#AliSethi: سوشل میڈیا پر علی سیٹھی اور طاہر شاہ میں موازنہ

وقت اشاعت

لوک اور کلاسیقی موسیقی خصوصاً صوفی کلام کو نئے انداز میں گانے کے لیے شہرت رکھنے والے پاکستانی گلوکار علی سیٹھی گذشتہ روز سوشل میڈیا ٹرینڈز میں نمایاں رہے۔

#AliSethi کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ہزاروں ٹویٹس کی گئیں جن میں صارفین کہیں ان کی گائیکی کے منفرد انداز کو سراہ رہے تھے، اور کہیں ان پر پرانے گانوں کے کوور بنا کر شہرت حاصل کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا تھا، تو کہیں علی سیٹھی کے خاندانی اثر و رسوخ کو ان کی مقبولیت میں سہولت قرار دیا گیا۔

اس ساری بحث پر ’نیروبی‘ کے نام سے ایک ٹوئٹر صارف نے تصویر پوسٹ کی جو کہ علی سیٹھی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی بحث کی صحیح انداز میں عکاسی کرتی ہے۔

صارف لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے غلطی سے علی سیٹھی ہیش ٹیگ پر کلک کیا تو منظر کچھ یوں تھا کہ سب ایک دوسرے پر نشانہ تانے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

علی سیٹھی اور ان کی موسیقی پر شروع ہونے والی یہ بحث صرف موسیقی سے تعلق رکھنے والے دیگر ناموں تک ہی نہیں بلکہ اس میں ملکی سیاست کا تذکرہ بھی شامل رہا۔

یہ بھی پڑھیے

علی سیٹھی بھی دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات خصوصاً لاک ڈاؤن کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے ان گلوکاروں اور فنکاروں میں شامل ہیں جو انسٹا گرام پر لائیو پرفارم کرتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب اپنے گانوں 'آئی ٹو آئی' اور 'اینجل' اور منفرد انداز کی وجہ سے مشہور پاکستانی گلوکار طاہر شاہ نے حال ہی میں اپنا نیا گانا ’فرشتے‘ ریلیز کیا ہے۔ اس پر نادیہ نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ 'کم از کم طاہر شاہ اپنے گانے لے کر آتے ہیں۔ کیا ہم یہی بات علی سیٹھی کے بارے میں کہہ سکتے ہیں؟'

اس پر علی سیٹھی نے جواب دیتے ہوئے خاتون پر سخت الفاظ میں تنقید کی اور لکھا کہ وہ گذشتہ سال اپنے تخلیق کردہ چھ گانے ریلیز کرچکے ہیں۔

گلوکار کی جانب سے اس دعوے کے بعد ان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے الفاظ پر ٹوئٹر صارفین نے تنقید کی۔

ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ وہاب چٹھہ نامی ایک اور صارف نے علی سیٹھی سے اُن چھ گانوں کے بارے میں پوچھا جو انھوں نے گذشتہ سال ریلیز کیے ہیں۔ اس کے جواب میں گلوکار نے بظاہر صارف کی ٹوئٹر پروفائل پر لگی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'دوبارہ سیلفی نہ لینا۔'

علی سیٹھی کے اس جواب کے بعد انھیں ٹوئٹر صارفین کی جانب سے مزید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ سوال پوچھنے پر ایسے نقص نکالنا صحیح عمل نہیں تو کسی نے لکھا: 'علی سیٹھی بھی ہمارے آس پاس موجود انھی سلیبرٹیز کی طرح ہیں جو صرف تعریف سُننا چاہتے ہیں، تنقید برداشت نہیں کرتے اور شہرت کا مزہ بھی لینا چاہتے ہیں۔ ان سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جہاں شہرت کے ساتھ پیار ملتا ہے وہیں نفرت بھی ملے گی۔ برداشت کرنا سیکھیں۔'

اس ساری بحث میں علی سیٹھی کے مداح بھی پیچھے نہیں رہے، کسی نے علی سیٹھی کے تخلیق کردہ گانے تھریڈ میں شیئر کیے تو کسی نے ان کی موسیقی پر ہونے والی تنقید کے مبینہ چُھپے ہوئے پہلو سامنے لانے کی کوشش کی۔

صہیب فرخ نامی ایک ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں کہ تنقید کرنے والوں کی علی سیٹھی سے نفرت کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پسندیدہ سیاستدان ماضی میں ان کے والد پر جھوٹے الزامات لگا کر شرمندگی اُٹھا چکے ہیں اور اب جہانگیر خان ترین کے اعتراف کے بعد ان میں بڑے سیٹھی کا سامنا کا کرنے کی ہمت نہیں تو یہ یہاں چھوٹے پر تنقید کر کے اپنی انا کی تسکین کر رہے ہیں۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر نے بھی علی سیٹھی کی گائیکی پر ہونے والی تنقید میں ان کا دفاع کرتے ہوئے پچپن کی ایک یاد شیئر کی کہ علی سیٹھی نے ان کی پانچویں سالگرہ پر پیانو بجا کر فیض کا کلام گایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ علی سیٹھی محنت کرنے والے اور قدرتی طور پر وہ صلاحیتیں رکھتے ہیں جن کا مراعات یافتہ طبقے سے ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

علی سیٹھی کا دفاع کرنے پر شہباز تاثیر کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور صارفین نے کہا کہ کیونکہ وہ خود مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا اسی وجہ سے وہ گلوکار کا دفاع کرنے آئے ہیں۔ فرضاً کے نام سے ایک ٹوٹئر صارف نے لکھا کہ پُرانے گانوں کے نئے انداز میں کوور بنانا کیوں غلط ہے جب کہ علی سیٹھی کے گائے ہوئے کلام اور غزلیں ماضی میں بڑے قوال اور غزال گا چکے ہیں۔