چینی کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع خارج کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق حکمِ امتناع خارج کرتے ہوئے وفاقی اداروں کو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے قبل 11 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست پر حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے مشروط حکم امتناع جاری کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ اس کیس میں آئندہ سماعت تک ملک بھر میں چینی 70 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جائے، جو کہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔
نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں حکومتی نمائندوں کو اس معاملے پر بیان بازی سے روکتے ہوئے متعلقہ اداروں کو کہا کہ حکومتی شخصیات کی جانب سے دیے گئے بیانات اس کیس کی تفتیش پر اثر انداز نہیں ہونے چاہیں۔
عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ چینی انکوائری کمیشن سے متعلق وفاقی حکومت کی طرف سے تمام اختیارات احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر مرزا شہزاد اکبر کو تفویض کرنا سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس ضمن میں حکومت کو درست اقدامات سے متعلق اپنی رائے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ ریمارکس دیے کہ آئین کا آرٹیکل 10 A جو کہ فیئر ٹرائل سے متعلق ہے وہ کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
آج کی عدالتی کارروائی میں اٹارنی جنرل خالد جاوید عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں چینی بحران سے متعلق انکوائری کمیشن کی تشکیل اس لیے کی گئی تھی تاکہ ذمہ داران کی نشاندہی ہو سکے اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ اس کمیشن میں تمام تحقیقاتی اداروں کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔ انھوں نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ انکوائری کسی شخصیت یا شخصیات کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خالد جاوید کا کہنا تھا کہ اس انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے جو کہ وزیر اعظم کے دوستوں میں شامل تھے۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ انکوائری کمیشن میں خفیہ اداروں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا، جیسا کہ پانامہ گیٹ کیس میں ہوا تھا۔
آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کمیشن کی تشکیل ناصرف غیر آئینی ہے بلکہ اس کمیشن کے اراکین نے اپنے اختیارات سے تجاوز بھی کیا اور مخصوص شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی۔
ان درخواستوں میں گنا کاشت کرنے والے کاشتکاروں نے بھی اس معاملے میں فریق بننے کی استدعا کی تھی تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں ہدایت کی تھی کہ ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں ان پر عملدرآمد کے لیے وہ متعلقہ صوبائی حکومتوں سے رجوع کریں اور اگر متعلقہ صوبائی ادارے ان کو حقوق نہیں دلاتے تو معاملہ صوبائی ہائی کورٹس میں اٹھایا جائے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی چیز کی قیمت کا تعین کرنا عدالت کا نہیں بلکہ ایگزیکیٹیو کا اختیار ہے۔
نیب پہلے ہی اس حوالے سے یہ بیان جاری کر چکا ہے کہ وہ انکوائری کمشین کی سفارشات کو نظر انداز نہیں ہونے دے گا۔
احتساب سے متعلق مشیر شہزاد اکبر نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر قانونی کارروائی کے لیے چیئرمین نیب کو خط بھی لکھا تھا جبکہ ایف آئی اے، ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے حکام کو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
ذمہ داران کے خلاف سفارشات

،تصویر کا ذریعہJEHANGIRTAREEN.COM/AFP/@MOONISELAHI
سات جون کو وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں چینی بحران کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف مجموعی طور پر سات بڑی سفارشات کی منظوری دی تھی۔
حکومت نے سنہ 2014 کے بعد چینی پر دی جانے والی 29 ارب کی سبسڈی کا معاملہ قومی احتساب بیورو کو فوجداری تحقیقات کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کن سات سفارشات کی منظوری دی گئی اور کون ان کی تحقیقات کرے گا؟
- شوگر ملوں کو ملنے والی سبسڈی کی تحقیقات: نیب
- انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس فراڈ اور بے نامی لین دین کی تحقیقات: ایف بی آر
- کارٹیلائزیشن کی تحقیقات: مسابقتی کمیشن
- برآمدات اور قرض معاف کروانے کی چھان بین: سٹیٹ بینک آف پاکستان
- کارپوریٹ فراڈ کی تحقیقات: ایف آئی اے، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن
- مبینہ جعلی برآمدات، منی لانڈرنگ کی تحقیقات: ایف آئی اے
- صوبائی قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات: انسدادِ بدعنوانی کے صوبائی محکمے
ان سفارشات کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے منظور کردہ سفارشات کا پہلا حصہ پینل ایکشن پر مشتمل ہے یعنی ان لوگوں کے خلاف ایکشن جنھوں نے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی، اس میں سزا جزا کے علاوہ لوٹے گئے پیسے کی واپسی بھی ہے۔
دوسرا حصہ ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلیوں کی سفارشات جبکہ تیسرا حصہ ان سفارشات پر مبنی ہے کہ شوگر کی قیمتوں کے حوالے سے مستقبل میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ چینی کی اصل قیمت کا تعین ہو جائے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی کی قیمت کا تعین آج تک شوگر انڈسٹری خود ہی کرتی تھی کیونکہ اس حوالے کوئی طریقہ کار موجود ہی نہیں ہے۔

























