آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
صادق آباد میں شاگرد پر تیزاب پھینکنے کا ملزم استاد ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد میں عدالت نے اپنے شاگرد سمیت چار بچوں پر تیزاب پھینکنے کے ملزم استاد کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
تھانہ صادق آباد میں درج ایف آئی آر میں ایک مضروب طالب علم کے والد کی جانب سے درج مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم ان کے بیٹے کو قرآن پڑھاتا تھا اور اس سے جسمانی تعلق قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس معاملے کی گھر والوں سے شکایت کرنے پر اس نے بچے پر تیزاب پھینکا۔
ایس ایچ او تھانہ صادق آباد ظہور داؤد نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ملزم کو بدھ کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اس کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔
تھانہ صادق آباد میں درج ایف آئی آر میں ایک مضروب طالب علم کے والد کی جانب سے درج مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کا بیٹا ملزم کے پاس قرآن کی تعلیم حاصل کرتا تھا اور اس دوران ملزم نے ان کے بیٹے بری نظر رکھنا شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم بدفعلی کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا تھا اور طالبعلم نے اس بارے میں اپنے گھر میں بتایا تو اسے مدرسے جانے سے روک دیا گیا تاہم ملزم بچے کو اپنے پاس قرآن پڑھنے کے لیے مجبور کرنے لگا۔
مدعی کا کہنا ہے کہ ملزم نے بچوں کو قتل کی دھمکیاں بھی دیں اور 14 جولائی کو جب مدعی کا بیٹا اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ گلی میں کھیل رہا تھا تو ملزم نے اسے اور اس کے ایک دوست سے کہا کہ ’تم لوگوں نے گھر والوں کو میری شکایت کی ہے۔ میں تم لوگوں کو مزہ چکھاتا ہوں‘۔
ایف آئی آر کے مطابق اس کے بعد ملزم نے ہاتھ میں پکڑی بوتل میں موجود تیزاب مدعی کے بیٹے اور اس کے دوست پر پھینکا جو ان کے ساتھ کھیلنے والے دوسرے بچوں پر بھی گرا۔
تیزاب کا نشانہ بننے والا بچے اور اس کے ساتھ دیگر تین بچوں کو اس واقعے کے فوراً بعد تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صادق آباد لے جایا گیا جہاں سے مدعی کے بیٹے کو رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال کے برن یونٹ بھجوا دیا گیا۔
شیخ زید ہسپتال کے برن یونٹ کے مطابق بچے کے جسم کے کئی حصے جلے ہیں تاہم اس کی حالت مستحکم ہے۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صادق آباد کے مطابق باقی تینوں بچوں کی حالت بھی مستحکم ہے اور دو بچوں کو علاج کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
’والد سے شکایت کی تو ملزم نے بچے پر تیزاب پھینک دیا‘
تیزاب کا نشانہ بننے والے بچے کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صادق آباد میں ویلڈنگ کا کام کرتے ہیں جبکہ ان کا بیٹا آٹھویں کلاس میں پڑھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملزم ان کا محلے دار ہے اور دو سال سے اپنے گھر میں بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے۔ ’چند دن قبل میں نے اپنے بچے کو بھی ان کے پاس گھر میں قرآن پڑھنے کے لیے بھیجا۔ کچھ دن تو وہ آتا جاتا رہا۔ پھر ایک دن وہ انتہائی پریشان تھا۔ جب اس کی ماں نے پوچھا تو اس نے کچھ نہیں بتایا۔ دوسرے دن ویسے ہی مجھے شک ہوا۔ گھر آیا تو بتایا گیا کہ بچہ قرآن پڑھنے گیا ہے جس پر میں ملزم کے گھر گیا تو بیٹا وہاں موجود نہیں تھا۔ تلاش کیا تو وہ میدان میں موجود تھا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے بچے کو کچھ نہیں کہا، صرف اپنی اہلیہ سے کہا کہ اس سے پوچھے کہ کیا ماجرا ہے۔ جس پر اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ استاد اس کو ہراساں کرتے ہیں اور مختلف طریقوں سے بدفعلی پر مجبور کرتے ہیں۔ بچے نے والدہ کو بتایا کہ اس نے جب منع کیا تو استاد مار پیٹ پر اتر آیا‘۔
بچے کے والد کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انھوں نے بیٹے کو مدرسہ بھیجنے سے منع کر دیا۔ ’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ استاد صاحب باز آ جاتے مگر انھوں نے مختلف طریقوں سے بچے کو پیسے بھیجنا شروع کر دیے اور یہ کہلوانا شروع کر دیا کہ وہ پڑھنے آئے۔ جب یہ صورتحال پیدا ہوئی تو میں ان کے گھر گیا اور ملزم کے والد کو شکایت کی اور محلے والوں کو بھی بتایا کہ ملزم یہ حرکتیں کر رہا ہے۔ اس پر ملزم نے منگل کو میرے بچے اور دیگر بچوں پر تیزاب ہی پھینک دیا ہے‘۔
پولیس کا موقف کیا ہے؟
ایس ایچ او صادق آباد ظہور داؤد نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کی خبر ملتے ہی پولیس فورس حرکت میں آ گئی تھی۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے مگر ملزم ایک روز تک مفرور رہا تاہم پولیس نے اپنے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزم پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 366 بی کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور اس قانون کے تحت نہ تو ملزم کی ضمانت ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس معاملے میں فریقین صلح کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت میں الزام ثابت ہو جائے تو مجرم کو عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔