سی ٹی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے میں چار افراد کی ہلاکت کے خلاف باڑہ میں دوسرے دن بھی احتجاج

،تصویر کا ذریعہShahnawaz
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں سکول ٹیچر عرفان اللہ آفریدی کی محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاکت کے خلاف احتجاج جاری ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ دوسرے روز بھی صبح 10 سے شام چار بجے تک بند رہی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پشاور کے علاقے متنی میں ہونے والے اس مبینہ مقابلے میں عرفان اللہ سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سی ٹی ڈی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مبینہ مقابلے میں عرفان اللہ اور ان کے علاوہ ہلاک ہونے والے تین دیگر افراد دہشتگردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تاہم لواحقین کی جانب سے ان تمام الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔
بدھ کی شام باڑہ پریس کلب میں مذکورہ افراد کے قتل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد اور خیبر ایجنسی کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر محمد اقبال کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین کی قیادت کرنے والے جماعت اسلامی کے رہنما خان ولی خان نے بتایا کہ مذاکرات اس وقت ناکام ہوگئے جب انھوں نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر خیبر سے مطالبہ کیا کہ وہ عرفان اللہ آفریدی کے قتل کا مقدمہ درج کریں۔
خان ولی خان کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس افسر خیبر نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے معذوری کا اظہار کیا جس پر ہمارے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوچکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہShahnawaz
مذاکرات میں شریک عوامی نیشنل پارٹی خیبر کے رہنما صدیق شاہ کا کہنا تھا کہ اب ہمارا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عرفان اللہ آفریدی کے قتل کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ عرفان اللہ پہلے ہی سے حکام کی حراست میں تھے اور ان کے والد نے ان کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے درخواستیں جمرود اور باڑہ تھانے میں دی ہوئی تھیں۔
صدیق شاہ نے کہا کہ عرفان اللہ کی تلاش کے لیے میڈیا سمیت سارے ذرائع استعمال کیے جا رہے تھے، ایسے میں عرفان اللہ کا اس طرح قتل ہونا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم روزانہ صبح 10 سے شام چار بجے تک دھرنا دیں گے اور ان کا یہ دھرنا اس وقت ختم ہوگا جب پولیس انھیں عرفان اللہ کے قتل کی ایف آئی آر لا کر دے گی۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کا کیا کہنا ہے؟
ڈسٹرکٹ پولیس افسر محمد اقبال کے مطابق یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے جو مطالبات پیش کیے گئے ہیں، ان پر غور ہو رہا ہے اور دیکھا جائے گا کہ کون سا مطالبہ منظور ہوسکتا ہے اور کون سا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ عرفان اللہ آفریدی سمیت ان چار لوگوں کے مقابلے میں مارے جانے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ خیبر پولیس کا دائرہ کار اور اختیار نہیں ہے، تاہم اگر کسی کو کسی واقعہ پر کوئی شک و شبہ ہے تو عدلیہ کا فورم موجود ہے، وہاں پر جایا جاسکتا ہے۔‘
دوسری جانب سی ٹی ڈی کے ایک اہلکار کے مطابق عرفان اللہ سمیت یہ چاروں افراد پشاور کے ایک گھر میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی تو ہمارے اہلکاروں نے چھاپہ مارا، اور جواب میں چاروں نے سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقابلہ 40 منٹ تک جاری رہا، جس میں چاروں افراد مارے گئے تھے۔
انھوں نے مظاہرین کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی پہلے حراست میں نہیں لیا گیا تھا، اور اس واقعے سے قبل ہلاک ہونے والوں میں کوئی شخص سی ٹی ڈی کی حراست میں تھا۔

،تصویر کا ذریعہKhan Wali Khan
لواحقین کا مؤقف
سی ٹی ڈی کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے عرفان اللہ آفریدی کے والد لائق شاہ آفریدی نے بتایا کہ عرفان اللہ کی بحیثیت سرکاری استاد تقرری ہوئی تھی اور وہ یکم جون کو ضلع خیبر کے محکمہ تعلیم کے جمرود میں واقع ضلعی ہیڈ کوارٹر میں اپنی تقرری کا لیٹر لینے گئے تھے۔
انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس دن کے بعد سے لاپتہ ہوگئے۔
’میں نے اس کی گمشدگی کی درخواست جمرود تھانے کے علاوہ باڑہ تھانے میں بھی جمع کروائی تھی۔ 12 جون کو باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ان ہی حالات میں 22 جون کو ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے پتا چلا کہ پشاور کے علاقے متنی میں سی ٹی ڈی نے چار ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کیا ہے۔ ان افراد میں عرفان اللہ بھی شامل تھا اور اس کی لاش کے ساتھ اس کا شناختی کارڈ پڑا ہوا تھا۔‘
لائق شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم انتہائی پر امن لوگ ہیں۔ دہشت گردی کے عروج کے زمانے میں بھی سیکورٹی فورسز کا ساتھ دیا تھا۔ اب ہم پر جو دہشت گردی کا لیبل لگایا گیا ہے، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ہماری لیے گالی اور بدترین داغ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے، اور اگر وہ دہشت گرد تھے تو انھیں عدالت میں پیش کیا جاتا۔
’اگر جرم ثابت ہوتا تو سزا دی جاتی، مجھے قطعاً افسوس نہ ہوتا، مگر اس طرح سے تو ہمارے پورے خاندان کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ یہ مجھے قبول نہیں ہے اور اس پر جتنا ممکن ہوگا ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہShahnawaz
ان کے مطابق عرفان اللہ آفریدی 12 سال سے مقامی تعلیمی ادارے غزالی پبلک سکول میں استاد کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
انھوں نے سوگواروں میں بیوہ اور ایک بچی چھوڑی ہے۔
مقابلے میں مارے جانے والے باقی کون تھے؟
عرفان اللہ آفریدی باڑہ کے رہائشی تھے اور ان کی ہلاکت پر باڑہ ہی میں احتجاج ہو رہا ہے۔ اس احتجاج میں پشاور کے علاقے متنی کے رہائشی منال خان بھی شریک تھے جن کا دعویٰ تھا کہ عرفان اللہ آفریدی کی لاش کے ہمراہ ان کے بیٹے اسد اللہ اور بھتیجے ثاقب اللہ کی لاشیں بھی برآمد ہوئی تھیں۔
منال خان کا کہنا تھا کہ اسد اللہ کو رواں سال 14 مئی کو پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے بھاری نفری کے ساتھ چھاپہ مار کر رات کے وقت گھر سے گرفتار کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’پولیس نے اس موقع پر مجھ سے کہا تھا کہ تفتیش کرنی ہے، میں نے کہا کہ ٹھیک ہے تفتیش کرنی ہے تو کریں اور لے جائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد سے اس کا کچھ اتا پتا نہیں چلا۔ پھر اس کے بعد دو جون کو میرے بھتیجے ثاقب اللہ کو بھی اسی انداز میں گرفتار کیا گیا جیسے اسداللہ کو اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد ہم ہر جگہ مارے مارے پھرتے رہے، مگر 22 جون کو سوشل میڈیا سے اطلاعات ملیں کہ میرا بیٹا اور بھتیجا دہشت گرد ہیں اور مارے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’کمال ہے کہ یہ دونوں سی ٹی ڈی کی حراست میں تھے، تو پھر مقابلہ کیسے ہوا؟‘
منال خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے دونوں رشتے داروں کی لاشوں پر تشدد کے بے پناہ نشانات تھے جو میتوں کو غسل دیتے وقت واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی عرفان اللہ کے رشتہ داروں سمیت اس احتجاج میں شریک ہیں اور انصاف کے متقاضی ہیں۔






















