سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث: بہتر کونسی میٹھی یا نمکین لسی؟

لسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سعد سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

دنیا بھر میں رائے شماری کی تاریخ خاصی قدیم ہے اور عام تصور یہ ہے کہ سنہ 1824 میں صدارتی انتخابات سے قبل امریکی ریاست پینسلوینیا میں پہلی رائے شماری کرائی گئی تھی۔

اس رائے شماری کو تقریباً 200 برس بیت گئے ہیں اور دنیا بھر میں سماجی اور سیاسی معاملات پر آئے روز عوام کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔

البتہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں ٹوئٹر صارفین سنجیدگی سے یہ جاننے میں مصروف عمل ہیں کہ آیا کھانے پینے کی شوقین عوام کثرت سے کیا نمکین لسی کو پسند کرتی ہے یا میٹھی لسی کو؟

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا اگر جائزہ لیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ روایتی اور قدیم مشروب لوگوں کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔

موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں دودھ، دہی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ لسی بھی ایک ایسا مشروب ہے جو گرمی کو بھگاتے ہوئے پیاس بھجاتی ہے۔

روایتی طور پر گرمی کی شدت کے بڑھتے ساتھ ہی شہر کے تقریباً ہر چوراہے پر مختلف مشروبات کے ٹھیلے لگ جاتے تھے۔

تاہم اس مرتبہ لاک ڈاؤن کے باعث لوگ گھروں میں لسی تیار کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے پسندیدہ مشروب کا بھرپور دفاع کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لسی تو لسی ہوتی ہے، میٹھی ہو یا نمکین

لسی بھی ذوق کے اعتبار سے مختلف طور طریقوں سے پی جاتی ہے۔ لوگ جہاں دہی اور دودھ سے ’ادھ رڑکا‘ پسند کرتے ہیں وہیں کسی کی مانگ کھوئے اور مکھن کے پیڑوں والی لسی ہے، مگر ان سے مقابلہ کرنے والے وہ لوگ بھی موجود ہیں جو یہ موقف رکھتے ہیں کہ لسی تو درحقیقت چاٹی والی ہی ہوتی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین جہاں میٹھی لسی پینے والے صارفین کو دوستی ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہیں محمد شہزاد نامی ایک صارف نے تو یہ تک لکھ دیا کہ نمکین لسی پیش کیے جانے پر انھوں نے اپنے ایک رشتہ دار کے گھر آنا جانا بند کر دیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

میٹھی اور نمکین لسی کی اس بحث میں دلچسپ قسم کی منطق دیکھنے کو ملی۔ نمکین لسی کا دفاع کرنے والے صارفین یہ کہتے دکھائی دیے کہ خالص اور قدیم ترین تو نمکین لسی ہی ہے۔

ایک صارف نے تو یہ تک دعویٰ کر ڈالا کہ ’میٹھی لسی کو تو شربت کہا جاتا ہے۔‘

لسی

'میں نمکین لسی پینے والوں پر اعتبار نہیں کرسکتی'

لسی یوں تو سارا سال ہی پی جاتی ہے مگر ماہ رمضان کی مناسبت سے اس کا استعمال زیادہ ہو جاتا ہے۔ لسی سحری میں ہی نہیں افطاری میں بھی پسند کی جاتی ہے اور اب تو مختلف ذائقوں کی لسی بھی خاص پسند کی جارہی ہے۔

ایک طرف جہاں صارفین مینگو لسی اور مختلف فلیورز کی لسی کے حق میں ٹویٹس کرتے دکھائی دیے وہیں چند صارفین نے بے باک انداز میں ’دہی کا جوس‘ پینے کے فائدے بیان کیے۔

لسی میں ان منفرد فلیورز کو ’ملاوٹ‘ تصور کرنے والے صارفین میٹھی اور نمکین لسی کی بحث میں ہی الجھے رہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

جذبات سے گھرے صارفین نے اس دلچسب بحث میں مذاح کا ہاتھ نہ چھوڑا۔ ٹیم نمکین کے خلاف ایک جارہانہ ٹویٹ میں ایک صارف نے لکھا کہ ’میں نمکین لسی پینے والوں پر اعتبار نہیں کرسکتی‘

ٹوئٹر پر ہونے والی رائے شماری کے متعدد نتائج کے مطابق میٹھی لسی کو یقیناً نمکین پر سبقت رہی مگر سیدہ معصومہ نامی صارف نے لکھا کہ ’اصولی بنیادوں پر ہم جیت گئے کیونکہ نمکیں لسی ہی اصلی لسی ہے، اب انتخابات ہارنے کا کوئی غم نہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

فیقے کی 'میٹھی لسی' زیادہ فروخت ہوتی ہے

پنجاب کے شہر لاہور کی معروف ’فیقے کی لسی‘ پر رش لگا رہنا ایک عام بات ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دن کا کونسا وقت ہے، کیا دن ہے، آپ کو ہمیشہ قطار میں اپنی باری کے لیے انتظار کرنا ہو گا۔

لاک ڈاؤن کے باعث لوگ اب اس لسی کا لطف اسے یاد کر کے ہی اٹھا رہے ہیں۔ سنہ 1947 میں قائم کردہ اس دکان کی بنیاد رفیق بٹ نے رکھی تھی جنھیں 'فیقے' کے نام سے جانا جاتا تھا۔

لسی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دکان کے مالک طلحہ بٹ کا کہنا تھا کہ ہر شخص کا ذوق مختلف ہوتا ہے اور وہ لسی اپنے حساب سے پیتا ہے۔ میٹھی اور نمکین لسی کی بحث میں پڑے بغیر طلحہ بٹ کا کہنا تھا کہ ’ہماری دکان پر میٹھی لسی زیادہ فروخت ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق پشاور کے علاوہ عمومی طور پر پنجاب کے مختلف شہروں اور کراچی میں بھی لوگ میٹھی لسی کو ترجیح دیتے ہیں۔

طلحہ بٹ کے مطابق فلیورڈ لسی کی اختراع کو یقیناً شہروں میں پسند کیا جاتا ہے مگر ان کی رائے میں دیہاتوں میں اور عمومی طور پر اکثریت ان ہی لوگوں کی ہے جو خالص دہی اور دودھ سے بنی لسی کو پسند کرتے ہیں۔

'لسی تے چا'

سوشل میڈیا پر ایک جانب جہاں لسی کی مختلف اقسام پر گرما گرم بحث جاری ہے وہیں بہت سے ایسے صارفین بھی ہیں جنھوں نے دیگر دوسرے مشروبات کو لسی سے بہتر اور ذائقے دار قرار دیا۔

حرا نامی ایک صارف نے ہومر سمپسن نامی ایک کارٹون کردار کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ایک ایسے وقت پر جب سب میٹھی اور نمکین لسی پر لڑ رہے ہیں میں سکون سے اپنی کولڈ ڈرنک پی رہی ہوں۔

ٹوئٹر پر صارفین کو جذباتی ہوتا دیکھ کر منال نامی ایک صارف نے لکھا کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ لوگ لسی کے موضوع پر اتنا برہم کیوں ہو گئے۔انھوں نے صارفین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی بھی تلقین کر ڈالی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

پاکستان کے مایہ ناز شاعر پروفیسر انور مسعود اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں اور انھوں نے اپنی نظموں اور قطعات کے ذریعے بے شمار مداحوں کو گرویدپ کیا ہے۔

لسی پر بات ہو رہی ہوں اور انور مسعود کی نظم ’لسی تے چا‘ کا ذکر صارفین نہ کریں یہ ممکن نہیں۔

پروفیسر انور مسعود کی نظم سے لطف اندوز ہونے والے یہ جانتے ہیں کہ انھوں نے میٹھی اور نمکین لسی کا نہیں بلکہ لسی اور چائے کے بیچ ہونے والے دنگل کو اپنی پنجابی نظم میں کچھ یوں بیان کیا۔

جیہڑا مینوں رِڑکن بیٹھے اُس دے واری جاواں

کھڑکے ڈھول مدھانی والا میں وچ بھنگڑے پاواں

میں لوکاں دی صحت بناواں تُوں پئی صحت وگاڑیں

میں پئی ٹھنڈ کلیجے پانواں توں پئی سینے ساڑیں