ نیب کی سربراہی کرنے والا کوئی بھی باوقار آدمی اس فیصلے کے بعد استعفیٰ دے دیتا۔
انھوں نے سوال کیا کہ عدالت چیئرمین نیب سے اس بات کا جواب کیوں نہیں مانگتی کہ ابتدا میں جعلی کیسز کیوں بنائے گئے۔
فیصل رانجھا نے لکھا کہ یہ سپریم کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ ہے اور نیب اور حکومت کے گٹھ جوڑ کے خلاف الزامات کی ایک فہرست ہے۔ اب یہ حزبِ اختلاف پر ہے کہ وہ اسے کسی مستند جگہ پر فیصلہ کن طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس سے بہتر موقع انھیں نہیں ملے گا۔




























